معروف عالم دین علامہ محمد امین شہیدی کا خصوصی انٹرویو (حصہ اول)

  Click to listen highlighted text! علامہ محمد امین شہیدی امت واحدہ پاکستان کے سربراہ ہیں۔ انکا شمار ملک کے معروف ترین علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز میں ہوتا ہے، دلیل کیساتھ اپنا موقف پیش کرتے ہیں، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پر ٹاک شوز، مذاکروں اور مذہبی محافل میں شریک دکھائی دیتے ہیں۔ علامہ امین شہیدی اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، وہ اپنی تقریر میں حقائق کی بنیاد پہ حالات کا نہایت درست اور عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کرنٹ افیئرز سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں انہیں بڑی پذیرائی حاصل ہے۔ اسلام ٹائمز نے حالات حاضرہ بالخصوص ملک میں دہشتگردی کی حالیہ نئی لہر، نئی قومی سلامتی پالیسی، ایران، سعودیہ تعلقات میں بہتری جیسے اہم ایشوز پر علامہ امین شہیدی صاحب کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، انٹرویو طولانی ہونے کیوجہ سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا حصہ پیش خدمت ہے۔(ادارہ) ادارہ : لاہور میں بم دھماکہ اور اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں تین شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ، آپکے خیال میں کہیں دوبارہ ملکی حالات دہشتگردی کیطرف تو نہیں جا رہے اور قیام امن کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟علامہ محمد امین شہیدی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی تقریباً چار دہائیوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، لہذا اب اس انتہاء پسندی کو جب تک جڑ سے نہ اکھاڑا جائے، تب تک یہ سلسلہ بند ہونے والا نہیں ہے۔ ریاست نے چونکہ اپنی ہی پالیسز کے ذریعے ایسے گروپس پیدا کئے، ان کی آبیاری ہوئی، ریاست نے ان کو تناآور درخت بنایا، تو اب دشمنوں کے ہاتھ میں بھی یہی ہتھیار ہے اور داخلی مخالف گروپوں کے ہاتھ میں بھی یہی ہتھیار ہے۔ لہذا جب کبھی ریاست سے کوئی بات منوانی ہو، ریاست کو کسی بات پر مجبور کرنا ہو تو اس ہتھیار سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ باہر بیٹھے پاکستان دشمن عناصر بھی اسی ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں اور پاکستان کے اندر موجود وہ لوگ، جو ریاست کے خلاف جانا چاہتے ہیں، اس ہتھیار کو استعمال کرتے ہیں۔ لاہور میں واقعہ ہوا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں واقعہ ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ ملتان میں واقعہ ہوا ہے۔ اگر دہشتگردوں کے point of view سے دیکھا جائے تو دو چیزیں ہیں، ایک یہ کہ عام بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جائے جیسا کہ لاہور میں ہوا۔ عام طور پر مذہبی عناصر اس طرح نہیں بلکہ اسی طرح کی کارروائیاں وہ لوگ کرتے ہیں، جن کا پس منظر سیاسی زیادہ ہوتا ہے، وہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پھر وہ ایسے انتہاء پسندانہ اقدامات کرتے ہیں۔ ظاہر ہے مذہب اس طرح بے گناہ افراد کے قتل کا جواز تو فراہم نہیں کرتا اور جو لوگ مذہب یا مذہبی عقیدے کے نام پر اس قسم کے کام کرتے ہیں، وہ بنیادی طور پر مذہب کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے سیاسی مفادات کیلئے مذہب کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا عام عوام کو نشانہ بنا کر بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ بھی اگر بے گناہ ہیں تو جنت میں چلے جائیں گے اور اسی طرح ہم بھی جنت میں چلے جائیں گے کہ ہمارا ہدف مقصد صاف اور مقدس ہے۔ اس طرح کے بے ڈھنگے جواز فراہم کئے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ کافی عرصے کے بعد اب دوبارہ یہ سلسلہ سر اٹھانے کو ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ شاید تحریک طالبان پاکستان اور ریاست کے درمیان مذاکرات کے عمل کا رک جانا ہے۔ ریاست پاکستان نے اپنے behaviour سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمیشہ طاقت کے مقابلے میں، زور زبردستی کے مقابلے میں اور پریشر کے مقابلے میں ریاست سرینڈر کرتی ہے، جیسے ٹی ٹی پی کے مقابلہ میں مختلف مواقع پر نظر آیا، اسی طرح ٹی ایل پی کے معاملہ میں نظر آیا، سپاہ صحابہ کے مقابلہ میں نظر آیا، دیگر دہشتگرد گروپوں کے حوالے سے ہمیں یہی پالیسی نظر آئی، اس کا حل انڈر پریشر آنا نہیں ہے، ریاست بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، ریاست کے ہاتھ میں بہت قوت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے اگر ریاست پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو، جو خود ایسا عزم رکھتے ہوں کہ معاشرے سے اس ناسور کا خاتمہ ہونا چاہیئے تو پھر ریاست کی تمام طاقت استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اگر کمزور لوگ ریاست کی باگیں اپنے ہاتھ میں لیں تو ان کی کمزوری ریاست کو بھی کمزور بنا دیتی ہے۔ دہشتگردی، دہشتگردی ہے، قتل جرم ہے، قاتل کی سزا پھانسی ہے، دہشتگردی کی سزا وہی ہے، جو قانون اور دین نے معین کی ہے۔ جب آپ جزا اور سزا کے قانون کے درمیان بیلنس نہیں رکھتے اور اپنی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے طاقتور مجرموں کو چھوٹ دے دیتے ہیں تو پھر یقیناً جرم کو پنپنے کا بھی موقع ملتا ہے اور مجرموں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ ہم عملی طور پر یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر جتنی بھی اس طرح کی طاقتیں سر اٹھا چکی ہیں، انہیں قانون کے کٹہرے میں کبھی بھی اس طرح سے کھڑا نہیں کیا گیا جو قانون کا تقاضا تھا، نتیجتاً آئندہ بھی یہی ہوگا۔ لہذا ایک ہی راستہ ہے کہ موجود قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے مجرم کو کسی بھی صورت میں جرم سے روکا جائے اور اسے سزاء دی جائے، تاکہ دوسروں کیلئے عبرت کا باعث بنے۔ کسی بھی بہانے سے انڈر پریشر آکر مجرموں کو، شدت پسندوں کو، دہشتگردوں کو موقع فراہم کرنا اور ریاست کا ان کے سامنے جھک جانا اس ملک کو تباہی کے اس دیہانے پر لے جائے گا کہ پھر قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اور ریاست جنگل کا نقشہ پیش کرے گی، موجودہ پالیسیاں ہمیں اسی طرف لیکر جا رہی ہیں اور یہی ایک بہت ہی کمزور ریاست کی علامت اور نشانی ہوتی ہے۔ ادارہ : حکومت نے قومی سلامتی پالیسی کا اجراء کر دیا ہے، اس سے قبل بھی قومی سلامتی کے حوالے سے اقدامات اور پالیسز تشکیل پائی ہیں، جن میں نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہے لیکن ان پر سو فیصد عملدرآمد نہ ہوسکا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔؟علامہ محمد امین شہیدی: دیکھیں، کسی بھی ملک کی قومی سلامتی پالیسی اس لئے بنائی جاتی ہے کہ اس ملک کے عوام کو تمام جہتوں اور تمام پہلووں سے یکساں ترقی کے مواقع میسر ہوں اور بیرونی و اندرونی چیلنجز سے ان کو نبردآزما ہونے کا شعور بھی ملے اور موقع بھی۔ اسی طرح عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی ہو اور بین الاقوامی سطح پر اس قوم کو عزت و سربلندی کا مقام حاصل ہو۔ پاکستان کی سلامتی پالیسی کے تعلیمی، دفاعی، دہشتگردی کا مقابلہ کرنے اور اقتصادی باب پر اگر آپ غور و خوص کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ بجائے اسکے کہ ہم ایک خود مختار، آزاد اور سربلند قوم بننے کیلئے قدم اٹھائیں، ان پالیسز کے نتیجے میں ہم کئی مجبوریوں اور مشکلات کو گلے لگانے کیلئے قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ معاشی پالیسیوں میں کئی نکات ایسے ہیں کہ جس کے نتیجے میں ہم تعلیمی، تہذیب و تمدن اور کلچر کے حوالے سے مکمل طور پر مغرب کے دست نگر بن جائیں۔ اندرونی اور بیرونی دفاع کے حوالے سے جو پالیسز ہیں، ان پالیسز میں بھی خامیاں نظر آتی ہیں۔ جب آپ اندرونی طور پر شدت پسندانہ رجحانات، دہشتگردی، قانون شکنی اور عوام کو ریاست کیخلاف کھڑا کرنے کے رجحان رکھنے والے لوگوں کیساتھ قانون اور پالیسز کے مطابق اپنا رول ادا نہ کریں تو پھر آپ کی بنائی ہوئی پالیسز سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب تک وہ صرف کاغذ کی حد تک ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومی سلامتی پالیسی بنانے کیلئے ان لوگوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جن کا مغربی مفاد نہ ہو، جن کی فکر اور سوچ امریکی و یورپی نہ ہو، جن کے مفادات کے تانے بانے عرب ممالک اور یورپ و امریکہ سے وابستہ نہ ہوں، بلکہ جن کی سوچ بھی پاکستانی ہو، ہدف بھی پاکستانی ہو اور ان کا جینا مرنا بھی پاکستان کیلئے ہو، جب ایسے لوگ پالیسی بنائیں گے تو اپنی قوم، ملت اور ملک کے تمام تر مفادات کے پہلووں کو سامنے رکھیں گے۔ اگلا مرحلہ اس پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ہے، پالیسی بن جائے، لیکن اس کی روح کے مطابق اس پر عملدرآمد نہ کیا جائے تو یقیناً اس کے نتیجے میں ملک کے اندر مثبت تبدیلی نہیں آسکتی۔ اگر ہم اے پی ایس کے واقعہ کو لیں تو اس واقعہ کے بعد قومی پالیسی بنی، سوال یہ ہے کہ اس قومی پالیسی پر کتنا عملدرآمد کیا گیا۔؟ عملدرآمد کے حوالے سے ریاست نے کہاں کمزوریاں دکھائیں۔؟ صرف پالیسیاں بنا لینے سے آپ ملک کے اندر تبدیلی نہیں لاسکتے، ہم نے اس کے بعد بھی یہ دیکھا کہ شدت پسند عناصر ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، جو اسلام سے بھی بغض رکھتے ہیں اور پاکستان سے بھی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں سیاسی، مذہبی، تہذیبی اور کلچرل بحران پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ریاست نے انہی لوگوں کے سر پر ہاتھ بھی رکھا اور انہی لوگوں کو سینے سے لگانے کی کوشش بھی کی۔ اب بھی بعض حوالوں سے ایسے عناصر اور ایسے گروہوں کے مطالبات کو ریاست غیر اعلانیہ طور پر عملی جامہ پہناتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اگر ایسی حرکتیں ان قومی پالیسز کا نتیجہ ہیں تو پھر ان قومی سلامتی کی پالیسز پر بھی فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی جامع ہونی چاہیئے، دوسرا یہ کہ پالیسی ایسے لوگوں کے ذریعے سے بنائی جائے، جن کا مغربی اور امریکی مفاد نہ ہو بلکہ ملکی مفاد مقدم ہو، تیسرا یہ کہ پالیسی قابل عمل بنائی جائے، چوتھا کہ ان پالیسز پر عملدرآمد کے حوالے سے ریاست کے اندر عزم موجود ہو، پانچواں یہ کہ ان پالیسز پر عملدآمد کے حوالے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ریاست ہر قیمت دینے پر تیار ہو۔ جب تک ہم ان چیزوں کا خیال نہیں رکھتے میرا خیال ہے کہ ہم اس طرح کی پالیسز بنانے کے نتیجے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لاسکتے۔ اسلام ٹائمز: ایران اور سعودی عرب کے مابین ایک طویل عرصہ بعد سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکانات نظر آرہے ہیں، کیا آپ سعودی رویہ میں حقیقی تبدیلی دیکھ رہے ہیں یا پھر یہ یمن جنگ سمیت دیگر محاذوں پر پسپائی کے نتیجے میں سعودی حکومت تعلقات بہتر بنانے پر مجبور ہوئی ہے۔؟علامہ محمد امین شہیدی: دنیا کے تمام ممالک اپنی خارجہ پالیسی کے اعتبار سے یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے ان کے سفارتی تعلقات منقطع نہ ہوں، جب سفارتی تعلقات ہوں گے تو اس کے نتیجے میں وہ اس ملک سے مطلوبہ فائدہ اٹھا سکیں گے اور اس ملک میں اپنے اثر و رسوخ سے استفادہ کرسکیں گے۔ ایران اور سعودی عرب بھی اس کلی قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ایران کی اپنی پالیسز ہیں اور سعودیوں کی اپنی پالیسز ہیں، اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودیوں کی پالیسز عالمی طاقتوں کے تابع ہوتی ہیں، سعودیہ میں آزاد پالیسز نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے معاملات ایسے ہیں کہ جن کے حل کیلئے ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں خود ایران کو اس کی ضرورت ہے وہیں سعودیوں کو بھی ایران کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ حالیہ مذاکرات کا سلسلہ نارمل ہے کہ دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں۔ یہ سفارتی تعلقات دونوں ممالک کے اپنے اپنے مفادات کے گرد ہی گھومتے ہیں اور گھومیں گے کیونکہ سعودیوں کی ریجنل پالیسز اور ہیں اور ایران کی اور ہیں۔ چونکہ سعودی اس خطہ میں مغربی دنیا کے مفادات کی چوکیداری پر مامور ہیں، اس لئے ان مفادات کے حوالے سے ہمیشہ ٹکراو رہے گا، جب تک سعودی مغرب کے ان مفادات کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہوتے، تب تک یہ ٹکراو موجود رہے گا۔ جیسا کہ یمن کے ایشو میں ٹکراو رہے گا، شام کے ایشو میں ٹکراو رہے گا، عراق کے ایشو میں ٹکراو رہے گا اور بھی بہت سارے ایسے ایشوز ہیں۔ لہذا اس کو خلوص یا عدم خلوص، حسن نیت یا عدم حسن نیت کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کو دونوں ممالک کے شارٹ ٹرم مفادات اور لانگ ٹرم مفادات کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے یہ اچھا قدم ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط دوبارہ بحال ہوں، سفارتیں دوبارہ کام کرنا شروع کردیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی حفاظت کرسکیں۔(انٹرویو کا دوسرا حصہ کل جاری کیا جائے گا)

علامہ محمد امین شہیدی امت واحدہ پاکستان کے سربراہ ہیں۔ انکا شمار ملک کے معروف ترین علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز میں ہوتا ہے، دلیل کیساتھ اپنا موقف پیش کرتے ہیں، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا پر ٹاک شوز، مذاکروں اور مذہبی محافل میں شریک دکھائی دیتے ہیں۔ علامہ امین شہیدی اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی حالات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، وہ اپنی تقریر میں حقائق کی بنیاد پہ حالات کا نہایت درست اور عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کرنٹ افیئرز سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں انہیں بڑی پذیرائی حاصل ہے۔ اسلام ٹائمز نے حالات حاضرہ بالخصوص ملک میں دہشتگردی کی حالیہ نئی لہر، نئی قومی سلامتی پالیسی، ایران، سعودیہ تعلقات میں بہتری جیسے اہم ایشوز پر علامہ امین شہیدی صاحب کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، انٹرویو طولانی ہونے کیوجہ سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا حصہ پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

