پرسکون ماحول

  Click to listen highlighted text! گھر والوں سے یا باہر والوں سے بہتر اور شیریں تر تعلقات پیدا کرنے کی چند تدبیریں بہت کارگر ثابت ہوئی ہیں۔مثلاً ۱۔ شوہر یا ساس یا نند یا دیور یا سسر کے مزاج کے مطابق گھر کا حلیہ تبدیل کردینا، لوگوں کے کمرے بدل دینا، فرنیچر کو نئی ترتیب سے لگانا یا ان کی جگہ بدل دینا اور اس ضمن میں ان لوگوں سے نہ صرف پیشگی مشورہ کرنا بلکہ شریک کرنا۔ ۲۔ کوئی نیا کھانا پکانا اور اس میں بھی انہیں شریک کرنا۔ ۳۔کوئی تقریب منعقد کرنا اور سب کو شریک کرنا۔ خواہ وہ تقریب بچے کی بسم اللہ ہو۔ ۴۔تحفہ: کسی کو نیا لباس سلوا دینا۔ مگر کپڑے کی خریداری میں اس کی پسند اور شرکت ضروری ہے۔ پسندیدہ کتاب، مٹھائی یا خوشبو خرید دینا۔ ۵۔ کسی کو پکنک یا سفر پر لے جانا۔ ۷۔اگر کوئی بیمار ہے یا فرضی بیمار ہے بہرحال اس کی تیمارداری یا محض چیک اپ کی خاطر ڈاکٹر کے یہاں اس کو لے جانا۔ ۷۔ تیرے ریڈیو یا ٹی وی پر کوئی خاص پروگرام آنے والا ہو تو اسے دعوت دینا وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی تدبیریں تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات (ڈیڈ لاک) کو جوڑنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ کسی باپ یا ماں کے دل تک پہنچنے کے لئے اس کے بچے بہترین زینہ ہیں۔ آپ کے سوتیلے بچے بھی اگر ہوں تو شوہر، نند یا ساس کا دل جیتنے میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ دعوت مدارت، تحفے، عیدیں، تقریبات اور ویسے بھی بچوں کو خصوصاً یتیم بچوں کو نہ بھولیں۔ یاد رکھیں اور گرہ میں باندھ لیں کہ غلط فہمیاں سانپ سے زیادہ خاموش اور اژدھے سے زیادہ خطرناک ہیں۔ انہیں گھر سے باہر نکالیں اور آئندہ کے لئے داخلہ بند کریں۔ ضعیف والدین (ساس، سسر) کو موٹر کار کا پانچواں پہیہ بنا کر بیکار نہ چھوڑ دیں بلکہ انہیں بھی اپنے کام میں شریک کریں۔ شرط یہ ہے کہ کام وہی ہے جسے وہ اپنے شوق و ذوق سے کر سکیں جس کے کرنے کی انہیں طاقت ہو، اور جسے وہ اہم سمجھیں۔ یہ مشورہ صرف ضعیف العمر لوگوں کے لئے نہیں بلکہ بچوں کے لئے بھی ہے۔ اس طرح بوڑھوں اور بچوں دونوں کی محبت اور خدمت حاصل کی جاسکتی ہے۔ ممکن ہے آپ کواپنے ساس سسر یا شوہر سے کچھ شکایات ہوں، جن کا کہنا براہ راست بے موقع اور ناموزوں ہے۔ ایسی صورت میں عقل مندوں نے ایک تدبیر بتائی ہے۔ وہ یہ کہ یقینا تیرے شوہر کو ساس کو یا سسر کو اپنے اپنے حلقہئ ملاقات میں کوئی شخص ناپسند ہوگا(یا ہوگی) اور انہی وجہوں سے جو تیری شکایات کا سبب ہیں۔ اپنے سسر سے بات کرکہ اس ناپسند شخص کی ان حرکتوں سے اس کی بہو کی پوزیشن کیسی خراب ہورہی ہوگی۔ اپنے شوہر سے بات کر کہ اس ناپسند شخص کی ان حرکتوں سے اس کی بیوی کی مٹی کیسی پلید ہورہی ہوگی۔ پھر اسے صحیح مشورہ دے کہ کاش وہ شخص اپنی پرانی حرکتوں کو چھوڑ کر اچھی حرکتیں اختیار کرلے تو کتنا اچھا ہو۔ خانہ جنگی ہر گھر میں کبھی کبھی خانہ جنگی ہو جاتی ہے اور فریقین کے ہر نیک ارادے کے باوجود ہو جاتی ہے۔ چونکہ یہ چیز آگ اور بارود ہے اس لئے بیٹی! ہوشیاری، دور بینی اور تیرے مستقبل کی خیر وعافیت کا تقاضا یہ ہے کہ اول تو یہ صورت پیدا نہ ہونے دی جائے اور اگر ہو ہی جائے تو امن، صلح اور بہتر دوستی کا دروازہ پاٹ پاٹ کھلا رہے۔ ہمیشہ چند اصول پیش نظر رکھ…… ۱۔ لڑائی اچانک نہیں ہوتی۔ ہمیشہ اس کے سگنل ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی خاموش سگنل۔ ان سگنلوں کو دور سے پہچان اور پٹڑی بدل دے۔ وزارتِ خارجہ کا مقصد؟ وزارت دفاع کو استعمال سے بچاناہے۔ ۲۔ خوب سوچ سمجھ لے کہ لڑائی کے لئے یہ وقت موزوں ہے یا نہیں۔ ۳۔ خوب سوچ سمجھ لے کہ اس کے فوائد کیا ہوں گے۔ نقصانات کیا ہوں گے۔ اس کے بعد تیرے پاس کیسی بیلنس شیٹ آئے گی۔ تونے کیا کھویا۔ کیا پایا۔ ۴۔ آواز کی بلندی ثبوت ہے اخلاق کی پستی کا۔ ۵۔ لڑائی ہمیشہ خلوت میں ہونی چاہیے، جلوت میں نہیں۔ پبلک کے سامنے اپنے میلے کپڑے مت نچوڑ۔ ۶۔ جب کوئی فریق لڑائی نہ کرنا چاہے، فوراً بند کردے۔ امن اور صلح کے پہلے موقع کو دانت سے پکڑ۔ بڑا مزا اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر۔ ۷۔ جب توحالات کو نہیں بدل سکتی، اپنے آپ کو بدل دے۔ کسی نے خوب کہا ہے۔ ”جنگ اپنی خرابیوں سے، امن اپنے پڑوسیوں سے۔“ پرسکون ماحول گھر کے لئے پرسکون اور دلچسپ ماحول انتہائی ضروری ہے۔ گھر وہ چار دیواری ہے جہاں تو پرائیویٹ زندگی گزارتی ہے۔ جو تجھے تمام ضروریات مہیا کرتی ہے۔ جہاں کی تو مالکہ اور تاجدار ہے اور جہاں سے تو دنیا کی جنگ لڑتی ہے۔ مادی، ذہنی اور روحانی۔ گھر کی سب سے بڑی دولت گھر والوں کی باہمی محبت ہے۔ محبت سے ایک دوسرے کے درمیان تبادلہئ خیال ہوتا ہے۔ اس طرح باہم دل و دماغ کے صفات کی ترقی ہوتی ہے۔ گھر میں ہر وہ چیز مہیا ہونی چاہیے جو گھر والوں کو دوسری جگہ میسر نہیں۔ اطمینان، فرصت، آرام، خوردو نوش، کھیل کود، تفریح، آزادی، خلوت، خاموشی۔ گھر کا وقت اپنا وقت ہے۔ گھر والے جس طرح چاہیں گزاریں بشرطیکہ دوسروں کے یہ حقوق پامال نہ ہوں۔ انتہائی ضروری ہے کہ گھر والوں کا دل اور دماغ گھر میں لگے۔ وہ گھر کے کاموں میں اور معاملات میں دلچسپی لیں۔ تجھ میں اور تیرے بچوں میں دلچسپی لیں۔ گھر کو غیر ضروری شوروغوغا سے بچا۔ گھر کو غیر ضروری فکر و غم سے بچا۔ جہاں تک ہو بیماریوں سے بچا۔ پڑوسیوں سے اچھے تعلقات رکھ۔ جو ناقابل اصلاح پڑوسی ہوں انہیں نہ چھیڑ۔ غیر ضروری سازوسامان سے دور رہ۔ جہاں تک ہو زندگی سادہ گزار۔ لباس سادہ رکھ۔ عیش و عشرت کا سامان گھر میں لڑائی اور چپقلش لاتا ہے اور پھر اس میں خرچ بہت ہے اور اخراجات کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ میاں بیوی بچوں اور دوسروں کی افزائش عقل اور دلچسپی کے لئے گھر میں چند اہم کتابوں، رسالوں اور اخبارات کا موجود ہونا ضروری ہے۔ قرآن و حدیث، تفسیر، تاریخ، معلومات حاضرہ، سیاست، سائنس، ہنر و فن وغیرہ کی کتابیں لازمی ہیں۔ وہ خواتین جو یہ بھول گئیں ہیں کہ گھر میں ایک باورچی خانہ بھی ہے جسے لیبارٹری کہا جاسکتا ہے جہاں نت نئے کھانے تجربہ میں لائے جاسکتے ہیں اور ان میں سے بعض کھانوں کی تجارت ہوسکتی ہے۔ کیا تونے تجارتی کھانوں کا کبھی تجزیہ کیا ہے؟ باورچی خانہ باورچی خانہ اس کمرہ کا نام نہیں جہاں وہی کھانا جو ہمارے باپ، دادا سو اور دو سو سال پہلے کھاتے تھے اب بھی پکتا ہے۔ باورچی خانہ تیرا ”ایجاد خانہ“ اور ایجاد کرنا ہی تیری عقل کا امتحان ہے۔ اپنے سامنے کوئی نمونہ رکھ لے۔ خوب غور سے الٹ پلٹ کے دیکھ۔ اس کے مسالے اور مشین کو سمجھ۔ مندرجہ ذیل سوالات پر اپنے دماغ اور تجربہ کو استعمال کر۔ اگر اس میں فلاں چیز ملادی جائے تو کیا ہوگا؟ اس سے فلاں چیز اگر گھٹا دی جائے تو کیا ہوگا؟ اس کے اجزاء اور کل بیچ، ترتیب وترکیب میں ترمیم کردی جائے تو کیسا رہے گا؟ اگر آگے کے حصہ کو پیچھے اور پیچھے کے حصے کو آگے کردیا جائے تو پھر؟ اس کی طاقت یا اس کی لذت کیسے بڑھائی جائے یا اس کی طاقت اور تیزی کیسے کم کی جائے؟ اس کے اخراجات کس طرح گھٹائے جائیں۔ کیا اس کے عوض کوئی اور چیز ہے؟ کوئی اور چیز ہو سکتی ہے؟ کیا اس کے چھلکے، اس کی ہڈی، کانٹے وگیرہ سے کوئی اور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟ اسے کس طرح ارزاں، آسان یا ہلکا کردیا جائے یا خوبصورت، مزیدار، مضبوط، مقبول، پائیدار، مفید؟ کس طرح ضروری سازوسامان اور مالیات حاصل کیا جائے؟ کس طرح فروخت کیا جائے؟ وغیرہ۔ فقط تیرا مشیر، تیرا رفیق، تیرا شفیق ابو ظفرزین

گھر والوں سے یا باہر والوں سے بہتر اور شیریں تر تعلقات پیدا کرنے کی چند تدبیریں بہت کارگر ثابت ہوئی ہیں۔مثلاً
۱۔ شوہر یا ساس یا نند یا دیور یا سسر کے مزاج کے مطابق گھر کا حلیہ تبدیل کردینا، لوگوں کے کمرے بدل دینا، فرنیچر کو نئی ترتیب سے لگانا یا ان کی جگہ بدل دینا اور اس ضمن میں ان لوگوں سے نہ صرف پیشگی مشورہ کرنا بلکہ شریک کرنا۔
۲۔ کوئی نیا کھانا پکانا اور اس میں بھی انہیں شریک کرنا۔
۳۔کوئی تقریب منعقد کرنا اور سب کو شریک کرنا۔ خواہ وہ تقریب بچے کی بسم اللہ ہو۔
۴۔تحفہ: کسی کو نیا لباس سلوا دینا۔ مگر کپڑے کی خریداری میں اس کی پسند اور شرکت ضروری ہے۔ پسندیدہ کتاب، مٹھائی یا خوشبو خرید دینا۔
۵۔ کسی کو پکنک یا سفر پر لے جانا۔
۷۔اگر کوئی بیمار ہے یا فرضی بیمار ہے بہرحال اس کی تیمارداری یا محض چیک اپ کی خاطر ڈاکٹر کے یہاں اس کو لے جانا۔
۷۔ تیرے ریڈیو یا ٹی وی پر کوئی خاص پروگرام آنے والا ہو تو اسے دعوت دینا وغیرہ وغیرہ۔
اس قسم کی تدبیریں تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات (ڈیڈ لاک) کو جوڑنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔
کسی باپ یا ماں کے دل تک پہنچنے کے لئے اس کے بچے بہترین زینہ ہیں۔ آپ کے سوتیلے بچے بھی اگر ہوں تو شوہر، نند یا ساس کا دل جیتنے میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ دعوت مدارت، تحفے، عیدیں، تقریبات اور ویسے بھی بچوں کو خصوصاً یتیم بچوں کو نہ بھولیں۔
یاد رکھیں اور گرہ میں باندھ لیں کہ
غلط فہمیاں سانپ سے زیادہ خاموش اور اژدھے سے زیادہ خطرناک ہیں۔ انہیں گھر سے باہر نکالیں اور آئندہ کے لئے داخلہ بند کریں۔
ضعیف والدین (ساس، سسر) کو موٹر کار کا پانچواں پہیہ بنا کر بیکار نہ چھوڑ دیں بلکہ انہیں بھی اپنے کام میں شریک کریں۔ شرط یہ ہے کہ کام وہی ہے جسے وہ اپنے شوق و ذوق سے کر سکیں جس کے کرنے کی انہیں طاقت ہو، اور جسے وہ اہم سمجھیں۔ یہ مشورہ صرف ضعیف العمر لوگوں کے لئے نہیں بلکہ بچوں کے لئے بھی ہے۔ اس طرح بوڑھوں اور بچوں دونوں کی محبت اور خدمت حاصل کی جاسکتی ہے۔
ممکن ہے آپ کواپنے ساس سسر یا شوہر سے کچھ شکایات ہوں، جن کا کہنا براہ راست بے موقع اور ناموزوں ہے۔ ایسی صورت میں عقل مندوں نے ایک تدبیر بتائی ہے۔ وہ یہ کہ یقینا تیرے شوہر کو ساس کو یا سسر کو اپنے اپنے حلقہئ ملاقات میں کوئی شخص ناپسند ہوگا(یا ہوگی) اور انہی وجہوں سے جو تیری شکایات کا سبب ہیں۔ اپنے سسر سے بات کرکہ اس ناپسند شخص کی ان حرکتوں سے اس کی بہو کی پوزیشن کیسی خراب ہورہی ہوگی۔ اپنے شوہر سے بات کر کہ اس ناپسند شخص کی ان حرکتوں سے اس کی بیوی کی مٹی کیسی پلید ہورہی ہوگی۔ پھر اسے صحیح مشورہ دے کہ کاش وہ شخص اپنی پرانی حرکتوں کو چھوڑ کر اچھی حرکتیں اختیار کرلے تو کتنا اچھا ہو۔
خانہ جنگی
ہر گھر میں کبھی کبھی خانہ جنگی ہو جاتی ہے اور فریقین کے ہر نیک ارادے کے باوجود ہو جاتی ہے۔ چونکہ یہ چیز آگ اور بارود ہے اس لئے بیٹی! ہوشیاری، دور بینی اور تیرے مستقبل کی خیر وعافیت کا تقاضا یہ ہے کہ اول تو یہ صورت پیدا نہ ہونے دی جائے اور اگر ہو ہی جائے تو امن، صلح اور بہتر دوستی کا دروازہ پاٹ پاٹ کھلا رہے۔
ہمیشہ چند اصول پیش نظر رکھ……
۱۔ لڑائی اچانک نہیں ہوتی۔ ہمیشہ اس کے سگنل ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی خاموش سگنل۔ ان سگنلوں کو دور سے پہچان اور پٹڑی بدل دے۔ وزارتِ خارجہ کا مقصد؟ وزارت دفاع کو استعمال سے بچاناہے۔
۲۔ خوب سوچ سمجھ لے کہ لڑائی کے لئے یہ وقت موزوں ہے یا نہیں۔
۳۔ خوب سوچ سمجھ لے کہ اس کے فوائد کیا ہوں گے۔ نقصانات کیا ہوں گے۔ اس کے بعد تیرے پاس کیسی بیلنس شیٹ آئے گی۔ تونے کیا کھویا۔ کیا پایا۔
۴۔ آواز کی بلندی ثبوت ہے اخلاق کی پستی کا۔
۵۔ لڑائی ہمیشہ خلوت میں ہونی چاہیے، جلوت میں نہیں۔ پبلک کے سامنے اپنے میلے کپڑے مت نچوڑ۔
۶۔ جب کوئی فریق لڑائی نہ کرنا چاہے، فوراً بند کردے۔ امن اور صلح کے پہلے موقع کو دانت سے پکڑ۔ بڑا مزا اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر۔
۷۔ جب توحالات کو نہیں بدل سکتی، اپنے آپ کو بدل دے۔ کسی نے خوب کہا ہے۔ ”جنگ اپنی خرابیوں سے، امن اپنے پڑوسیوں سے۔“
پرسکون ماحول
گھر کے لئے پرسکون اور دلچسپ ماحول انتہائی ضروری ہے۔ گھر وہ چار دیواری ہے جہاں تو پرائیویٹ زندگی گزارتی ہے۔ جو تجھے تمام ضروریات مہیا کرتی ہے۔ جہاں کی تو مالکہ اور تاجدار ہے اور جہاں سے تو دنیا کی جنگ لڑتی ہے۔ مادی، ذہنی اور روحانی۔ گھر کی سب سے بڑی دولت گھر والوں کی باہمی محبت ہے۔ محبت سے ایک دوسرے کے درمیان تبادلہئ خیال ہوتا ہے۔ اس طرح باہم دل و دماغ کے صفات کی ترقی ہوتی ہے۔
گھر میں ہر وہ چیز مہیا ہونی چاہیے جو گھر والوں کو دوسری جگہ میسر نہیں۔ اطمینان، فرصت، آرام، خوردو نوش، کھیل کود، تفریح، آزادی، خلوت، خاموشی۔ گھر کا وقت اپنا وقت ہے۔ گھر والے جس طرح چاہیں گزاریں بشرطیکہ دوسروں کے یہ حقوق پامال نہ ہوں۔ انتہائی ضروری ہے کہ گھر والوں کا دل اور دماغ گھر میں لگے۔ وہ گھر کے کاموں میں اور معاملات میں دلچسپی لیں۔ تجھ میں اور تیرے بچوں میں دلچسپی لیں۔
گھر کو غیر ضروری شوروغوغا سے بچا۔ گھر کو غیر ضروری فکر و غم سے بچا۔ جہاں تک ہو بیماریوں سے بچا۔
پڑوسیوں سے اچھے تعلقات رکھ۔ جو ناقابل اصلاح پڑوسی ہوں انہیں نہ چھیڑ۔
غیر ضروری سازوسامان سے دور رہ۔ جہاں تک ہو زندگی سادہ گزار۔ لباس سادہ رکھ۔ عیش و عشرت کا سامان گھر میں لڑائی اور چپقلش لاتا ہے اور پھر اس میں خرچ بہت ہے اور اخراجات کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ میاں بیوی بچوں اور دوسروں کی افزائش عقل اور دلچسپی کے لئے گھر میں چند اہم کتابوں، رسالوں اور اخبارات کا موجود ہونا ضروری ہے۔ قرآن و حدیث، تفسیر، تاریخ، معلومات حاضرہ، سیاست، سائنس، ہنر و فن وغیرہ کی کتابیں لازمی ہیں۔
وہ خواتین جو یہ بھول گئیں ہیں کہ گھر میں ایک باورچی خانہ بھی ہے جسے لیبارٹری کہا جاسکتا ہے جہاں نت نئے کھانے تجربہ میں لائے جاسکتے ہیں اور ان میں سے بعض کھانوں کی تجارت ہوسکتی ہے۔ کیا تونے تجارتی کھانوں کا کبھی تجزیہ کیا ہے؟
باورچی خانہ
باورچی خانہ اس کمرہ کا نام نہیں جہاں وہی کھانا جو ہمارے باپ، دادا سو اور دو سو سال پہلے کھاتے تھے اب بھی پکتا ہے۔ باورچی خانہ تیرا ”ایجاد خانہ“ اور ایجاد کرنا ہی تیری عقل کا امتحان ہے۔ اپنے سامنے کوئی نمونہ رکھ لے۔ خوب غور سے الٹ پلٹ کے دیکھ۔ اس کے مسالے اور مشین کو سمجھ۔ مندرجہ ذیل سوالات پر اپنے دماغ اور تجربہ کو استعمال کر۔
اگر اس میں فلاں چیز ملادی جائے تو کیا ہوگا؟
اس سے فلاں چیز اگر گھٹا دی جائے تو کیا ہوگا؟
اس کے اجزاء اور کل بیچ، ترتیب وترکیب میں ترمیم کردی جائے تو کیسا رہے گا؟ اگر آگے کے حصہ کو پیچھے اور پیچھے کے حصے کو آگے کردیا جائے تو پھر؟
اس کی طاقت یا اس کی لذت کیسے بڑھائی جائے یا اس کی طاقت اور تیزی کیسے کم کی جائے؟ اس کے اخراجات کس طرح گھٹائے جائیں۔
کیا اس کے عوض کوئی اور چیز ہے؟ کوئی اور چیز ہو سکتی ہے؟
کیا اس کے چھلکے، اس کی ہڈی، کانٹے وگیرہ سے کوئی اور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے؟
اسے کس طرح ارزاں، آسان یا ہلکا کردیا جائے یا خوبصورت، مزیدار، مضبوط، مقبول، پائیدار، مفید؟
کس طرح ضروری سازوسامان اور مالیات حاصل کیا جائے؟ کس طرح فروخت کیا جائے؟ وغیرہ۔
فقط تیرا مشیر، تیرا رفیق، تیرا شفیق
ابو ظفرزین