ظالمانہ پابندیاں ختم کردی جائیں تو ہر قسم کی مفاہمت کا امکان پایا جاتا ہے، ایرانی صدر

  Click to listen highlighted text! تہران : ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ اگر معاہدے کے فریق ممالک ظالمانہ پابندیاں ہٹانے پر تیار ہو جائیں تو ہر قسم کی مفاہمت کا امکان پایا جاتا ہے۔ ایک انٹرویو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ دیگر ممالک کا سفر اور وہاں کے حکام سے ملاقات کا نتیجہ ملکی مفادات اور کثیر جہتی تعاون کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے اور بغیر کوئی نتیجہ حاصل کئے صرف مسکرا دینے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔ ویانا میں جاری مذاکرات میں اگر مقابل فریق ایرانی عوام کے خلاف عائد ظالمانہ پابندیوں کو ہٹانے پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر مفاہمت کے لئے زمین ہموار ہے۔ براہ راست مذاکرات کے لئے امریکی درخواست سے متعلق سوال کے جواب میں ابراہیم رئیسی کہا کہ اس قسم کی درخواست مدتوں سے کی جا رہی ہے۔ لیکن اب تک امریکیوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ ان کی حکومت کی پالیسی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کا فروغ ہے اور جو بھی ملک ہمارے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے، ہم اُس کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن اگر کچھ ممالک ایران کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر فطری طور پر ہم بھی ان کے مقابلے میں مزاحمت و استقامت کا مظاہرہ کریں گے۔

تہران : ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ اگر معاہدے کے فریق ممالک ظالمانہ پابندیاں ہٹانے پر تیار ہو جائیں تو ہر قسم کی مفاہمت کا امکان پایا جاتا ہے۔ ایک انٹرویو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ دیگر ممالک کا سفر اور وہاں کے حکام سے ملاقات کا نتیجہ ملکی مفادات اور کثیر جہتی تعاون کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے اور بغیر کوئی نتیجہ حاصل کئے صرف مسکرا دینے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔ ویانا میں جاری مذاکرات میں اگر مقابل فریق ایرانی عوام کے خلاف عائد ظالمانہ پابندیوں کو ہٹانے پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر مفاہمت کے لئے زمین ہموار ہے۔ براہ راست مذاکرات کے لئے امریکی درخواست سے متعلق سوال کے جواب میں ابراہیم رئیسی کہا کہ اس قسم کی درخواست مدتوں سے کی جا رہی ہے۔ لیکن اب تک امریکیوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ ان کی حکومت کی پالیسی دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعاون کا فروغ ہے اور جو بھی ملک ہمارے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے، ہم اُس کے ساتھ تعاون کریں گے لیکن اگر کچھ ممالک ایران کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر فطری طور پر ہم بھی ان کے مقابلے میں مزاحمت و استقامت کا مظاہرہ کریں گے۔