ادارہ لاہور میں بم دھماکہ اور اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں تین شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ، آپکے خیال میں کہیں دوبارہ ملکی حالات دہشتگردی کیطرف تو نہیں جا رہے اور قیام امن کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، پاکستان میں مذہبی انتہاء پسندی تقریباً چار دہائیوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، لہذا اب اس انتہاء پسندی کو جب تک جڑ سے نہ اکھاڑا جائے، تب تک یہ سلسلہ بند ہونے والا نہیں ہے۔ ریاست نے چونکہ اپنی ہی پالیسز کے ذریعے ایسے گروپس پیدا کئے، ان کی آبیاری ہوئی، ریاست نے ان کو تناآور درخت بنایا، تو اب دشمنوں کے ہاتھ میں بھی یہی ہتھیار ہے اور داخلی مخالف گروپوں کے ہاتھ میں بھی یہی ہتھیار ہے۔ لہذا جب کبھی ریاست سے کوئی بات منوانی ہو، ریاست کو کسی بات پر مجبور کرنا ہو تو اس ہتھیار سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ باہر بیٹھے پاکستان دشمن عناصر بھی اسی ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں اور پاکستان کے اندر موجود وہ لوگ، جو ریاست کے خلاف جانا چاہتے ہیں، اس ہتھیار کو استعمال کرتے ہیں۔ لاہور میں واقعہ ہوا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں واقعہ ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ ملتان میں واقعہ ہوا ہے۔ اگر دہشتگردوں کے point of view سے دیکھا جائے تو دو چیزیں ہیں، ایک یہ کہ عام بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جائے جیسا کہ لاہور میں ہوا۔ عام طور پر مذہبی عناصر اس طرح نہیں بلکہ اسی طرح کی کارروائیاں وہ لوگ کرتے ہیں، جن کا پس منظر سیاسی زیادہ ہوتا ہے، وہ اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پھر وہ ایسے انتہاء پسندانہ اقدامات کرتے ہیں۔

ظاہر ہے مذہب اس طرح بے گناہ افراد کے قتل کا جواز تو فراہم نہیں کرتا اور جو لوگ مذہب یا مذہبی عقیدے کے نام پر اس قسم کے کام کرتے ہیں، وہ بنیادی طور پر مذہب کیلئے نہیں ہوتا بلکہ اپنے سیاسی مفادات کیلئے مذہب کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا عام عوام کو نشانہ بنا کر بھی وہ کہتے ہیں کہ وہ بھی اگر بے گناہ ہیں تو جنت میں چلے جائیں گے اور اسی طرح ہم بھی جنت میں چلے جائیں گے کہ ہمارا ہدف مقصد صاف اور مقدس ہے۔ اس طرح کے بے ڈھنگے جواز فراہم کئے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ کافی عرصے کے بعد اب دوبارہ یہ سلسلہ سر اٹھانے کو ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ شاید تحریک طالبان پاکستان اور ریاست کے درمیان مذاکرات کے عمل کا رک جانا ہے۔ ریاست پاکستان نے اپنے behaviour سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہمیشہ طاقت کے مقابلے میں، زور زبردستی کے مقابلے میں اور پریشر کے مقابلے میں ریاست سرینڈر کرتی ہے، جیسے ٹی ٹی پی کے مقابلہ میں مختلف مواقع پر نظر آیا، اسی طرح ٹی ایل پی کے معاملہ میں نظر آیا، سپاہ صحابہ کے مقابلہ میں نظر آیا، دیگر دہشتگرد گروپوں کے حوالے سے ہمیں یہی پالیسی نظر آئی، اس کا حل انڈر پریشر آنا نہیں ہے، ریاست بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، ریاست کے ہاتھ میں بہت قوت ہوتی ہے۔

اس اعتبار سے اگر ریاست پر ایسے لوگوں کا قبضہ ہو، جو خود ایسا عزم رکھتے ہوں کہ معاشرے سے اس ناسور کا خاتمہ ہونا چاہیئے تو پھر ریاست کی تمام طاقت استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اگر کمزور لوگ ریاست کی باگیں اپنے ہاتھ میں لیں تو ان کی کمزوری ریاست کو بھی کمزور بنا دیتی ہے۔ دہشتگردی، دہشتگردی ہے، قتل جرم ہے، قاتل کی سزا پھانسی ہے، دہشتگردی کی سزا وہی ہے، جو قانون اور دین نے معین کی ہے۔ جب آپ جزا اور سزا کے قانون کے درمیان بیلنس نہیں رکھتے اور اپنی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے طاقتور مجرموں کو چھوٹ دے دیتے ہیں تو پھر یقیناً جرم کو پنپنے کا بھی موقع ملتا ہے اور مجرموں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ ہم عملی طور پر یہ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر جتنی بھی اس طرح کی طاقتیں سر اٹھا چکی ہیں، انہیں قانون کے کٹہرے میں کبھی بھی اس طرح سے کھڑا نہیں کیا گیا جو قانون کا تقاضا تھا، نتیجتاً آئندہ بھی یہی ہوگا۔ لہذا ایک ہی راستہ ہے کہ موجود قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے مجرم کو کسی بھی صورت میں جرم سے روکا جائے اور اسے سزاء دی جائے، تاکہ دوسروں کیلئے عبرت کا باعث بنے۔ کسی بھی بہانے سے انڈر پریشر آکر مجرموں کو، شدت پسندوں کو، دہشتگردوں کو موقع فراہم کرنا اور ریاست کا ان کے سامنے جھک جانا اس ملک کو تباہی کے اس دیہانے پر لے جائے گا کہ پھر قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اور ریاست جنگل کا نقشہ پیش کرے گی، موجودہ پالیسیاں ہمیں اسی طرف لیکر جا رہی ہیں اور یہی ایک بہت ہی کمزور ریاست کی علامت اور نشانی ہوتی ہے۔

ادارہ حکومت نے قومی سلامتی پالیسی کا اجراء کر دیا ہے، اس سے قبل بھی قومی سلامتی کے حوالے سے اقدامات اور پالیسز تشکیل پائی ہیں، جن میں نیشنل ایکشن پلان بھی شامل ہے لیکن ان پر سو فیصد عملدرآمد نہ ہوسکا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
 دیکھیں، کسی بھی ملک کی قومی سلامتی پالیسی اس لئے بنائی جاتی ہے کہ اس ملک کے عوام کو تمام جہتوں اور تمام پہلووں سے یکساں ترقی کے مواقع میسر ہوں اور بیرونی و اندرونی چیلنجز سے ان کو نبردآزما ہونے کا شعور بھی ملے اور موقع بھی۔ اسی طرح عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی ہو اور بین الاقوامی سطح پر اس قوم کو عزت و سربلندی کا مقام حاصل ہو۔ پاکستان کی سلامتی پالیسی کے تعلیمی، دفاعی، دہشتگردی کا مقابلہ کرنے اور اقتصادی باب پر اگر آپ غور و خوص کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ بجائے اسکے کہ ہم ایک خود مختار، آزاد اور سربلند قوم بننے کیلئے قدم اٹھائیں، ان پالیسز کے نتیجے میں ہم کئی مجبوریوں اور مشکلات کو گلے لگانے کیلئے قدم آگے بڑھا رہے ہیں۔ معاشی پالیسیوں میں کئی نکات ایسے ہیں کہ جس کے نتیجے میں ہم تعلیمی، تہذیب و تمدن اور کلچر کے حوالے سے مکمل طور پر مغرب کے دست نگر بن جائیں۔ اندرونی اور بیرونی دفاع کے حوالے سے جو پالیسز ہیں، ان پالیسز میں بھی خامیاں نظر آتی ہیں۔

جب آپ اندرونی طور پر شدت پسندانہ رجحانات، دہشتگردی، قانون شکنی اور عوام کو ریاست کیخلاف کھڑا کرنے کے رجحان رکھنے والے لوگوں کیساتھ قانون اور پالیسز کے مطابق اپنا رول ادا نہ کریں تو پھر آپ کی بنائی ہوئی پالیسز سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب تک وہ صرف کاغذ کی حد تک ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومی سلامتی پالیسی بنانے کیلئے ان لوگوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جن کا مغربی مفاد نہ ہو، جن کی فکر اور سوچ امریکی و یورپی نہ ہو، جن کے مفادات کے تانے بانے عرب ممالک اور یورپ و امریکہ سے وابستہ نہ ہوں، بلکہ جن کی سوچ بھی پاکستانی ہو، ہدف بھی پاکستانی ہو اور ان کا جینا مرنا بھی پاکستان کیلئے ہو، جب ایسے لوگ پالیسی بنائیں گے تو اپنی قوم، ملت اور ملک کے تمام تر مفادات کے پہلووں کو سامنے رکھیں گے۔ اگلا مرحلہ اس پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ہے، پالیسی بن جائے، لیکن اس کی روح کے مطابق اس پر عملدرآمد نہ کیا جائے تو یقیناً اس کے نتیجے میں ملک کے اندر مثبت تبدیلی نہیں آسکتی۔ اگر ہم اے پی ایس کے واقعہ کو لیں تو اس واقعہ کے بعد قومی پالیسی بنی، سوال یہ ہے کہ اس قومی پالیسی پر کتنا عملدرآمد کیا گیا۔؟ عملدرآمد کے حوالے سے ریاست نے کہاں کمزوریاں دکھائیں۔؟

