عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہفتہ وحدت

  Click to listen highlighted text! ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں اس دنیا کے افضل ترین انسان اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی اس دنیا میں تشریف لائے۔ مختلف روایات کی وجہ سے ہمارے سنی مسلمان بھائی12ربیع الاول جبکہ ہم 17ربیع الاول کو ہم سب کے پیارے رسول کی ولادت کا جشن مناتے ہیں۔ مسلمانوں میں اتحاد کے لئے کہ جو اسلام کا حکم بھی ہے اور وقت کی انتہائی اہم ضرورت بھی امام خمینی ؒ نے 12سے 17ربیع الاول کو ہفتہ وحدت کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔  ان کی آواز پر آج مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد 12 سے17ربیع الا ول کو ہفتہ وحدت کے طور پر مناتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ 17ربیع الاول کو ہی ہمارے چھٹے امام یعنی رسول اللہ کے چھٹے جانشین حضرت امام جعفر صادق ؑ بھی اس دنیا میں تشریف لائے۔اس لئے اس عظیم جشن کے موقع پر ہم تمام ساتھیوں کو جشن عید میلاد النبی اور امام جعفر صادق ؑ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس عظیم موقع کو تمام دنیا کے لئے بابرکت قرار دے اور ہمیں اس جشن کو ہفتہ وحدت کے طور پر بھرپور طریقے سے منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ پیارے بچو!آئیے اس بابرکت موقع پر رسول اکرم کی سیرت سے واقعہ پڑھتے ہیں تاکہ رسول اکرم کی عظمت بھی معلوم ہو اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہو سکیں۔ ایک زمانے میں مکہ کے لوگ خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کر رہے تھے۔ تمام لوگ خانہ کعبہ بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے۔ جب کعبہ کی دیوار ایک خاص اونچائی تک پہنچی کہ جہاں حجراسود رکھا جانا تھا”حجراسود ایک محترم پتھر ہے“ مکہ کے سرداروں میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ اس پتھر کو صرف وہی اس کے مقام پر رکھے اور اس کام سے اپنے آپ اور اپنے قبیلے کی سربلندی کا باعث بنے۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان جھگڑا شروع ہوا۔ ہر ایک یہی کہتا تھا کہ صرف میں حجراسود کو اس کی جگہ نصب کروں گا ان کا اختلاف بہت بڑھ گیا تھا اور ایک خطرناک موڑ تک پہنچ گیا تھا قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہوجائے۔ جنگ کے لئے تیار بھی ہو چکے تھے اسی اثناءمیں ایک دانا اور خیرخواہ آدمی نے کہا۔ لوگو! جنگ اور اختلاف سے بچو کیونکہ جنگ شہر اور گھروں کو ویران کردیتی ہے۔ اور اختلاف لوگوں کو متفرق اور بدبخت کردیتا ہے۔ جہالت سے کام نہ لو اور کوئی معقول حل تلاش کرو۔ مکہ کے سردار کہنے لگے! کیا کریں۔ اس دانا آدمی نے کہا تم اپنے درمیان میں سے ایک ایسے آدمی کا انتخاب کرلو جو تمہارے اختلاف کو دور کردے۔ سب نے کہا یہ ہمیں قبول ہے مفید مشورہ ہے۔ لیکن ہر قبیلہ کہتا تھا کہ وہ قاضی ہم میں سے ہو۔ پھر بھی اختلاف ختم نہ ہوا۔ اسی خیرخواہ اور دانا آدمی نے کہا۔ جب تم قاضی کے انتخاب میں بھی اتفاق نہیں کر پائے تو سب سے پہلے شخص جو اس مسجد کے دروازے سے اندر آئے اسے قاضی مان لو۔ سب نے کہا یہ ہمیں قبول ہے تمام کی آنکھیں مسجد کے دروازے پر لگی ہوئی تھیں اور دل دھڑک رہے تھے کہ کون پہلے اس مسجد سے اندر آتا ہے اور فیصلہ کس قبیلے کے حق میں ہوتا ہے؟ ایک جوان اندر داخل ہوا۔ سب میں خوشی کی امید دوڑ گئی اور سب نے بیک زبان کہا بہت اچھا ہوا کہ محمد ہی آئے ہیں۔ محمدامین۔محمد امین۔ منصف اور صحیح فیصلہ دینے والا ہے اس کا فیصلہ ہم سب کو قبول ہے۔ حضرت محمد وارد ہوئے، انہوں نے اپنے اختلاف کی کہانی انہیں سنائی۔ آپ نے تھوڑا سا تامل کیا پھر فرمایا کہ اس کام میں تمام مکہ کے سرداروں کو شریک ہونا چاہیے لوگوں نے پوچھا کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ اور کس طرح۔ حضرت نے فرمایا کہ ہر قبیلے کا سردار یہاں حاضر ہو تمام سردار آپ کے پاس آئے۔ آنحضرتنے اپنی عبا بچھائی پھر آپ نے فرمایا تمام سردار عبا کے کناروں کو پکڑیں اور حجر اسود کو لے چلیں۔ تمام سردار نے حجر اسود اٹھایا اور اسے اس کی مخصوص جگہ تک لے آئے اس وقت آپنے حجر اسود کو اٹھایا اور اسے اس کی جگہ نصب کردیا۔ مکہ کے تمام لوگ آپ کی اس حکمت عملی سے راضی اور خوش ہوگئے۔ آپ کے اس فیصلے پر شاباش اور آفرین کہنے لگے۔ ہمارے پیغمبراس وقت جوان تھے اور ابھی اعلان رسالت نہیں فرمایا تھا لیکن اس قدر امین اور صحیح کام انجام دیتے تھے کہ آپ کا نام محمد امین پڑ چکا تھا۔ لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے اوراپنی قیمتی چیزیں آپ کے پاس امانت رکھتے تھے اور آپ ان کی امانتوں کی حفاظت کرتے تھے آپصحیح و سالم انہیں واپس لوٹا دیتے تھے۔ سبھی لوگ اپنے اختلافات دور کرنے میں آپ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اور آپ کے فیصلے کو قبول کرتے تھے۔

ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے کہ جس میں اس دنیا کے افضل ترین انسان اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی اس دنیا میں تشریف لائے۔ مختلف روایات کی وجہ سے ہمارے سنی مسلمان بھائی12ربیع الاول جبکہ ہم 17ربیع الاول کو ہم سب کے پیارے رسول کی ولادت کا جشن مناتے ہیں۔ مسلمانوں میں اتحاد کے لئے کہ جو اسلام کا حکم بھی ہے اور وقت کی انتہائی اہم ضرورت بھی امام خمینی ؒ نے 12سے 17ربیع الاول کو ہفتہ وحدت کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔
 ان کی آواز پر آج مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد 12 سے17ربیع الا ول کو ہفتہ وحدت کے طور پر مناتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ 17ربیع الاول کو ہی ہمارے چھٹے امام یعنی رسول اللہ کے چھٹے جانشین حضرت امام جعفر صادق ؑ بھی اس دنیا میں تشریف لائے۔اس لئے اس عظیم جشن کے موقع پر ہم تمام ساتھیوں کو جشن عید میلاد النبی اور امام جعفر صادق ؑ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس عظیم موقع کو تمام دنیا کے لئے بابرکت قرار دے اور ہمیں اس جشن کو ہفتہ وحدت کے طور پر بھرپور طریقے سے منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ پیارے بچو!آئیے اس بابرکت موقع پر رسول اکرم کی سیرت سے واقعہ پڑھتے ہیں تاکہ رسول اکرم کی عظمت بھی معلوم ہو اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا بھی ہو سکیں۔
