دعا زہرا کیس : عدالت کا مزید تفتیش اور عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

  Click to listen highlighted text! کراچی : جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے دعا زہرا کیس میں مزید تفتیش اور لڑکی کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے چالان جمع کرایا کہ تحقیقات میں شواہد نہیں ملے مقدمہ سی کلاس کیا جائے۔ وکیل جبران ناصر نے پولیس چالان پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چالان کا انحصار اس بات پر ہے کہ بچی کی عمر 17 سال ہے، دوسری بات کا انحصار دعا زہرا کا بیان ہے۔ عدالت نے اُن سے استفسار کیا کہ دعا زہرا کے بیان کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟ وکیل نے بتایا کہ پولیس فائل نہ ملنے کے بعد سپریم کورٹ میں دوسری درخواست دائر کی تھی۔ وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ لاہور میں مجسٹریٹ کے پاس دعا زہرا کے والد اور کزن کے خلاف جعلی درخواست دائر کی گئی کہ والد اور کزن نے دعا زہرا اور اس کے شوہر کو ڈرایا دھمکایا ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی نگرانی میں دعا کو لاہور سے لا کر بیان ریکارڈ کرایا گیا، ایسے میں آزادانہ طور پر بیان کیسے ہوسکتا ہے؟ عدالت سے استدعا ہے کہ دعا زہرا کی عمر کے تعین کے حوالے سے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، تفتیشی افسر کو پابند کیا جائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ عمر کے تعین سے متعلق معاملہ کیوں ضروری ہے؟ وکیل نے بتایا کہ عمر کے تعین سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں۔ 16 سال کابچہ اگر اپنی مرضی سے بھی کسی کے ساتھ جاتا ہے تو وہ اغواء تصور ہوگا۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق جب دعا زہرا گئی تو اس کی عمر 13 سال 11 ماہ اور کچھ دن تھی۔ ملزم ظہیر کو بچایا جا رہا ہے کیس میں مزید تحقیقات باقی ہیں، تفتیشی افسر چاہتا ہے بچی 17 سال کی ہوجائے اور ملزم پر آنچ نہ آئے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میری سمجھ بوجھ کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت ازسر نو تفتیش اور میڈیکل بورڈ کا کہہ دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے دعا زہرا کیس میں مزید تفتیش اور لڑکی کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیا۔

کراچی : جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے دعا زہرا کیس میں مزید تفتیش اور لڑکی کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے چالان جمع کرایا کہ تحقیقات میں شواہد نہیں ملے مقدمہ سی کلاس کیا جائے۔ وکیل جبران ناصر نے پولیس چالان پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چالان کا انحصار اس بات پر ہے کہ بچی کی عمر 17 سال ہے، دوسری بات کا انحصار دعا زہرا کا بیان ہے۔ عدالت نے اُن سے استفسار کیا کہ دعا زہرا کے بیان کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟ وکیل نے بتایا کہ پولیس فائل نہ ملنے کے بعد سپریم کورٹ میں دوسری درخواست دائر کی تھی۔ وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ لاہور میں مجسٹریٹ کے پاس دعا زہرا کے والد اور کزن کے خلاف جعلی درخواست دائر کی گئی کہ والد اور کزن نے دعا زہرا اور اس کے شوہر کو ڈرایا دھمکایا ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی نگرانی میں دعا کو لاہور سے لا کر بیان ریکارڈ کرایا گیا، ایسے میں آزادانہ طور پر بیان کیسے ہوسکتا ہے؟ عدالت سے استدعا ہے کہ دعا زہرا کی عمر کے تعین کے حوالے سے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، تفتیشی افسر کو پابند کیا جائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ عمر کے تعین سے متعلق معاملہ کیوں ضروری ہے؟ وکیل نے بتایا کہ عمر کے تعین سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں۔ 16 سال کابچہ اگر اپنی مرضی سے بھی کسی کے ساتھ جاتا ہے تو وہ اغواء تصور ہوگا۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق جب دعا زہرا گئی تو اس کی عمر 13 سال 11 ماہ اور کچھ دن تھی۔ ملزم ظہیر کو بچایا جا رہا ہے کیس میں مزید تحقیقات باقی ہیں، تفتیشی افسر چاہتا ہے بچی 17 سال کی ہوجائے اور ملزم پر آنچ نہ آئے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میری سمجھ بوجھ کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا ہے۔سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت ازسر نو تفتیش اور میڈیکل بورڈ کا کہہ دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے دعا زہرا کیس میں مزید تفتیش اور لڑکی کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے دیا۔