حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نمونہ عمل

  Click to listen highlighted text! حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی: حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی بہت مختصر لیکن عظیم اخلاقی اور معنوی درس کی حامل تھی۔ یہ عظیم خاتون اسلام کے ابتدائی دور میں رسول اکرم(ص) اورحضرت علی ؑ کے ساتھ رہیں۔آپ(س) نے حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ جیسے صالح فرزندوں کی تربیت کی کہ جو رسول اکرم ص کے قول کے مطابق جوانان جنت کے سردار ہیں۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کی عظیم شخصیت کے بارے میں دنیا کے بہت سے دانشوروں نے اظہار خیال کیا ہے اور آپ کو ایک مسلمان عورت کا جامع اور مکمل نمونہ قراردیا ہے۔ وہ پر آشوب دور جس میں ظلم و تشدد کا دور دورہ تھا جس میں انسانیت کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا جس زمانہ کے ضمیر فروش بے حیا انسان کے لبادہ میں حیوان صفت افراد انسان کو زندہ در گور کر کے فخر و مباہات کیا کرتے تھے جو عورت ذات کو ننگ و عار سمجھتے تھے یہ وہ تشدد آمیز ماحول تھا جس میں ہر سمت ظلم و ستم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اسی تاریکی کو سحر بخشنے کے لئے افق رسالت پر خورشید عصمت طلوع ہوا جس کی کرنوں نے نگاہ عالم کو خیرہ کر دیا اسی منجلاب میں ایک گلاب کھلا جس کی خوشبو نے مشام عالم کو معطر کر دیا ایسے ماحول میں دختر رحمتہ العالمین نے تشریف لا کر اس جاہل معاشرہ کو یہ سمجھا دیا کہ ایک لڑکی باپ کے لئے کبھی بھی سبب زحمت نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ رحمت ہوتی ہے۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول ص سے اس قدر محبت و شفقت سے پیش آتی تھیں کہ رسول فرماتے نظر آئے : فاطمتہ ام ابیھا : فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے۔دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فاطمہ (س)کا غم و غصہ خدا کا غیظ و غضب ہے اور فاطمہ (س)کی خوشی خوشنودی خدا ہے۔ ( کتاب کنز العمال )۔ فاطمہ زہرا(س) بحیثیت زوجہ: فاطمہ زہرا (س) بیاہ کر علی مرتضیٰ ؑ کے بیت الشرف میں تشریف لے گئیں دوسرے روز رسول اکرم بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے۔اور علی ؑ سے سوال کیا یا علی ؑ تم نے فاطمہ (س)کو کیسا پایا ؟ علی ؑ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ، یا رسول اللہ میں نے فاطمہ (س)کو عبادت پروردگار میں بہترین معاون و مددگار پایا۔علی ؑ سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول فاطمہ(س)کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول ص نے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ (س) نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا بابا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا۔ فاطمہ(س) نے اپنے چاہنے والوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو۔ ہمارا سلام ہو ا اس شہزادی پر جس کا مہر تھا ایک زرہ (جس کی قیمت پانچ سو درہم تھی ) اور کھدر کا ایک معمولی لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال (وافی کتاب النکاح ) فاطمہ(س) کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم نے فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو۔ ( وافی کتاب النکاح ) لیکن ہزار حیف امت رسول کو کیا ہوگیا ؟ بیٹی کے گھر والے یہ سوچ کر مہر زیادہ معین کرتے ہیں کہ مہر زیادہ رہے گا تو لڑکا اس کے وزن میں دبا رہیگا اور ہماری لڑکی طلاق سے محفوظ رہے گی اور جب مہر پر لڑکے سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس مہر پر راضی ہو تو لڑکا یہ سوچ کر جواب اثبات میں سر ہلا دیتا ہے کہ دینا تو ہے ہی نہیں ہاں کرنے میں کیا جاتا ہے۔لیکن! مہر واجب الادا ہوتا ہے صرف سر ہلانے سے کام چلنے والا نہیں ہے بلکہ عمل کا جامہ پہنانا واجب و لازم ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے شادی کے بعد جس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔آپ(س) گھر کا تما م کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔لیکن نہ توکبھی تیوریوں پر بل پڑے اورنہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔جناب سیّدہ اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ ان سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں،آپ(س) ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کراتیں۔ اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں اور بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل کرے اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ (س)نے مکمل طریقہ پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنے قوتِ بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے خرچ کاسامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھا اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا (س)انجام دیتی تھیں۔ حضرت زہرا (س) اور جہاد: اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔لٰہذا حضرت فاطمہ زہرا (س)نے کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں رکھا۔ لیکن جب کبھی پیغمبر ص میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھو تیں تھیں .اور جب علی علیہ السّلام خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ(س) اسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کرانجام دیتی ہیں . ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلہ کا موقع۔ کیوں کہ یہ ایک پر امن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔ یعنی صرف مباہلہ کا میدان ایسا تھا جہاں سیدہ عالم(س) خدا کے حکم سے برقع وچادر میں نہاں ہو کر اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔ فاطمہ زہرا(س) بحیثیت مادر: اسلام کی ایک بنیاد بچوں کی تربیت ہے کہ ان کی سعادت میں گہرا اثر رکھتے ہیں جیسا کہ خشک جڑ کی دیکھ بھال اسے پھل داردرخت میں بدل دیتی ہے۔ زہرا سلام اللہ علیہا کے بچے اس کے باوجود کہ ذات پروردگارکی طرف سے تربیت شدہ ہیں پھر بھی ماں باپ اور نانا کے کمالات، حسن معرفت اور اخلاق کے تحت کمالات اور مقام ومرتبے کی مزید بلندیوں کو طے کرتے ہیں۔ حضرت زہرا (س)اپنے بیٹے حسن ؑ کو جب پیار کرتی یہ جملے ارشاد فرماتی تھیں: ”اے حسنؑ اپنے والد کی طرح بنو اور حق کی گردن سے رسی اتار پھینکو اور نعمت عطا کرنے والے خدا کی عبادت کرو اور کینہ پرستوں کو دوست نہ رکھو“۔ اس کے ظاہر کی تفسیر: چونکہ حضرت علیؑ قدرت حق اور صفات الہی کے مظہر ہیں لہذاآپ(س) فرماتی ہیں ،اپنے والد کی شبیہ بنو ،شباہت علم انصاف شجاعت اور تقوی وغیرہ یعنی اپنے والد کے نقش قدم پر چلو اور یہ اپنے بیٹے حسن سے حضرت سیدہ(س) کی پہلی خواہش تھی۔ دوسری حق سے رسی اتار پھینکنا یہ ہے کہ انسان حق کو پاک وخالص کرے۔یعنی: ۱۔توحید حقیقی میں سب سے پہلے موحد عقائد افعال سے کفر وشرک اور معصیت کی جڑوں کو کاٹ ڈالے۔ ۲۔ان کی جڑوں کو دلیل وبرہان کے ذریعے لوگوں کے عقائد وافعال سے کاٹ ڈالے۔ ۳۔صاحب نعمت اور نعمت بخشش معبود کی عبادت کرو کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔ ۴۔جو چیز بھی باطل ہے اسے اپنے دل سے نکال دو اس سے دل نہ لگاؤ اپنے دل میں صرف خدا اور اولیاءخدا کی ولایت ومحبت رکھو باقی سب کچھ نکال دو۔ (بحار الانوار ج۳۲ ص۶۸۲) چونکہ پروردگار عالم کا یہ مصمم ارادہ تھا کہ پیشوائے دین اور خلفائے رسول، صدیقہ طاہرہ(س) کی نسل سے ہوں اسی لئے آپ کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری تربیت اولاد تھی، تربیت اولاد ظاہر میں ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن اس میں بہت مہم اور وسیع معنی مخفی ہیں۔ تربیت صرف اسی کا نام نہیں ہے کہ اولاد کے لئے لوازم زندگی اور عیش و آرام فراہم کر دئے جائیں اور بس، بلکہ یہ لفظ والدین کو ان کی ایک عظیم ذمہ داری کی یاد آوری کراتا ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے اولاد کا کسی عہدہ پر فائز ہونا بھی تربیت والدین کا مرہون منت ہے فاطمہ(س) اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ انھیں اماموں کی پرورش کرنی ہے، فاطمہ (س) ان خواتین میں سے نہیں تھیں کہ جو گھر کے ماحول کو معمولی شمار کرتی ہوں بلکہ آپ(س) گھر کے ماحول کو بہت بڑا اور حساس گردانتی تھیں آپ(س) کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ آغوش مادر تھی اس کے بعد گھر کا ماحول اور صحن خانہ بچوں کے لئے عظیم مدرسہ تھا، ایسا نہ ہو ہم خود کو ان کا پیرو شمار کرتے رہیں لیکن ان کی سیرت سے دور دور تک تعلق نہ ہو ان کے احکام و فرامین پس پشت ڈال دیں۔

