ممکنہ جنگ کیلئے مسلسل تیاری نے اسرائیل کو لبنان کیخلاف فوجی جارحیت سے باز رکھا ہے، حزب اللہ

  Click to listen highlighted text! بیروت : حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت لبنان پر حملہ کرنے سے قاصر ہے۔حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کے لیے مسلسل تیاری نے صیہونی حکومت کو لبنان کے خلاف نئی فوجی جارحیت شروع کرنے سے باز رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں جارحیت کے بعد سے اب تک صیہونی حکومت لبنان کے خلاف نئی فوجی جارحیت میں ناکام رہی ہے اس کے باوجود حزب اللہ ہمیشہ کسی بھی تصادم کے لیے تیار ہے، چاہے وہ ہمہ گیر جنگ کی سطح تک پہنچ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حزب اللہ نے مزاحمت کی تیاری نہ ہوتی تو صیہونی حکومت یقینی طور پر میدانی کامیابیوں اور اپنے سیاسی شوز کے حصول کے لیے لبنان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش کرتی۔ انہوں نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران لبنان کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی پیش رفت میں حزب اللہ کی کامیاب شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور عظیم فتوحات کو 40 سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیابیاں خطے میں اہم پیشرفت، صیہونی-امریکی منصوبے کی ناکامی، علاقائی اقوام کی بیداری اور بغاوت اور فلسطین اور قدس کے مسائل کے احیاء سے ہم آہنگ ہیں۔

بیروت : حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت لبنان پر حملہ کرنے سے قاصر ہے۔حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کے لیے مسلسل تیاری نے صیہونی حکومت کو لبنان کے خلاف نئی فوجی جارحیت شروع کرنے سے باز رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں جارحیت کے بعد سے اب تک صیہونی حکومت لبنان کے خلاف نئی فوجی جارحیت میں ناکام رہی ہے اس کے باوجود حزب اللہ ہمیشہ کسی بھی تصادم کے لیے تیار ہے، چاہے وہ ہمہ گیر جنگ کی سطح تک پہنچ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حزب اللہ نے مزاحمت کی تیاری نہ ہوتی تو صیہونی حکومت یقینی طور پر میدانی کامیابیوں اور اپنے سیاسی شوز کے حصول کے لیے لبنان کے خلاف جنگ چھیڑنے کی کوشش کرتی۔ انہوں نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران لبنان کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی پیش رفت میں حزب اللہ کی کامیاب شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور عظیم فتوحات کو 40 سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیابیاں خطے میں اہم پیشرفت، صیہونی-امریکی منصوبے کی ناکامی، علاقائی اقوام کی بیداری اور بغاوت اور فلسطین اور قدس کے مسائل کے احیاء سے ہم آہنگ ہیں۔