خانگی سیاست

  Click to listen highlighted text! میری نازلی! السلام علیکم پیاری بیٹی گھر کیا ہے؟ یہ وہ دل ہے جہاں ہر طرف سے بیکار خون آتا ہے اور کارآمد خون میں تبدیل ہو کر باہر نکلتا ہے۔ یہ وہ مقا م ہے جو تھکاوٹ، پریشانی، غم، بھوک، پیاس کو رفع کرتا ہے اور سب کو تازہ دم، پر امید اور پر جوش بنا کر اپنے اپنے کام پر بھیجتا ہے۔ یہ وہ بیس لائن ہے جو آگے لڑنے والی فوج کو راشن دوا اور اسلحہ جات سپلائی کرتی ہے۔ خواہ جھونپڑی ہو، خواہ بنگلا ہو۔ گھر وہ ہے جہاں سے جسم کو راحت اور خوشی اور روح کو محبت اور ولولہ کی فراہمی ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ گھر والی اپنے گھر کو ایسا سنوارے کہ یہ مقاصد پورے ہو سکیں۔ وہ گھر جنت ہے جس میں مادی ضروریات بھی موجود ہوں اور ذہنی ضروریات بھی۔ اس لئے گھر والی کا خانہ داری۔۔باالفاظ دیگر خانگی سیاست۔۔میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ سیاست کے معنی یہ نہیں کہ دھوکا فریب، جھوٹ، بے ایمانی، ظلم اور ہر نیک و بدذریعہ سے اپنا کام نکال لینا خواہ دوسروں کا کچھ ہی نقصان ہو جائے۔ سیاست کے معنی ہیں عقل، خوش تدبیری، خوش سلیقگی اور بڑے مقصد کے لئے قربانی۔ بیٹی! اس معاملہ میں تیری رائے یقینا مختلف نہیں ہوگی۔ شادی نے تیرے سر پر گھر کی ملکہ یا مالکہ کا تاج رکھ دیا ہے۔ لیکن تاج کے لائق بنناہر کس وناکس کو نہیں آتا۔ تجھے سب سے زیادہ توجہ اپنے سرتاج کی طرف دینی ہوگی۔ شوہر: ۱۔بیٹی۔۔شوہر پر فرض ہے کہ گھر کی مادی ضروریات کے لئے آمدنی حاصل کرے اور آمدنی حاصل کرنا آسان نہیں۔ زراعت ہو یا تجارت، فن ہو یا ملازمت، لازم ہے کہ کام کرنے والے کا دل نہ صرف خوش ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ کمانے کی امنگ اور ولولہ سے پر ہو۔ اگر اسے یہ آمدنی گھر پر خرچ کرنی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ گھر اسے خوشی،سکون اور ولولہ مہیا کرے۔ اگر اسے یہ چیزیں گھر سے نہ ملیں گی تو شاید وہ ان کی تلاش میں کہیں اور نکل کھڑا ہوگا اور خدا نہ کرے اس کے قدم غلط سمت اٹھ جائیں۔ گھر سے یہ چیزیں اسی وقت مل سکتی ہیں جب بیوی فرمانبردار ہو۔ نیک سیرت اور پاک دامن ہو۔ بدمزاجی اور زبان درازی سے کوسوں دور ہو۔ فطرت کا قانون ہے کہ شوہر اسی وقت گھر کے معاملات اور خصوصاً مالی معاملات میں دلچسپی لے گا جب اسے گھر کا بادشاہ بلکہ ڈکٹیٹر تسلیم کیا جائے۔ جب اس کی لیڈری بلاشرکت اور بلا بحث اور بلاچوں و چرا ہو۔ جب اس کا حکم بیوی اور بچوں پر فوراً واجبِ تعمیل ہو۔ ۲۔اس کے غصے کو برداشت کرو۔ اور لاٹھی کا جواب تلوار سے نہ دو۔ ایک مشینی چولھے پر ہدایت یوں لکھی تھی۔ اوپر کا سوراخ کھلا رہنے دیں۔ جب فاضل گرمی خارج ہو جائے گی تو سوراخ خود بخود بند ہو جائے گا۔ ایک ہوشیار بیوی نے یہ ہدایت اپنے گرم مزاج شوہر پر چسپاں کردی۔ جب وہ زیادہ غصہ میں آتا تھا تو اس کے منہ سے فاضل گرمی خارج ہونے لگتی تھی۔ اس کے بعد سوراخ خود بخود بند ہو جایا کرتا تھا۔ ۳۔ جب تمہیں غصہ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو چوبیس گھنٹے پہلے تفصیلی پلان بنالو کہ تمہیں کس پر غصہ کرنا ہے، کس وقت، کتنا، کیوں، کن الفاظ میں اور کتنی دیر تک۔ پلاننگ کے بغیر غصہ کا نتیجہ ہمیشہ غلط آئے گا۔ جب غصہ آئے، اگر کھڑی ہو بیٹھ جاؤ، اگر بیٹھی ہو لیٹ جاؤ، اگر لیٹی ہو سو جاؤ۔غصہ کبھی ارجنٹ نہیں ہوتا۔ ۴۔شوہر کے کام میں اس کے معاملات میں اس کی پسند و ناپسند میں اس کی دلچسپی میں دلچسپی لو۔ عملی دلچسپی۔ ایک لڑکی نے شادی کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا! مجھے اس کو حاصل کرنے کے لئے فارسی زبان کے ہر عظیم شاعر کا نام، خاندان، حالات زندگی اور اس کے بہترین اشعار یاد کرنے پڑے کیونکہ میرا منگیتر فارسی شاعری سے بڑی دلچسپی رکھتا تھا۔ ۵۔ اسے محسوس ہونے دو……باربار اور ہر بار نئے انداز میں کہ تمہیں اس کی ضرورت ہے۔ تمہیں اس کی ضرورت ہے۔ تمہیں اس سے محبت ہے۔ کبھی کبھی تم پیش قدمی کرو۔ ۶۔ اگر وہ اپنی تعریف آپ کررہا ہے، سمجھ جاؤ کہ وہ تعریف کا بھوکا ہے۔ تمہاری طرف سے۔ ۷۔ جب وہ ناکامی اور افتاد سے نڈھال ہو تو اس کی ہمت بڑھا اور اس کی کامیابی کے دنوں، ماضی اور مستقبل کو ذکر کرو۔ تیرا بہترین تحفہ کسی شخص کی خدمت میں وہ اچھی یادیں اور وہ اچھے تصورات ہیں جو تیری بدولت اسے نصیب ہوں۔ اپنی طرف سے وہ واقعات بنا جو اچھی یادیں چھوڑ جائیں اور مستقبل کو اتنا دلکش بنا کر پیش کر کہ حوصلہ، ہمت اور ارادہ پیدا ہو جائے۔ ۸۔ تنقید بڑی کارگر چیز ہے لیکن اس کے لئے وقت، طریقہ اور الفاظ کا صحیح انتخاب ہر شخص کو نہیں آتا۔ یہ تدبیریں صرف شوہر ہی کے ساتھ نہیں بلکہ گھر اور باہر کے دوسرے افراد کے ساتھ بھی آزمانا ضروری ہیں کہ وہ سب تیرے دوست بن جائیں۔ ساس، نند وغیرہ: ساس اور نند، خصوصاً بیوہ ساس یا بیوہ نند کے ساتھ سعادت اور خدمت کے ساتھ پیش آنا ان کی دعائیں لینا ہے اور بے کسوں اور بے بسوں، مصیبت زدوں کی دعائیں درگاہ الہٰی میں سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہیں اور اپنے والدین کا نام روشن کرنا کہ انہوں نے تجھے ایسی تربیت دی۔ پیاری نازلی! گھر میں مندرجہ ذیل فضا ہرگز پیدا نہیں ہونی چاہیے خصوصاً تیری طرف سے۔ اگر کسی اور کی طرف سے یہ تلخ فضا پیدا ہوئی ہے تو فوری سدباب کرکہ ممکن ہے اس کی لپیٹ میں تو یاتیرا شوہر آجائے۔ ۱۔گھر کے دو افراد کے درمیان صاحب سلامت اور بات چیت بند ہو جائے۔ ۲۔گھر کے کسی فرد کو یہ صحیح یا غلط فہمی ہو جائے کہ ضروری باتیں اس سے چھپائی جارہی ہیں یا اس کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں یا اس کی صحبت سے گریز کیا جارہا ہے۔ ۳۔ گھر میں اقتدار کی رسہ کشی ہورہی ہے۔ ۴۔ کسی مخصوص فرد کو تضحیک و تذلیل کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کے ہر اچھے اور برے کام پر خواہ مخواہ نکتہ چینی کی جارہی ہے اور جو مقام و عزت اسے چھوٹوں یا بزرگوں کی صف میں ملنا چاہیے وہ اسے نہیں مل رہا۔ ۵۔ گھر میں چوری ہو رہی ہو یا بے ایمانی ہورہی ہو چیزوں کی یا نقدی کی۔ ۶۔ کوئی گھر کے راز باہر فاش کررہا ہو۔ ۷۔ کوئی بے وفائی کررہا ہو۔ اس کی دلچسپی گھر سے یا گھر والوں سے کم یا ختم ہوگئی ہے اور وہ ادھر ادھر روپے ضائع کررہا ہے۔ حتی الامکان یہ حالات پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا دور سے اٹھتا ہوا غبار بھی خطرناک ہے۔ اگر تو ایک ایسا فریق ہے توفی الفور اپنی اصلاح کر۔ شاید اس کے لئے تجھے کچھ قربانی دینی پڑے لیکن اگر کسی اور فرد یا افراد پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو مجرم کا پتہ لگا۔ ممکن ہے تجھے کچھ جاسوسی استعمال کرنی پڑے۔ اگر دو افراد میں بول چال بند ہے یا تلخی ہے یا جنگ ہے تو تیرا فرض عین ہے کہ بیچ میں پڑ کر مصالحت کرادے۔ فریقین سے الگ الگ مل کر ان کے نقطہ ہائے نظر سن، صحیح وجہ کو دریافت اور اس کی روک تھام کر۔ کوئی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہو تو دور کرادے اور گھر میں جائز خوشی اور دلچسپی کا سامان پیدا کر۔ اس سلسلہ میں چائے یا کھانے کی دعوت کا حربہ بہت کارگر ہوتا ہے۔

میری نازلی! السلام علیکم
پیاری بیٹی گھر کیا ہے؟ یہ وہ دل ہے جہاں ہر طرف سے بیکار خون آتا ہے اور کارآمد خون میں تبدیل ہو کر باہر نکلتا ہے۔ یہ وہ مقا م ہے جو تھکاوٹ، پریشانی، غم، بھوک، پیاس کو رفع کرتا ہے اور سب کو تازہ دم، پر امید اور پر جوش بنا کر اپنے اپنے کام پر بھیجتا ہے۔ یہ وہ بیس لائن ہے جو آگے لڑنے والی فوج کو راشن دوا اور اسلحہ جات سپلائی کرتی ہے۔ خواہ جھونپڑی ہو، خواہ بنگلا ہو۔ گھر وہ ہے جہاں سے جسم کو راحت اور خوشی اور روح کو محبت اور ولولہ کی فراہمی ہوتی ہے۔
ضروری ہے کہ گھر والی اپنے گھر کو ایسا سنوارے کہ یہ مقاصد پورے ہو سکیں۔ وہ گھر جنت ہے جس میں مادی ضروریات بھی موجود ہوں اور ذہنی ضروریات بھی۔ اس لئے گھر والی کا خانہ داری۔۔باالفاظ دیگر خانگی سیاست۔۔میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ سیاست کے معنی یہ نہیں کہ دھوکا فریب، جھوٹ، بے ایمانی، ظلم اور ہر نیک و بدذریعہ سے اپنا کام نکال لینا خواہ دوسروں کا کچھ ہی نقصان ہو جائے۔ سیاست کے معنی ہیں عقل، خوش تدبیری، خوش سلیقگی اور بڑے مقصد کے لئے قربانی۔ بیٹی! اس معاملہ میں تیری رائے یقینا مختلف نہیں ہوگی۔
شادی نے تیرے سر پر گھر کی ملکہ یا مالکہ کا تاج رکھ دیا ہے۔ لیکن تاج کے لائق بنناہر کس وناکس کو نہیں آتا۔ تجھے سب سے زیادہ توجہ اپنے سرتاج کی طرف دینی ہوگی۔