ایک زمانے میں مکہ کے لوگ خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کر رہے تھے۔ تمام لوگ خانہ کعبہ بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کررہے تھے۔ جب کعبہ کی دیوار ایک خاص اونچائی تک پہنچی کہ جہاں حجراسود رکھا جانا تھا”حجراسود ایک محترم پتھر ہے“ مکہ کے سرداروں میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ اس پتھر کو صرف وہی اس کے مقام پر رکھے اور اس کام سے اپنے آپ اور اپنے قبیلے کی سربلندی کا باعث بنے۔ اسی وجہ سے ان کے درمیان جھگڑا شروع ہوا۔ ہر ایک یہی کہتا تھا کہ صرف میں حجراسود کو اس کی جگہ نصب کروں گا ان کا اختلاف بہت بڑھ گیا تھا اور ایک خطرناک موڑ تک پہنچ گیا تھا قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہوجائے۔ جنگ کے لئے تیار بھی ہو چکے تھے اسی اثناءمیں ایک دانا اور خیرخواہ آدمی نے کہا۔
لوگو! جنگ اور اختلاف سے بچو کیونکہ جنگ شہر اور گھروں کو ویران کردیتی ہے۔ اور اختلاف لوگوں کو متفرق اور بدبخت کردیتا ہے۔ جہالت سے کام نہ لو اور کوئی معقول حل تلاش کرو۔ مکہ کے سردار کہنے لگے! کیا کریں۔ اس دانا آدمی نے کہا تم اپنے درمیان میں سے ایک ایسے آدمی کا انتخاب کرلو جو تمہارے اختلاف کو دور کردے۔ سب نے کہا یہ ہمیں قبول ہے مفید مشورہ ہے۔ لیکن ہر قبیلہ کہتا تھا کہ وہ قاضی ہم میں سے ہو۔ پھر بھی اختلاف ختم نہ ہوا۔ اسی خیرخواہ اور دانا آدمی نے کہا۔ جب تم قاضی کے انتخاب میں بھی اتفاق نہیں کر پائے تو سب سے پہلے شخص جو اس مسجد کے دروازے سے اندر آئے اسے قاضی مان لو۔ سب نے کہا یہ ہمیں قبول ہے تمام کی آنکھیں مسجد کے دروازے پر لگی ہوئی تھیں اور دل دھڑک رہے تھے کہ کون پہلے اس مسجد سے اندر آتا ہے اور فیصلہ کس قبیلے کے حق میں ہوتا ہے؟ ایک جوان اندر داخل ہوا۔ سب میں خوشی کی امید دوڑ گئی اور سب نے بیک زبان کہا بہت اچھا ہوا کہ محمد ہی آئے ہیں۔ محمدامین۔محمد امین۔ منصف اور صحیح فیصلہ دینے والا ہے اس کا فیصلہ ہم سب کو قبول ہے۔
حضرت محمد وارد ہوئے، انہوں نے اپنے اختلاف کی کہانی انہیں سنائی۔ آپ نے تھوڑا سا تامل کیا پھر فرمایا کہ اس کام میں تمام مکہ کے سرداروں کو شریک ہونا چاہیے لوگوں نے پوچھا کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ اور کس طرح۔ حضرت نے فرمایا کہ ہر قبیلے کا سردار یہاں حاضر ہو تمام سردار آپ کے پاس آئے۔ آنحضرتنے اپنی عبا بچھائی پھر آپ نے فرمایا تمام سردار عبا کے کناروں کو پکڑیں اور حجر اسود کو لے چلیں۔ تمام سردار نے حجر اسود اٹھایا اور اسے اس کی مخصوص جگہ تک لے آئے اس وقت آپنے حجر اسود کو اٹھایا اور اسے اس کی جگہ نصب کردیا۔ مکہ کے تمام لوگ آپ کی اس حکمت عملی سے راضی اور خوش ہوگئے۔ آپ کے اس فیصلے پر شاباش اور آفرین کہنے لگے۔
ہمارے پیغمبراس وقت جوان تھے اور ابھی اعلان رسالت نہیں فرمایا تھا لیکن اس قدر امین اور صحیح کام انجام دیتے تھے کہ آپ کا نام محمد امین پڑ چکا تھا۔
لوگ آپ پر اعتماد کرتے تھے اوراپنی قیمتی چیزیں آپ کے پاس امانت رکھتے تھے اور آپ ان کی امانتوں کی حفاظت کرتے تھے آپصحیح و سالم انہیں واپس لوٹا دیتے تھے۔ سبھی لوگ اپنے اختلافات دور کرنے میں آپ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اور آپ کے فیصلے کو قبول کرتے تھے۔