
ترتیب و تدوین: ایل اے انجم
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے اہم پہلوؤں کو دیکھا جائے تو سب سے اہم چیز اسرائیل کی سخت سنسر شپ کی پالیسی ہے، جس کے ذریعے صیہونی حکومت حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کو چھپانے کی از حد کوشش کرتی یے۔ اسرائیل اس وقت دو سرحدوں پر حالت جنگ میں ہے، ایک غزہ اور دوسری شمالی سرحد، جہاں حزب اللہ صیہونی فوج کو دن میں تارے دکھا رہی ہے۔ شمالی سرحد پر حزب اللہ کے حملوں میں سینکڑوں صیہونی اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ اسرائیلی معیشت کی تباہی بھی ہے، جسے چھپانے کی کوششوں کے باوجود عالمی میڈیا اور خود صیہونی ذرائع ابلاغ سامنے لا رہا ہے۔ صیہونی ریاست کے شمالی علاقوں میں کارخانوں کے بند ہونے سے لے کر کھیتوں کے ویران ہونے اور صنعت کے مفلوج ہونے تک، یہ وہ جھٹکا ہے، جو حزب اللہ نے اسرائیل کو دیا یے۔
لبنان کی اسلامی مزاحمت جو فلسطین کے مظلوم عوام سے یکجہتی کیلئے طوفان الاقصیٰ کے اگلے دن ہی سے اس جنگ میں کود پڑی ہے، اس دوران اس نے اسرائیل پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے، جس کے بارے میں اب صیہونی میڈیا بھی چیخ اٹھا یے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حزب اللہ کے حملوں کی وجہ سے شمالی سرحد پر 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد اسرائیلی آباد کار بے گھر ہوچکے ہیں۔ صیہونی میڈیا نے شمالی بستیوں میں پھیلے خوف و ہراس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شمالی بستیاں ویران ہوچکی ہیں اور یہ بھوت شہر بن چکا ہے۔ انخلاء کے ساتھ ہی اسرائیلی معیشت کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے ماہر معاشیات تومر پیڈلون نے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ شمالی خطے میں حزب اللہ کے ساتھ تنازعہ طویل مدت کیلئے اسرائیلی معیشت کو بری طرح متاثر کریگا اور جس کا اثر بہت مہلک ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق شمالی علاقے صیہونیوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے اہم مراکز ہیں، اسرائیلی وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی علاقہ اسرائیلی خوراک کے ایک بڑے حصے کی پیداوار کا مرکز ہے، یہاں 40 فیصد پھل پیدا ہوتے ہیں، لیکن اب جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یہ علاقہ ویران ہے۔ اقتصادی اخبار گلوبز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں زرعی پیداوار کا نصف حصہ لبنان کی سرحد سے 5 کلومیٹر دور شمالی علاقوں کے کھیتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے صیہونی معیشت کو ہونے والے نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے حملوں کے خوف نے اسرائیلیوں کو بے پناہ مالی نقصان پہنچا ہے اور یہ کہ شمالی علاقوں میں کسان اور باغبان اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔ اس علاقے میں زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 131 ملین ڈالر ہے۔
اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ شمالی علاقے میں کسان اپنے باغات کے قریب بھی نہیں جا سکتے، جس سے اس علاقے میں زرعی شعبے کا نقصان دگنا ہو جاتا یے، کیونکہ جہاں سے سیب اور دیگر پھل نہیں لائے جا سکتے، اس کا اثر آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔ اسرائیلی کسان یونین کے سربراہ نے کہا کہ نقصان کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ ہم کسی ایسے علاقے میں نہیں جا سکتے، جہاں حزب اللہ کے حملے کا خطرہ ہو۔ موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ لبنان کی سرحد سے دو کلومیٹر تک جانا ناممکن ہے اور ان علاقوں میں جو پھل ہیں، وہ ابھی تک درختوں پر پڑے ہیں اور سڑ رہے ہیں۔ دریں اثناء صیہونی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ شمالی علاقے میں موجود پھلوں کی فیکٹری نے اپنی پیداوار بند کرتے ہوئے نصف ملازمین کو نکال دیا ہے۔ یہ صرف زرعی شعبے میں ہونے والے نقصانات کے چند اعداد و شمار ہیں، دیگر شعبوں میں ہونے والی تباہی کی تفصیلات جلد سامنے آجائیں گی۔


