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی:
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی بہت مختصر لیکن عظیم اخلاقی اور معنوی درس کی حامل تھی۔ یہ عظیم خاتون اسلام کے ابتدائی دور میں رسول اکرم(ص) اورحضرت علی ؑ کے ساتھ رہیں۔آپ(س) نے حضرت امام حسن ؑ اور حضرت امام حسین ؑ جیسے صالح فرزندوں کی تربیت کی کہ جو رسول اکرم ص کے قول کے مطابق جوانان جنت کے سردار ہیں۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کی عظیم شخصیت کے بارے میں دنیا کے بہت سے دانشوروں نے اظہار خیال کیا ہے اور آپ کو ایک مسلمان عورت کا جامع اور مکمل نمونہ قراردیا ہے۔
وہ پر آشوب دور جس میں ظلم و تشدد کا دور دورہ تھا جس میں انسانیت کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا جس زمانہ کے ضمیر فروش بے حیا انسان کے لبادہ میں حیوان صفت افراد انسان کو زندہ در گور کر کے فخر و مباہات کیا کرتے تھے جو عورت ذات کو ننگ و عار سمجھتے تھے یہ وہ تشدد آمیز ماحول تھا جس میں ہر سمت ظلم و ستم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اسی تاریکی کو سحر بخشنے کے لئے افق رسالت پر خورشید عصمت طلوع ہوا جس کی کرنوں نے نگاہ عالم کو خیرہ کر دیا اسی منجلاب میں ایک گلاب کھلا جس کی خوشبو نے مشام عالم کو معطر کر دیا ایسے ماحول میں دختر رحمتہ العالمین نے تشریف لا کر اس جاہل معاشرہ کو یہ سمجھا دیا کہ ایک لڑکی باپ کے لئے کبھی بھی سبب زحمت نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ رحمت ہوتی ہے۔
فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول ص سے اس قدر محبت و شفقت سے پیش آتی تھیں کہ رسول فرماتے نظر آئے : فاطمتہ ام ابیھا : فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے۔دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فاطمہ (س)کا غم و غصہ خدا کا غیظ و غضب ہے اور فاطمہ (س)کی خوشی خوشنودی خدا ہے۔ ( کتاب کنز العمال )۔
فاطمہ زہرا(س) بحیثیت زوجہ:
فاطمہ زہرا (س) بیاہ کر علی مرتضیٰ ؑ کے بیت الشرف میں تشریف لے گئیں دوسرے روز رسول اکرم بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے۔اور علی ؑ سے سوال کیا یا علی ؑ تم نے فاطمہ (س)کو کیسا پایا ؟ علی ؑ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ، یا رسول اللہ میں نے فاطمہ (س)کو عبادت پروردگار میں بہترین معاون و مددگار پایا۔علی ؑ سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول فاطمہ(س)کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول ص نے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ (س) نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا بابا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا۔ فاطمہ(س) نے اپنے چاہنے والوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو۔
ہمارا سلام ہو ا اس شہزادی پر جس کا مہر تھا ایک زرہ (جس کی قیمت پانچ سو درہم تھی ) اور کھدر کا ایک معمولی لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال (وافی کتاب النکاح ) فاطمہ(س) کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم نے فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو۔ ( وافی کتاب النکاح )
لیکن ہزار حیف امت رسول کو کیا ہوگیا ؟ بیٹی کے گھر والے یہ سوچ کر مہر زیادہ معین کرتے ہیں کہ مہر زیادہ رہے گا تو لڑکا اس کے وزن میں دبا رہیگا اور ہماری لڑکی طلاق سے محفوظ رہے گی اور جب مہر پر لڑکے سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس مہر پر راضی ہو تو لڑکا یہ سوچ کر جواب اثبات میں سر ہلا دیتا ہے کہ دینا تو ہے ہی نہیں ہاں کرنے میں کیا جاتا ہے۔لیکن! مہر واجب الادا ہوتا ہے صرف سر ہلانے سے کام چلنے والا نہیں ہے بلکہ عمل کا جامہ پہنانا واجب و لازم ہے۔
