حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

  Click to listen highlighted text! خدا کی قدرت امام صادقؑ کے زمانے میں ایک شخص تھا جس کا نام ہشام تھا۔ وہ اپنے زمانے کا ایک مشہور خطیب تھااور ہر مسئلہ کی اچھی طرح وضاحت کیا کرتا تھا ۔ سب لوگ جانتے تھے کہ ہشام امام جعفر صادقؑ کا سچا پیروکار اور آپؑ کا شیعہ ہے۔ اس زمانے میں ایک اور شخص تھا جس کا نام عبداللہ دیصانی تھا۔ یہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا تھا۔ ایک دن عبداللہ دیصانی نے ہشام کو راستہ میں دیکھ لیا۔ ہشام کو یہ شخص بالکل پسند نہیں تھا، اس لئے ہشام نے کوشش کی کہ اس سے کوئی بات کئے بغیر کترا کر وہاں سے گزر جائے۔ لیکن عبداللہ دیصانی نے سوچا کہ ان کو کچھ تنگ کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے ہشام کو آواز دی۔ ہشام اس کی آواز سن کر رک گئے تو عبداللہ ان کے نزدیک گئے ۔ اس کے چہرے پر مضحکہ خیز مسکراہٹ تھی، جیسے وہ ان کا مذاق اڑا رہا ہو۔ اس نے ہشام سے کہا: ”تم بہت بڑے خطیب ہو۔ سمجھ دار انسان ہو۔ میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور دیکھوں گا کہ تم اس کا جواب دے سکتے ہو یا نہیں؟ اس سوال سے تمہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ کوئی خدا بھی نہیں ہے۔“ ہشام اس کی یہ بات سن کر ناراض ہوئے لیکن کچھ بولے نہیں۔ عبداللہ نے سوال پوچھا: ” اے ہشام! کیا تم خدا پر ایمان رکھتے ہو؟“ ہشام نے کہا: ”ہاں!“ ”کیا تمہار اخدا قادر مطلق ہے؟“ ”ہاں خدائے واحد قادر مطلق ہے ۔“ ہشام نے جواب دیا۔ ”کیا یہ عالم اور قادر خدا اس پوری دنیا کو ایک انڈے میں اس طرح سے قید کر سکتا ہے کہ نہ انڈا بڑا ہو اور نہ دنیا چھوٹی ہو؟“ عبداللہ دیصانی نے سوال کیا۔ ہشام نے تھوڑی سوچا لیکن ان کی سمجھ میں اس کا جواب نہیں آیا تو انہوں نے عبداللہ دیصانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:” مجھے کچھ دنوں کی مہلت دو تاکہ میں تمہارے سوال کا جواب معلوم کروں۔“ عبداللہ دیصانی نے مسکرا کر کہا:”میں تمہیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ایک سال کی مہلت دیتا ہوں ۔ لیکن یاد رہے تمہیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل سکے گا۔“ اس کے بعد دونوں اپنے اپنے راستے پر چل دیئے۔ ہشام نے اس سوال کا جواب سوچنا شروع کیا لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کافی دیر تک سوچنے کے بعد بھی جب کوئی فائدہ نہ ہوا تو انہوں نے سوچا کہ اب مجھے امام صادقؑ کے پاس جانا چاہیے اور ان سے اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہیے۔ یہ خیال دل میں آتے ہی وہ اپنے گھر سے نکلے اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے فوراً امام صادق ؑ کے گھر پہنچے۔ گھوڑے کو دروازے سے باہر باندھ کر انہوں نے دروازے پردستک دی۔ کچھ ہی دیر میں دروازہ کھل گیا اور وہ اندر داخل ہوگئے۔ ہشام، امام صادقؑ کے سامنے جاکر بیٹھے تو آپؑ نے دیکھا کہ وہ بہت پریشان اور مضطرب ہیں ۔ امام ؑ نے مسکرا کر ان سے پوچھا: ” کیا کوئی مشکل پیش آگئی ہے۔“ ہشام نے امام ؑ کو سارا ماجرا سنایا اور سوال کا جواب طلب کیا۔ امام ؑ نے عبداللہ دیصانی کا جواب اس کی عقل کے مطابق دیا اور فرمایا: ” اے ہشام تمہارے پاس کتنی حسیں ہیں؟“ ”پانچ ۔“ ہشام نے جواب دیا۔ امام ؑ نے پوچھا:” کون سی حس سب سے چھوٹی ہے؟“ کہنے لگے:”دیکھنے کی حس۔“ ”آنکھ کی کس چیز سے تم دیکھتے ہو؟“ امام ؑ نے ایک بار پھر سوال کیا۔ ”آنکھ کی پتلی سے جو بالکل بیچ میں ہوتی ہے۔“ ہشام نے جواب دیا۔ ”یہ پتلی کتنی بڑی ہوتی ہے؟“ ”مسور کے دانے کے برابر ! “ ہشام کا جواب تھا۔ ”اب ذرا اپنے اردگرد نگاہ دوڑاﺅ، زمین و آسمان کو دیکھو، پہاڑوں اور دریاﺅں کو دیکھو، گھروں اور گلیوں میں دیکھو کہ کیا نظر آرہا ہے؟“ امام ؑ نے ایک بار پھر مسکرا کر سوال کیا۔ ہشام نے کہا:”زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے سب مجھے نظر آرہا ہے۔“ ”چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو ایک مسور کے دانے کے برابر جگہ میں قید کردیا اور وہ بھی اس طرح سے کہ نہ دنیا چھوٹی ہوئی ہے اور نہ آنکھ بڑی اور پھر مسور کا دانہ تو انڈے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔“ امام ؑ نے تفصیل سے جواب دیا ۔ ہشام نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ انہیں عبداللہ دیصانی کی عقل کے مطابق سوال کا جواب مل گیا تھا۔ انہوں نے امام ؑ کا شکریہ ادا کیا اور فوراً عبداللہ دیصانی کو جواب دینے کے لئے روانہ ہوگئے۔

خدا کی قدرت
امام صادقؑ کے زمانے میں ایک شخص تھا جس کا نام ہشام تھا۔ وہ اپنے زمانے کا ایک مشہور خطیب تھااور ہر مسئلہ کی اچھی طرح وضاحت کیا کرتا تھا ۔ سب لوگ جانتے تھے کہ ہشام امام جعفر صادقؑ کا سچا پیروکار اور آپؑ کا شیعہ ہے۔
اس زمانے میں ایک اور شخص تھا جس کا نام عبداللہ دیصانی تھا۔ یہ خدا اور رسول کو نہیں مانتا تھا۔ ایک دن عبداللہ دیصانی نے ہشام کو راستہ میں دیکھ لیا۔ ہشام کو یہ شخص بالکل پسند نہیں تھا، اس لئے ہشام نے کوشش کی کہ اس سے کوئی بات کئے بغیر کترا کر وہاں سے گزر جائے۔ لیکن عبداللہ دیصانی نے سوچا کہ ان کو کچھ تنگ کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے ہشام کو آواز دی۔ ہشام اس کی آواز سن کر رک گئے تو عبداللہ ان کے نزدیک گئے ۔ اس کے چہرے پر مضحکہ خیز مسکراہٹ تھی، جیسے وہ ان کا مذاق اڑا رہا ہو۔
اس نے ہشام سے کہا:
”تم بہت بڑے خطیب ہو۔ سمجھ دار انسان ہو۔ میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور دیکھوں گا کہ تم اس کا جواب دے سکتے ہو یا نہیں؟ اس سوال سے تمہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ کوئی خدا بھی نہیں ہے۔“
ہشام اس کی یہ بات سن کر ناراض ہوئے لیکن کچھ بولے نہیں۔ عبداللہ نے سوال پوچھا: ” اے ہشام! کیا تم خدا پر ایمان رکھتے ہو؟“
ہشام نے کہا: ”ہاں!“
”کیا تمہار اخدا قادر مطلق ہے؟“