شوہر:
۱۔بیٹی۔۔شوہر پر فرض ہے کہ گھر کی مادی ضروریات کے لئے آمدنی حاصل کرے اور آمدنی حاصل کرنا آسان نہیں۔ زراعت ہو یا تجارت، فن ہو یا ملازمت، لازم ہے کہ کام کرنے والے کا دل نہ صرف خوش ہو بلکہ زیادہ سے زیادہ کمانے کی امنگ اور ولولہ سے پر ہو۔ اگر اسے یہ آمدنی گھر پر خرچ کرنی ہے تو انصاف کا تقاضا ہے کہ گھر اسے خوشی،سکون اور ولولہ مہیا کرے۔ اگر اسے یہ چیزیں گھر سے نہ ملیں گی تو شاید وہ ان کی تلاش میں کہیں اور نکل کھڑا ہوگا اور خدا نہ کرے اس کے قدم غلط سمت اٹھ جائیں۔ گھر سے یہ چیزیں اسی وقت مل سکتی ہیں جب بیوی فرمانبردار ہو۔ نیک سیرت اور پاک دامن ہو۔ بدمزاجی اور زبان درازی سے کوسوں دور ہو۔ فطرت کا قانون ہے کہ شوہر اسی وقت گھر کے معاملات اور خصوصاً مالی معاملات میں دلچسپی لے گا جب اسے گھر کا بادشاہ بلکہ ڈکٹیٹر تسلیم کیا جائے۔ جب اس کی لیڈری بلاشرکت اور بلا بحث اور بلاچوں و چرا ہو۔ جب اس کا حکم بیوی اور بچوں پر فوراً واجبِ تعمیل ہو۔
۲۔اس کے غصے کو برداشت کرو۔ اور لاٹھی کا جواب تلوار سے نہ دو۔ ایک مشینی چولھے پر ہدایت یوں لکھی تھی۔ اوپر کا سوراخ کھلا رہنے دیں۔ جب فاضل گرمی خارج ہو جائے گی تو سوراخ خود بخود بند ہو جائے گا۔
ایک ہوشیار بیوی نے یہ ہدایت اپنے گرم مزاج شوہر پر چسپاں کردی۔ جب وہ زیادہ غصہ میں آتا تھا تو اس کے منہ سے فاضل گرمی خارج ہونے لگتی تھی۔ اس کے بعد سوراخ خود بخود بند ہو جایا کرتا تھا۔
۳۔ جب تمہیں غصہ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو چوبیس گھنٹے پہلے تفصیلی پلان بنالو کہ تمہیں کس پر غصہ کرنا ہے، کس وقت، کتنا، کیوں، کن الفاظ میں اور کتنی دیر تک۔ پلاننگ کے بغیر غصہ کا نتیجہ ہمیشہ غلط آئے گا۔
جب غصہ آئے، اگر کھڑی ہو بیٹھ جاؤ، اگر بیٹھی ہو لیٹ جاؤ، اگر لیٹی ہو سو جاؤ۔غصہ کبھی ارجنٹ نہیں ہوتا۔
۴۔شوہر کے کام میں اس کے معاملات میں اس کی پسند و ناپسند میں اس کی دلچسپی میں دلچسپی لو۔ عملی دلچسپی۔
ایک لڑکی نے شادی کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا! مجھے اس کو حاصل کرنے کے لئے فارسی زبان کے ہر عظیم شاعر کا نام، خاندان، حالات زندگی اور اس کے بہترین اشعار یاد کرنے پڑے کیونکہ میرا منگیتر فارسی شاعری سے بڑی دلچسپی رکھتا تھا۔
۵۔ اسے محسوس ہونے دو……باربار اور ہر بار نئے انداز میں کہ تمہیں اس کی ضرورت ہے۔ تمہیں اس کی ضرورت ہے۔ تمہیں اس سے محبت ہے۔ کبھی کبھی تم پیش قدمی کرو۔
۶۔ اگر وہ اپنی تعریف آپ کررہا ہے، سمجھ جاؤ کہ وہ تعریف کا بھوکا ہے۔ تمہاری طرف سے۔
۷۔ جب وہ ناکامی اور افتاد سے نڈھال ہو تو اس کی ہمت بڑھا اور اس کی کامیابی کے دنوں، ماضی اور مستقبل کو ذکر کرو۔
