دفاع مقدس نے ثابت کیا، وطن کا تحفظ مزاحمت سے ہی ممکن ہے، ولی امر المسلمین

تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ سابق عراقی حکومت کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کے خلاف مقدس دفاع نے ثابت کردیا کہ وطن کی حفاظت اور دفاع صرف مزاحمت کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، ہتھیار ڈالنے سے نہیں۔
ایران پر مسلط 8 سالہ جنگ میں ایران کے مقابل عالمی سامراج تھا جو صدام کی ہر طرح سے مدد کررہا تھا۔ ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے کمانڈروں اور جانبازوں سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ مزاحمت نے لوگوں کے حوصلے اور خود اعتمادی کو بلند کیا اور ساتھ ہی دشمن کو اپنے حساب کتاب پر نظر ثانی کرنے اور ایرانی قوم کی طاقت اور مزاحمت کے ادراک کا درس دیا۔
ایران پر مسلط کی گئی جنگ اچانک حملہ نہیں تھا بلکہ صدام کی پشت پر عالمی سامراج تھا۔ ایران کے انقلابی اور اسلامی نظام پر سامراجی حکومتوں کا حملہ غیر فطری نہیں تھا کیونکہ یہ حکومتیں ایران کے اسلامی انقلاب سے سخت چراغ پا تھیں۔ سامراجی طاقتیں سمجھ رہی تھیں کہ یہ انقلاب صرف سامراجی طاقتوں کی ایک وقتی سیاسی شکست نہیں ہے بلکہ اسلامی انقلاب تسلط پسندانہ نظام کے لئے ایک بڑا خطرہ تھا۔ ولی امر مسلمین نے کہا کہ امریکی حکام کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ ایرانی عوام امریکا جیسی بڑی طاقت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں اسی لئے امریکا نے انتقام لینے کی ٹھان لی اور اس نے طبس کے ناکام ہوائی حملے کے ذریعے بغاوت کرانے اور ایران کے اندر اقوام کو اکسانے جیسے اقدامات کئے لیکن جب اس کو کوئی نتیجہ نہیں ملا تو اس نے صدام کے ذریعے جنگ مسلط کرادی لیکن ایران کے عوام نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سبھی منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور آج سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی عوام پوری قوت کے ساتھ ڈٹےہوئے ہیں۔ آج ایران دفاعی میدان میں اس قدر توانا ہوگیا ہے کہ دشمن بھی جانتا ہے کہ ایران کو آنکھیں نہیں دکھائی جاسکتیں۔

  Click to listen highlighted text! تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ سابق عراقی حکومت کی ایران کے خلاف آٹھ سالہ جنگ کے خلاف مقدس دفاع نے ثابت کردیا کہ وطن کی حفاظت اور دفاع صرف مزاحمت کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، ہتھیار ڈالنے سے نہیں۔ ایران پر مسلط 8 سالہ جنگ میں ایران کے مقابل عالمی سامراج تھا جو صدام کی ہر طرح سے مدد کررہا تھا۔ ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے کمانڈروں اور جانبازوں سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ مزاحمت نے لوگوں کے حوصلے اور خود اعتمادی کو بلند کیا اور ساتھ ہی دشمن کو اپنے حساب کتاب پر نظر ثانی کرنے اور ایرانی قوم کی طاقت اور مزاحمت کے ادراک کا درس دیا۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ اچانک حملہ نہیں تھا بلکہ صدام کی پشت پر عالمی سامراج تھا۔ ایران کے انقلابی اور اسلامی نظام پر سامراجی حکومتوں کا حملہ غیر فطری نہیں تھا کیونکہ یہ حکومتیں ایران کے اسلامی انقلاب سے سخت چراغ پا تھیں۔ سامراجی طاقتیں سمجھ رہی تھیں کہ یہ انقلاب صرف سامراجی طاقتوں کی ایک وقتی سیاسی شکست نہیں ہے بلکہ اسلامی انقلاب تسلط پسندانہ نظام کے لئے ایک بڑا خطرہ تھا۔ ولی امر مسلمین نے کہا کہ امریکی حکام کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ ایرانی عوام امریکا جیسی بڑی طاقت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں اسی لئے امریکا نے انتقام لینے کی ٹھان لی اور اس نے طبس کے ناکام ہوائی حملے کے ذریعے بغاوت کرانے اور ایران کے اندر اقوام کو اکسانے جیسے اقدامات کئے لیکن جب اس کو کوئی نتیجہ نہیں ملا تو اس نے صدام کے ذریعے جنگ مسلط کرادی لیکن ایران کے عوام نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سبھی منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور آج سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایرانی عوام پوری قوت کے ساتھ ڈٹےہوئے ہیں۔ آج ایران دفاعی میدان میں اس قدر توانا ہوگیا ہے کہ دشمن بھی جانتا ہے کہ ایران کو آنکھیں نہیں دکھائی جاسکتیں۔