ٹی ٹی پی کیساتھ مذاکرات میں ڈیڈلاک؟

  Click to listen highlighted text! رپورٹ: سید عدیل زیدی حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مابین افغان طالبان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کا ایک اور دور گذشتہ ہفتہ کابل میں ہوا، جس میں پاکستان سے گئے جرگہ نے بھی شرکت کی، اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ بعض امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد کسی حد تک اتفاق رائے پایا گیا، تاہم بعض معاملات پر ڈیڈلاک برقرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دو روز قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی اور بتایا کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی میں دو دن قبل مذاکرات مکمل ہوئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس بار مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی میں مذاکرات کے لیے ہمارا کردار ثالث کا ہے، مذاکرات ناکام ہوئے تو کسی کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ ترجمان افغان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان غیر معینہ مدت تک طویل جنگ بندی کا اعلان کرچکے ہیں، جنگ بندی سے حملوں کا سلسلہ رکا رہے گا۔ دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے حالیہ دور کو مکمل طور پر کامیاب نہیں قرار دیا جاسکتا، بعض معاملات پر ڈیڈلاک اب بھی برقرار ہے، ٹی ٹی پی کا فاٹا انضمام کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ حکومت پاکستان کیلئے ناقابل قبول حیثیت رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بعض قبائلی مشران بھی ٹی ٹی پی کے اس موقف کے حامی ہیں کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام نہیں ہونا چاہیئے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جرگے کے ایک رکن بریگیڈیئر (ر) نظیر نے کہا کہ ہم آج بھی اس بنیادی نقطے پر متفق ہیں کہ قائداعظم کی موجودگی میں قبائلی جرگے نے پاکستان کے ساتھ جو الحاق کیا تھا، اسی کے تحت قبائلی علاقوں کو حیثیت دی جائے، قبائل کیلئے وہی کافی اور مکمل ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے امن کیلئے سہولت کاری کی، اب افغانستان، پاکستان اور طالبان کے مابین سہولت کاری کرے، کیونکہ جنگوں سے نقصان ہوتا ہے، تاہم نتیجہ یہ نکلنا چاہیئے کہ دیرپا امن ہو اور پاکستان کو فائدہ ہو، امن سے بڑی دولت دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ اس وقت افغان طالبان کی کوشش ہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی داخلی طور پر مشکلات کا سامنا تھا، کیونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد زندہ بچ جانے والے دہشتگرد بڑی تعداد میں افغانستان بھاگ گئے تھے۔ بعض صحافتی حلقے اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے دوران ٹی ٹی پی کو مشکلات نہیں تھیں اور نہ ہی پاکستانی طالبان نے امریکہ کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان چاہتے تھے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرد ان کی سرزمین پر نہ رہیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ (تحریک طالبان پاکستان) افغانستان میں موجودگی کے دوران داعش کیساتھ ملکر ان کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، لہذا افغان طالبان نے اپنی سرزمین کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کیلئے کردار ادا کیا۔ جب افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہوا تو حکومت پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کیساتھ معاملہ اٹھایا گیا، پاکستان نے ٹی ٹی پی کو مزید حملے کرنے سے روکنے کے لیے فضائی حملے کیے جبکہ ساتھ ہی ساتھ کابل انتظامیہ کو واضح انتباہ جاری کیا کہ وہ سرحد پار سے مزید حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ دھمکی آمیز پیغام کے ساتھ فضائی حملوں نے افغان طالبان کی حکومت پر دباو بڑھایا اور معاملات مذاکرات کی میز تک پہنچے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی اتحادی حکومت بھی تحریک طالبان پاکستان کیساتھ جاری مذاکرات کے معاملہ پر ایک پیج پر نہیں، اس کے علاوہ پاکستان میں دہشتگردی سے براہ راست متاثرہ طبقات بھی اس مذاکراتی عمل کیخلاف موقف رکھتے ہیں۔ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح طور پر اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد میں سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کا ہائبرڈ اجلاس ہوا، جس میں پارٹی کی سینیئر قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دہشتگردی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں بالخصوص تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بات ہوئی، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمان میں تمام فیصلے ہونے پر یقین رکھتی ہے، ہم اتحادی جماعتوں سے رابطہ کرکے آگے بڑھنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ پی پی کے اس حوالے سے تحفظات بالکل درست ہیں، موجودہ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار کرنا ہوگا، ملک کے اہم فیصلے پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کو بائے پاس کرکے نہیں ہونے چاہئیں، کوئی بھی پاکستان کا شہری امن کیخلاف نہیں، تاہم امن دیرپا، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد اور مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم ہونا چاہیئے اور پاکستان کے بچوں کے ظالم قاتل مولوی فضل اللہ جیسے دہشتگردوں کی معافی پاکستان کے عوام کیلئے ناقابل قبول ہوگی۔