تیرا بہترین تحفہ کسی شخص کی خدمت میں وہ اچھی یادیں اور وہ اچھے تصورات ہیں جو تیری بدولت اسے نصیب ہوں۔ اپنی طرف سے وہ واقعات بنا جو اچھی یادیں چھوڑ جائیں اور مستقبل کو اتنا دلکش بنا کر پیش کر کہ حوصلہ، ہمت اور ارادہ پیدا ہو جائے۔
۸۔ تنقید بڑی کارگر چیز ہے لیکن اس کے لئے وقت، طریقہ اور الفاظ کا صحیح انتخاب ہر شخص کو نہیں آتا۔ یہ تدبیریں صرف شوہر ہی کے ساتھ نہیں بلکہ گھر اور باہر کے دوسرے افراد کے ساتھ بھی آزمانا ضروری ہیں کہ وہ سب تیرے دوست بن جائیں۔
ساس، نند وغیرہ:
ساس اور نند، خصوصاً بیوہ ساس یا بیوہ نند کے ساتھ سعادت اور خدمت کے ساتھ پیش آنا ان کی دعائیں لینا ہے اور بے کسوں اور بے بسوں، مصیبت زدوں کی دعائیں درگاہ الہٰی میں سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہیں اور اپنے والدین کا نام روشن کرنا کہ انہوں نے تجھے ایسی تربیت دی۔
پیاری نازلی! گھر میں مندرجہ ذیل فضا ہرگز پیدا نہیں ہونی چاہیے خصوصاً تیری طرف سے۔ اگر کسی اور کی طرف سے یہ تلخ فضا پیدا ہوئی ہے تو فوری سدباب کرکہ ممکن ہے اس کی لپیٹ میں تو یاتیرا شوہر آجائے۔
۱۔گھر کے دو افراد کے درمیان صاحب سلامت اور بات چیت بند ہو جائے۔
۲۔گھر کے کسی فرد کو یہ صحیح یا غلط فہمی ہو جائے کہ ضروری باتیں اس سے چھپائی جارہی ہیں یا اس کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں یا اس کی صحبت سے گریز کیا جارہا ہے۔
۳۔ گھر میں اقتدار کی رسہ کشی ہورہی ہے۔
۴۔ کسی مخصوص فرد کو تضحیک و تذلیل کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کے ہر اچھے اور برے کام پر خواہ مخواہ نکتہ چینی کی جارہی ہے اور جو مقام و عزت اسے چھوٹوں یا بزرگوں کی صف میں ملنا چاہیے وہ اسے نہیں مل رہا۔
۵۔ گھر میں چوری ہو رہی ہو یا بے ایمانی ہورہی ہو چیزوں کی یا نقدی کی۔
۶۔ کوئی گھر کے راز باہر فاش کررہا ہو۔
۷۔ کوئی بے وفائی کررہا ہو۔ اس کی دلچسپی گھر سے یا گھر والوں سے کم یا ختم ہوگئی ہے اور وہ ادھر ادھر روپے ضائع کررہا ہے۔
حتی الامکان یہ حالات پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ ان کا دور سے اٹھتا ہوا غبار بھی خطرناک ہے۔ اگر تو ایک ایسا فریق ہے توفی الفور اپنی اصلاح کر۔ شاید اس کے لئے تجھے کچھ قربانی دینی پڑے لیکن اگر کسی اور فرد یا افراد پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو مجرم کا پتہ لگا۔ ممکن ہے تجھے کچھ جاسوسی استعمال کرنی پڑے۔ اگر دو افراد میں بول چال بند ہے یا تلخی ہے یا جنگ ہے تو تیرا فرض عین ہے کہ بیچ میں پڑ کر مصالحت کرادے۔ فریقین سے الگ الگ مل کر ان کے نقطہ ہائے نظر سن، صحیح وجہ کو دریافت اور اس کی روک تھام کر۔ کوئی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہو تو دور کرادے اور گھر میں جائز خوشی اور دلچسپی کا سامان پیدا کر۔ اس سلسلہ میں چائے یا کھانے کی دعوت کا حربہ بہت کارگر ہوتا ہے۔