عرب اتحاد کی صنعا پر قبضے اور انتشار پھیلانے کی سازشیں ناکام ہوگئیں، سربراہ انصار اللہ

  Click to listen highlighted text! صنعا : انصار اللہ کے سربراہ سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے کہاہے کہ جارح سعودی اتحاد صنعا پر قبضے اور وہاں فساد وانتشار پھیلانے میں ناکام ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ یمنی عوام نے جارح اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے صنعا پر انحصار و بھروسہ کیا تھا جس نے مختلف صوبوں کے مہاجرین کی میزبانی کی تھی۔ صنعا آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور سعودی اتحاد نے صنعا پر بڑے پیمانے پر بمباری کی اور اس میں انتہائی گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا، صنعا کے خلاف ممنوعہ بین الاقوامی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور بڑے فوجی حملوں کے ذریعے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی, دشمنوں نے صنعا پر قبضے کے لیے بڑے فوجی حملوں کی تیاری کی تھی اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے تھے، انہوں نے صنعا پر قبضے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن آخر کار انہیں یقین ہو گیا کہ صنعا بہت دور ہے اور کہنے لگے کہ ریاض قریب ہے انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں میں سے ایک سازش صنعا کو اندر سے اکھاڑ پھینکنا ہے اور گزشتہ دسمبر میں ہونے والے فتنے کو خدا کی مدد سے ناکام بنا دیا گیا۔ شہریوں کو سیکورٹیث آپریشنز اور کار بم دھماکوں میں نشانہ بنانے کے لیے سعودی جارح اتحاد کے دھماکوں کے منصوبوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان میں سے بہت سی سازشیں خدا کی مدد سے ناکام ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن اقتصادی دباؤ اور ناداری و غریبی کے ذریعے عوام کو افراتفری اور خانہ جنگی کی طرف لے جائیں گے لیکن عوام کی بیداری کی سطح بالخصوص صنعا میں دشمنوں کو چونکا دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دشمن جو یمن کے خلاف جنگ کو دو ہفتوں یا دو ماہ میں مکمل کرنے کی امید رکھتے تھے، اب آٹھویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور نا امید محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ہماری قوم نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا تھا لیکن انہوں نے امریکہ پر بھروسہ کیا اور صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے زور دے کر کہا کہ قوم نے کسی پر حملہ نہیں کیا ہے لیکن یہ کوئی آسان لقمہ نہیں ہے اور دشمنوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ یمن کے خلاف جارحیت کا جاری رہنا بے سود ہے اور وہ کبھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔

صنعا : انصار اللہ کے سربراہ سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے کہاہے کہ جارح سعودی اتحاد صنعا پر قبضے اور وہاں فساد وانتشار پھیلانے میں ناکام ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ یمنی عوام نے جارح اتحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے صنعا پر انحصار و بھروسہ کیا تھا جس نے مختلف صوبوں کے مہاجرین کی میزبانی کی تھی۔ صنعا آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور سعودی اتحاد نے صنعا پر بڑے پیمانے پر بمباری کی اور اس میں انتہائی گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا، صنعا کے خلاف ممنوعہ بین الاقوامی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور بڑے فوجی حملوں کے ذریعے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی, دشمنوں نے صنعا پر قبضے کے لیے بڑے فوجی حملوں کی تیاری کی تھی اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے تھے، انہوں نے صنعا پر قبضے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن آخر کار انہیں یقین ہو گیا کہ صنعا بہت دور ہے اور کہنے لگے کہ ریاض قریب ہے انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ دشمنوں کی سازشوں میں سے ایک سازش صنعا کو اندر سے اکھاڑ پھینکنا ہے اور گزشتہ دسمبر میں ہونے والے فتنے کو خدا کی مدد سے ناکام بنا دیا گیا۔ شہریوں کو سیکورٹیث آپریشنز اور کار بم دھماکوں میں نشانہ بنانے کے لیے سعودی جارح اتحاد کے دھماکوں کے منصوبوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان میں سے بہت سی سازشیں خدا کی مدد سے ناکام ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن اقتصادی دباؤ اور ناداری و غریبی کے ذریعے عوام کو افراتفری اور خانہ جنگی کی طرف لے جائیں گے لیکن عوام کی بیداری کی سطح بالخصوص صنعا میں دشمنوں کو چونکا دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دشمن جو یمن کے خلاف جنگ کو دو ہفتوں یا دو ماہ میں مکمل کرنے کی امید رکھتے تھے، اب آٹھویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور نا امید محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ہماری قوم نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا تھا لیکن انہوں نے امریکہ پر بھروسہ کیا اور صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ سید عبد الملک بدر الدین الحوثی نے زور دے کر کہا کہ قوم نے کسی پر حملہ نہیں کیا ہے لیکن یہ کوئی آسان لقمہ نہیں ہے اور دشمنوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ یمن کے خلاف جارحیت کا جاری رہنا بے سود ہے اور وہ کبھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