”ہاں خدائے واحد قادر مطلق ہے ۔“ ہشام نے جواب دیا۔
”کیا یہ عالم اور قادر خدا اس پوری دنیا کو ایک انڈے میں اس طرح سے قید کر سکتا ہے کہ نہ انڈا بڑا ہو اور نہ دنیا چھوٹی ہو؟“ عبداللہ دیصانی نے سوال کیا۔
ہشام نے تھوڑی سوچا لیکن ان کی سمجھ میں اس کا جواب نہیں آیا تو انہوں نے عبداللہ دیصانی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:” مجھے کچھ دنوں کی مہلت دو تاکہ میں تمہارے سوال کا جواب معلوم کروں۔“
عبداللہ دیصانی نے مسکرا کر کہا:”میں تمہیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ایک سال کی مہلت دیتا ہوں ۔ لیکن یاد رہے تمہیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل سکے گا۔“
اس کے بعد دونوں اپنے اپنے راستے پر چل دیئے۔ ہشام نے اس سوال کا جواب سوچنا شروع کیا لیکن ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کافی دیر تک سوچنے کے بعد بھی جب کوئی فائدہ نہ ہوا تو انہوں نے سوچا کہ اب مجھے امام صادقؑ کے پاس جانا چاہیے اور ان سے اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہیے۔
یہ خیال دل میں آتے ہی وہ اپنے گھر سے نکلے اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے فوراً امام صادق ؑ کے گھر پہنچے۔ گھوڑے کو دروازے سے باہر باندھ کر انہوں نے دروازے پردستک دی۔ کچھ ہی دیر میں دروازہ کھل گیا اور وہ اندر داخل ہوگئے۔ ہشام، امام صادقؑ کے سامنے جاکر بیٹھے تو آپؑ نے دیکھا کہ وہ بہت پریشان اور مضطرب ہیں ۔ امام ؑ نے مسکرا کر ان سے پوچھا: ” کیا کوئی مشکل پیش آگئی ہے۔“
ہشام نے امام ؑ کو سارا ماجرا سنایا اور سوال کا جواب طلب کیا۔ امام ؑ نے عبداللہ دیصانی کا جواب اس کی عقل کے مطابق دیا اور فرمایا:
” اے ہشام تمہارے پاس کتنی حسیں ہیں؟“
”پانچ ۔“ ہشام نے جواب دیا۔
امام ؑ نے پوچھا:” کون سی حس سب سے چھوٹی ہے؟“
کہنے لگے:”دیکھنے کی حس۔“
”آنکھ کی کس چیز سے تم دیکھتے ہو؟“ امام ؑ نے ایک بار پھر سوال کیا۔
”آنکھ کی پتلی سے جو بالکل بیچ میں ہوتی ہے۔“ ہشام نے جواب دیا۔
”یہ پتلی کتنی بڑی ہوتی ہے؟“
”مسور کے دانے کے برابر ! “ ہشام کا جواب تھا۔
”اب ذرا اپنے اردگرد نگاہ دوڑاﺅ، زمین و آسمان کو دیکھو، پہاڑوں اور دریاﺅں کو دیکھو، گھروں اور گلیوں میں دیکھو کہ کیا نظر آرہا ہے؟“ امام ؑ نے ایک بار پھر مسکرا کر سوال کیا۔
ہشام نے کہا:”زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے سب مجھے نظر آرہا ہے۔“
”چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کو ایک مسور کے دانے کے برابر جگہ میں قید کردیا اور وہ بھی اس طرح سے کہ نہ دنیا چھوٹی ہوئی ہے اور نہ آنکھ بڑی اور پھر مسور کا دانہ تو انڈے سے بھی چھوٹا ہوتا ہے۔“ امام ؑ نے تفصیل سے جواب دیا ۔
ہشام نے یہ سنا تو بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ انہیں عبداللہ دیصانی کی عقل کے مطابق سوال کا جواب مل گیا تھا۔ انہوں نے امام ؑ کا شکریہ ادا کیا اور فوراً عبداللہ دیصانی کو جواب دینے کے لئے روانہ ہوگئے۔