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے شادی کے بعد جس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔آپ(س) گھر کا تما م کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔لیکن نہ توکبھی تیوریوں پر بل پڑے اورنہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔جناب سیّدہ اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ ان سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں،آپ(س) ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کراتیں۔ اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں اور بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل کرے اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ (س)نے مکمل طریقہ پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنے قوتِ بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے خرچ کاسامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھا اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا (س)انجام دیتی تھیں۔
حضرت زہرا (س) اور جہاد:
اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔لٰہذا حضرت فاطمہ زہرا (س)نے کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں رکھا۔ لیکن جب کبھی پیغمبر ص میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم ان کے زخموں کو دھو تیں تھیں .اور جب علی علیہ السّلام خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ(س) اسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کرانجام دیتی ہیں . ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلہ کا موقع۔ کیوں کہ یہ ایک پر امن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔ یعنی صرف مباہلہ کا میدان ایسا تھا جہاں سیدہ عالم(س) خدا کے حکم سے برقع وچادر میں نہاں ہو کر اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔
فاطمہ زہرا(س) بحیثیت مادر:
اسلام کی ایک بنیاد بچوں کی تربیت ہے کہ ان کی سعادت میں گہرا اثر رکھتے ہیں جیسا کہ خشک جڑ کی دیکھ بھال اسے پھل داردرخت میں بدل دیتی ہے۔ زہرا سلام اللہ علیہا کے بچے اس کے باوجود کہ ذات پروردگارکی طرف سے تربیت شدہ ہیں پھر بھی ماں باپ اور نانا کے کمالات، حسن معرفت اور اخلاق کے تحت کمالات اور مقام ومرتبے کی مزید بلندیوں کو طے کرتے ہیں۔
حضرت زہرا (س)اپنے بیٹے حسن ؑ کو جب پیار کرتی یہ جملے ارشاد فرماتی تھیں:
”اے حسنؑ اپنے والد کی طرح بنو اور حق کی گردن سے رسی اتار پھینکو اور نعمت عطا کرنے والے خدا کی عبادت کرو اور کینہ پرستوں کو دوست نہ رکھو“۔
اس کے ظاہر کی تفسیر:
چونکہ حضرت علیؑ قدرت حق اور صفات الہی کے مظہر ہیں لہذاآپ(س) فرماتی ہیں ،اپنے والد کی شبیہ بنو ،شباہت علم انصاف شجاعت اور تقوی وغیرہ یعنی اپنے والد کے نقش قدم پر چلو اور یہ اپنے بیٹے حسن سے حضرت سیدہ(س) کی پہلی خواہش تھی۔ دوسری حق سے رسی اتار پھینکنا یہ ہے کہ انسان حق کو پاک وخالص کرے۔یعنی:
۱۔توحید حقیقی میں سب سے پہلے موحد عقائد افعال سے کفر وشرک اور معصیت کی جڑوں کو کاٹ ڈالے۔
۲۔ان کی جڑوں کو دلیل وبرہان کے ذریعے لوگوں کے عقائد وافعال سے کاٹ ڈالے۔
۳۔صاحب نعمت اور نعمت بخشش معبود کی عبادت کرو کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔
۴۔جو چیز بھی باطل ہے اسے اپنے دل سے نکال دو اس سے دل نہ لگاؤ اپنے دل میں صرف خدا اور اولیاءخدا کی ولایت ومحبت رکھو باقی سب کچھ نکال دو۔ (بحار الانوار ج۳۲ ص۶۸۲)
چونکہ پروردگار عالم کا یہ مصمم ارادہ تھا کہ پیشوائے دین اور خلفائے رسول، صدیقہ طاہرہ(س) کی نسل سے ہوں اسی لئے آپ کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری تربیت اولاد تھی، تربیت اولاد ظاہر میں ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن اس میں بہت مہم اور وسیع معنی مخفی ہیں۔ تربیت صرف اسی کا نام نہیں ہے کہ اولاد کے لئے لوازم زندگی اور عیش و آرام فراہم کر دئے جائیں اور بس، بلکہ یہ لفظ والدین کو ان کی ایک عظیم ذمہ داری کی یاد آوری کراتا ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے اولاد کا کسی عہدہ پر فائز ہونا بھی تربیت والدین کا مرہون منت ہے فاطمہ(س) اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ انھیں اماموں کی پرورش کرنی ہے، فاطمہ (س) ان خواتین میں سے نہیں تھیں کہ جو گھر کے ماحول کو معمولی شمار کرتی ہوں بلکہ آپ(س) گھر کے ماحول کو بہت بڑا اور حساس گردانتی تھیں آپ(س) کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ آغوش مادر تھی اس کے بعد گھر کا ماحول اور صحن خانہ بچوں کے لئے عظیم مدرسہ تھا، ایسا نہ ہو ہم خود کو ان کا پیرو شمار کرتے رہیں لیکن ان کی سیرت سے دور دور تک تعلق نہ ہو ان کے احکام و فرامین پس پشت ڈال دیں۔