Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

فوری اقدامات نہ کئے تو لاکھوں افغان شہری بھوک سے مرجائیں گے، اقوام متحدہ

کابل : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کو تباہی کے دہانے سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں سمیت لاکھوں افغان شہری بھوک سے مر سکتے ہیں جبکہ 2کروڑ افراد کے فوری متاثر ہونے کا خدشہ ہے،23ملین افغان اس موسم سرما میں غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے، جنہیں جزوی طور پر کھلانے کے لیے تقریباً 220ملین ڈالرز کی ہر ماہ ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے نے افغانستان کو انسانی بحران سے نکالنے کے لیے منجمد فنڈز کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے بتایا کہ افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے،ان کے مطابق بچے مر جائیں گے، لوگ فاقوں سے مر جائیں گے، صورتحال مزید خراب ہونے جا رہی ہے،افغانستان پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اگست میں افغانستان بحران میں چلا گیا تھا اور غیرملکی امداد کا سلسلہ بھی بند ہو گیا تھا۔ڈیوڈ بیسلے نے کہا کہ ’ہم جس چیز کی پیش گوئی کر رہے تھے وہ ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے سچ ثابت ہو رہی ہے، کابل کا سقوط بھی توقع کے برخلاف ہوا اور معیشت اس سے زیادہ تیزی سے گر رہی ہے،آپ کو فنڈز کو بحال کرنا پڑے گا تاکہ لوگ زندہ رہ سکیں۔اقوام متحدہ کے خوارک کے ادارے کو 23ملین افغانوں کو جزوی طور پر کھلانے کے لیے تقریباً 220 ملین ڈالرز کی ہر مہینے ضرورت ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular