مجلس غم میں آﺅ سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ

  Click to listen highlighted text! آج جب کاشانہ مرتضیٰ ؑ میں مجلس شروع ہوئی تو محترمہ نایاب کی بیٹی پر شکوہ لباس میں چہرے پر مسکراہٹ لئے فرش عزا پر آکر بیٹھ گئی پھر جب تک مجلس ختم نہ ہوئی اس کے چہرے سے مسکراہٹ بھی جدا نہ ہوئی محترمہ نایاب کی بیٹی فروا کی عادت تھی کہ ہر محفل خواہ مسرت کی ہو یا غم کی ہر جگہ ہنسی مذاق کا موضوع تلاش کرلیا کرتی چاہے کسی کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے آج بھی مجلس عزا میں وہ مسلسل اپنی ساتھی سے محو گفتگو رہی ذاکرہ کی گفتگو پر توجہ دینے کے بجائے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے ہنستی رہی جبکہ ہمیں مجالس عزاءمیں سوگ کے ماحول میں رہنا چاہیے جیسے کسی کی عزیز کی مرنے پر اسے پرسہ دیتے ہیں تو چہرے پر سنجیدگی ہوتی ہے اور غم زدوں کا خیال رہتا ہے اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس عزا میں آئیں تو سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ کیونکہ ہماری بی بی سیدہ ؑ ہم سے پہلے وہاں موجود ہوتی ہیں کیا ہم کو زیب دیتا ہے کہ ہم غم میں آئیں تو جدید فیشن کے لباس میں چہرے پر ہنسی سجائے ہوئے ہم تو کنیزان زہرہ ؑ ہیں اور پرسہ داران ام البنین! کیا ہم اپنی شہزادی کو اپنے انداز و تاثرات سے اور غم زدہ کرنا چاہتے ہیں؟ہمارے مولا حضرت سجاد ؑ نے فرمایا کہ اگر اس طرح کے لباس پہنے جائیں جس میں دکھاوا ہو کہ لوگ متوجہ ہوں تو روز قیامت اسے آگ کا پہراہن پہنایا جائے گا پس ہمیں چاہیے کہ سادگی اور وقار کو اپنائیں اور پردہ کو قائم رکھیں جو اس قوم کی خواتین کی پہچان ہے

آج جب کاشانہ مرتضیٰ ؑ میں مجلس شروع ہوئی تو محترمہ نایاب کی بیٹی پر شکوہ لباس میں چہرے پر مسکراہٹ لئے فرش عزا پر آکر بیٹھ گئی پھر جب تک مجلس ختم نہ ہوئی اس کے چہرے سے مسکراہٹ بھی جدا نہ ہوئی محترمہ نایاب کی بیٹی فروا کی عادت تھی کہ ہر محفل خواہ مسرت کی ہو یا غم کی ہر جگہ ہنسی مذاق کا موضوع تلاش کرلیا کرتی چاہے کسی کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے آج بھی مجلس عزا میں وہ مسلسل اپنی ساتھی سے محو گفتگو رہی ذاکرہ کی گفتگو پر توجہ دینے کے بجائے اردگرد نظریں دوڑاتے ہوئے ہنستی رہی جبکہ ہمیں مجالس عزاءمیں سوگ کے ماحول میں رہنا چاہیے جیسے کسی کی عزیز کی مرنے پر اسے پرسہ دیتے ہیں تو چہرے پر سنجیدگی ہوتی ہے اور غم زدوں کا خیال رہتا ہے اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس عزا میں آئیں تو سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ کیونکہ ہماری بی بی سیدہ ؑ ہم سے پہلے وہاں موجود ہوتی ہیں کیا ہم کو زیب دیتا ہے کہ ہم غم میں آئیں تو جدید فیشن کے لباس میں چہرے پر ہنسی سجائے ہوئے ہم تو کنیزان زہرہ ؑ ہیں اور پرسہ داران ام البنین! کیا ہم اپنی شہزادی کو اپنے انداز و تاثرات سے اور غم زدہ کرنا چاہتے ہیں؟
ہمارے مولا حضرت سجاد ؑ نے فرمایا کہ اگر اس طرح کے لباس پہنے جائیں جس میں دکھاوا ہو کہ لوگ متوجہ ہوں تو روز قیامت اسے آگ کا پہراہن پہنایا جائے گا پس ہمیں چاہیے کہ سادگی اور وقار کو اپنائیں اور پردہ کو قائم رکھیں جو اس قوم کی خواتین کی پہچان ہے