رپورٹ: سید عدیل زیدی

حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مابین افغان طالبان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کا ایک اور دور گذشتہ ہفتہ کابل میں ہوا، جس میں پاکستان سے گئے جرگہ نے بھی شرکت کی، اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ بعض امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد کسی حد تک اتفاق رائے پایا گیا، تاہم بعض معاملات پر ڈیڈلاک برقرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دو روز قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی اور بتایا کہ پاکستان اور ٹی ٹی پی میں دو دن قبل مذاکرات مکمل ہوئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس بار مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ جائیں۔ حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی میں مذاکرات کے لیے ہمارا کردار ثالث کا ہے، مذاکرات ناکام ہوئے تو کسی کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ ترجمان افغان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان غیر معینہ مدت تک طویل جنگ بندی کا اعلان کرچکے ہیں، جنگ بندی سے حملوں کا سلسلہ رکا رہے گا۔

دوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے حالیہ دور کو مکمل طور پر کامیاب نہیں قرار دیا جاسکتا، بعض معاملات پر ڈیڈلاک اب بھی برقرار ہے، ٹی ٹی پی کا فاٹا انضمام کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ حکومت پاکستان کیلئے ناقابل قبول حیثیت رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بعض قبائلی مشران بھی ٹی ٹی پی کے اس موقف کے حامی ہیں کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام نہیں ہونا چاہیئے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جرگے کے ایک رکن بریگیڈیئر (ر) نظیر نے کہا کہ ہم آج بھی اس بنیادی نقطے پر متفق ہیں کہ قائداعظم کی موجودگی میں قبائلی جرگے نے پاکستان کے ساتھ جو الحاق کیا تھا، اسی کے تحت قبائلی علاقوں کو حیثیت دی جائے، قبائل کیلئے وہی کافی اور مکمل ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے امن کیلئے سہولت کاری کی، اب افغانستان، پاکستان اور طالبان کے مابین سہولت کاری کرے، کیونکہ جنگوں سے نقصان ہوتا ہے، تاہم نتیجہ یہ نکلنا چاہیئے کہ دیرپا امن ہو اور پاکستان کو فائدہ ہو، امن سے بڑی دولت دنیا میں کوئی نہیں ہے۔

اس وقت افغان طالبان کی کوشش ہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کی جانب سے بھی داخلی طور پر مشکلات کا سامنا تھا، کیونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد زندہ بچ جانے والے دہشتگرد بڑی تعداد میں افغانستان بھاگ گئے تھے۔ بعض صحافتی حلقے اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے دوران ٹی ٹی پی کو مشکلات نہیں تھیں اور نہ ہی پاکستانی طالبان نے امریکہ کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان چاہتے تھے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرد ان کی سرزمین پر نہ رہیں، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ (تحریک طالبان پاکستان) افغانستان میں موجودگی کے دوران داعش کیساتھ ملکر ان کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، لہذا افغان طالبان نے اپنی سرزمین کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کیلئے کردار ادا کیا۔

جب افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشتگردانہ حملوں میں اضافہ ہوا تو حکومت پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کیساتھ معاملہ اٹھایا گیا، پاکستان نے ٹی ٹی پی کو مزید حملے کرنے سے روکنے کے لیے فضائی حملے کیے جبکہ ساتھ ہی ساتھ کابل انتظامیہ کو واضح انتباہ جاری کیا کہ وہ سرحد پار سے مزید حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ دھمکی آمیز پیغام کے ساتھ فضائی حملوں نے افغان طالبان کی حکومت پر دباو بڑھایا اور معاملات مذاکرات کی میز تک پہنچے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی اتحادی حکومت بھی تحریک طالبان پاکستان کیساتھ جاری مذاکرات کے معاملہ پر ایک پیج پر نہیں، اس کے علاوہ پاکستان میں دہشتگردی سے براہ راست متاثرہ طبقات بھی اس مذاکراتی عمل کیخلاف موقف رکھتے ہیں۔ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح طور پر اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چند روز قبل اسلام آباد میں سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کا ہائبرڈ اجلاس ہوا، جس میں پارٹی کی سینیئر قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس میں حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دہشتگردی سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس میں بالخصوص تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والی حالیہ پیش رفت پر بات ہوئی، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمان میں تمام فیصلے ہونے پر یقین رکھتی ہے، ہم اتحادی جماعتوں سے رابطہ کرکے آگے بڑھنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ پی پی کے اس حوالے سے تحفظات بالکل درست ہیں، موجودہ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار کرنا ہوگا، ملک کے اہم فیصلے پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کو بائے پاس کرکے نہیں ہونے چاہئیں، کوئی بھی پاکستان کا شہری امن کیخلاف نہیں، تاہم امن دیرپا، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد اور مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم ہونا چاہیئے اور پاکستان کے بچوں کے ظالم قاتل مولوی فضل اللہ جیسے دہشتگردوں کی معافی پاکستان کے عوام کیلئے ناقابل قبول ہوگی۔