صرف پالیسیاں بنا لینے سے آپ ملک کے اندر تبدیلی نہیں لاسکتے، ہم نے اس کے بعد بھی یہ دیکھا کہ شدت پسند عناصر ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں، جو اسلام سے بھی بغض رکھتے ہیں اور پاکستان سے بھی، جس کے نتیجے میں پاکستان میں سیاسی، مذہبی، تہذیبی اور کلچرل بحران پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ریاست نے انہی لوگوں کے سر پر ہاتھ بھی رکھا اور انہی لوگوں کو سینے سے لگانے کی کوشش بھی کی۔ اب بھی بعض حوالوں سے ایسے عناصر اور ایسے گروہوں کے مطالبات کو ریاست غیر اعلانیہ طور پر عملی جامہ پہناتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اگر ایسی حرکتیں ان قومی پالیسز کا نتیجہ ہیں تو پھر ان قومی سلامتی کی پالیسز پر بھی فاتحہ پڑھ لینی چاہیئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی جامع ہونی چاہیئے، دوسرا یہ کہ پالیسی ایسے لوگوں کے ذریعے سے بنائی جائے، جن کا مغربی اور امریکی مفاد نہ ہو بلکہ ملکی مفاد مقدم ہو، تیسرا یہ کہ پالیسی قابل عمل بنائی جائے، چوتھا کہ ان پالیسز پر عملدرآمد کے حوالے سے ریاست کے اندر عزم موجود ہو، پانچواں یہ کہ ان پالیسز پر عملدآمد کے حوالے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ریاست ہر قیمت دینے پر تیار ہو۔ جب تک ہم ان چیزوں کا خیال نہیں رکھتے میرا خیال ہے کہ ہم اس طرح کی پالیسز بنانے کے نتیجے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لاسکتے۔

اسلام ٹائمزایران اور سعودی عرب کے مابین ایک طویل عرصہ بعد سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکانات نظر آرہے ہیں، کیا آپ سعودی رویہ میں حقیقی تبدیلی دیکھ رہے ہیں یا پھر یہ یمن جنگ سمیت دیگر محاذوں پر پسپائی کے نتیجے میں سعودی حکومت تعلقات بہتر بنانے پر مجبور ہوئی ہے۔؟
علامہ محمد امین شہیدی:
 دنیا کے تمام ممالک اپنی خارجہ پالیسی کے اعتبار سے یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک سے ان کے سفارتی تعلقات منقطع نہ ہوں، جب سفارتی تعلقات ہوں گے تو اس کے نتیجے میں وہ اس ملک سے مطلوبہ فائدہ اٹھا سکیں گے اور اس ملک میں اپنے اثر و رسوخ سے استفادہ کرسکیں گے۔ ایران اور سعودی عرب بھی اس کلی قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ ایران کی اپنی پالیسز ہیں اور سعودیوں کی اپنی پالیسز ہیں، اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودیوں کی پالیسز عالمی طاقتوں کے تابع ہوتی ہیں، سعودیہ میں آزاد پالیسز نہیں ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے معاملات ایسے ہیں کہ جن کے حل کیلئے ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں خود ایران کو اس کی ضرورت ہے وہیں سعودیوں کو بھی ایران کیساتھ اپنے سفارتی تعلقات قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ حالیہ مذاکرات کا سلسلہ نارمل ہے کہ دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو جائیں۔

یہ سفارتی تعلقات دونوں ممالک کے اپنے اپنے مفادات کے گرد ہی گھومتے ہیں اور گھومیں گے کیونکہ سعودیوں کی ریجنل پالیسز اور ہیں اور ایران کی اور ہیں۔ چونکہ سعودی اس خطہ میں مغربی دنیا کے مفادات کی چوکیداری پر مامور ہیں، اس لئے ان مفادات کے حوالے سے ہمیشہ ٹکراو رہے گا، جب تک سعودی مغرب کے ان مفادات کی زنجیروں سے آزاد نہیں ہوتے، تب تک یہ ٹکراو موجود رہے گا۔ جیسا کہ یمن کے ایشو میں ٹکراو رہے گا، شام کے ایشو میں ٹکراو رہے گا، عراق کے ایشو میں ٹکراو رہے گا اور بھی بہت سارے ایسے ایشوز ہیں۔ لہذا اس کو خلوص یا عدم خلوص، حسن نیت یا عدم حسن نیت کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کو دونوں ممالک کے شارٹ ٹرم مفادات اور لانگ ٹرم مفادات کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے یہ اچھا قدم ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط دوبارہ بحال ہوں، سفارتیں دوبارہ کام کرنا شروع کردیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے مفادات کی حفاظت کرسکیں۔
(انٹرویو کا دوسرا حصہ کل جاری کیا جائے گا)