کالعدم ٹی ٹی پی کے بعض گروہوں سے مذاکرات جاری ہیں، طالبان ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معافی مل سکتی ہے، عمران خان

  Click to listen highlighted text! اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، نتیجے کا علم نہیں تاہم افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہے، طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں تو انہیں معافی مل سکتی ہے، بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعطم عمران خان نے کہا کہ ہم امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے، ہمیشہ کہا افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ امریکا طالبان کو کب تسلیم کرے گا ؟ افراتفری پھیلنے سے سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہوگا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستانیوں کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے بھاری قیمت ادا کی، ہماری تعریف کے بجائے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، 2011 میں جنرل کیانی نے صدر اوباما سے ملاقات کی تھی، جنرل کیانی نے اوباما کو بتایا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، کسی بھی مسئلے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی تاریخ کا قریبی تعلق ہے، افغان سرحد کے دونوں اطراف پشتون قبائل قیام پذیر ہیں، افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا علم نہیں لیکن ان کیلئے دعاگو ہوں، افغانستان کو ڈکٹیٹ کرنا ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوگی، امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہیں، غصہ اترا تو امریکا سوچے گا کس وجہ سے افغان فوج نے ہتھیار ڈالے، صدر جوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباؤ میں ہیں، ان سے ہمدردی ہے، انہیں اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ افغانوں کو کسی کے زیر تسلط نہیں لایا جاسکتا۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، وہ محض بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ فیملی لیمٹڈ کمپنیاں ہیں، یہ 2 خاندان ہیں جنہوں نے ملک کو لوٹا، اس وقت وہ ابتری کا شکار ہیں، اپوزیشن کو اس بات کا احساس نہیں پاکستان نے کورونا وبا کا بہتر انداز سے مقابلہ کیا، ہم ان 4 ممالک میں سے تھے جنہوں نے نا صرف اپنے لوگوں کو کورونا وبا سے بچایا بلکہ معاشی بدحالی سے بھی محفوظ رکھا۔ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کر رہے ہیں، انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری یکساں رویہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے چین کے ساتھ بہت مستحکم تعلقات ہیں، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوئے۔

اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، نتیجے کا علم نہیں تاہم افغان سر زمین پر مذاکرات ہو رہے ہے، طالبان ہتھیار ڈالنے پر رضامند ہوجائیں تو انہیں معافی مل سکتی ہے، بلوچ عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔ ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعطم عمران خان نے کہا کہ ہم امن کیلئے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق ہمسایہ ممالک سے بات چیت جاری ہے، ہمیشہ کہا افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ امریکا طالبان کو کب تسلیم کرے گا ؟ افراتفری پھیلنے سے سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہوگا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستانیوں کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے بھاری قیمت ادا کی، ہماری تعریف کے بجائے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، 2011 میں جنرل کیانی نے صدر اوباما سے ملاقات کی تھی، جنرل کیانی نے اوباما کو بتایا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، کسی بھی مسئلے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی تاریخ کا قریبی تعلق ہے، افغان سرحد کے دونوں اطراف پشتون قبائل قیام پذیر ہیں، افغانستان نے کبھی بیرونی طاقتوں کو قبول نہیں کیا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغانستان کے مستقبل کا علم نہیں لیکن ان کیلئے دعاگو ہوں، افغانستان کو ڈکٹیٹ کرنا ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوگی، امریکی قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہیں، غصہ اترا تو امریکا سوچے گا کس وجہ سے افغان فوج نے ہتھیار ڈالے، صدر جوبائیڈن اس وقت بہت زیادہ دباؤ میں ہیں، ان سے ہمدردی ہے، انہیں اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ افغانوں کو کسی کے زیر تسلط نہیں لایا جاسکتا۔ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، وہ محض بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ فیملی لیمٹڈ کمپنیاں ہیں، یہ 2 خاندان ہیں جنہوں نے ملک کو لوٹا، اس وقت وہ ابتری کا شکار ہیں، اپوزیشن کو اس بات کا احساس نہیں پاکستان نے کورونا وبا کا بہتر انداز سے مقابلہ کیا، ہم ان 4 ممالک میں سے تھے جنہوں نے نا صرف اپنے لوگوں کو کورونا وبا سے بچایا بلکہ معاشی بدحالی سے بھی محفوظ رکھا۔
مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے ہر فورم پر اجاگر کر رہے ہیں، انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی برادری یکساں رویہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے چین کے ساتھ بہت مستحکم تعلقات ہیں، پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوئے۔