مشرقی یمن میں برطانیہ کی جاسوسی سرگرمیاں

  Click to listen highlighted text! تحریر: علی احمدی برطانیہ نے یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کی مدد کے بہانے اپنی فوج اس ملک میں بھیج رکھی ہے۔ ابھی یمن میں برطانوی فوجیوں کی موجودگی کو ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ان کا اصلی مشن فاش ہو گیا اور معلوم ہوا کہ یمن کے مشرقی صوبے المہرہ میں ان کی موجودگی کا مقصد سعودی اتحاد کی مدد کرنا نہیں بلکہ یمن کی جاسوسی کرنا ہے۔ اس سے پہلے سعودی حکام اور یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے بھی ٹیلی کمیونیکشین سسٹم کے ذریعے یمن کی انقلابی تحریک انصاراللہ کے مرکزی رہنماوں کی جاسوسی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب برطانوی فوج اس کوشش میں مصروف ہے اور یمن کے ٹیلی کمیونیکشین سسٹم کے ذریعے انصاراللہ کے مرکزی رہنماوں کی جاسوسی کرنے کے درپے ہے۔ برطانیہ نے عمان کے ساحل کے قریب اسرائیلی کشتی مرسر اسٹریٹ پر حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے بہانے اپنی فوجیں یمن بھیجی تھیں۔ برطانوی فوجیوں نے المہرہ کی کچھ بندرگاہوں کو بند کر دیا اور اس کے بعد وہاں انٹیلی جنس نیٹ ورک تشکیل دینا شروع کر دیے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے گذشتہ کئی ہفتوں سے ان مچھیروں کو بھی اپنے کام سے روک دیا ہے جو ہمیشہ سے نشطون، قشن اور سیحوت کے سواحل پر مچھلیاں پکڑنے کا کام کرتے آئے ہیں۔ اس اقدام نے مقامی باشندوں کو شدید ناراض کر دیا ہے اور المہرہ میں عوامی مظاہرے اور دھرنے شروع ہو گئے ہیں۔ المہرہ کے سابق نائب گورنر علی سالم الحریزی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ برطانوی فوجی المہرہ میں مقامی افراد کو جاسوسی کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔ انصاراللہ یمن کے قریبی ذرائع کے بقول انہیں ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے الغیضہ ایئرپورٹ میں ایک جاسوسی کا مرکز تشکیل دے رکھا ہے۔ برطانوی فوجی وہاں سے الغیضہ شہر کے ساتھ سمندر کے اندر تاروں کی مدد سے یمن کے ٹیلی کمیونیکشین سسٹم کی جاسوسی کرنے میں مصروف ہیں۔ ان ذرائع نے کہا: “برطانوی فوجی غیر قانونی طور پر یمن کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی جاسوسی میں مصروف ہیں۔ اس جاسوسی کا مقصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں جارح اتحاد کی مدد کرنا اور یمن پر ان کے ناجائز قبضے میں سہولت کاری کرنا ہے۔” صنعاء کے مذاکراتی وفد کے رکن عبدالملک العجری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ برطانیہ اپنے استعماری اہداف کی تکمیل کیلئے یمن کی جاسوسی کر رہا ہے۔ لبنانی اخبار الاخبار اس بارے میں لکھتا ہے: “برطانیہ کی جانب سے یمن کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی جاسوسی اور ملک بھر کی فون کالز سننے کا کام جاسوسی کی ایک ماہر ٹیم کے سپرد کیا گیا ہے۔ یہ ٹیم اسی مہینے سعودی عرب کی درخواست پر برطانیہ سے یمن بھیجی گئی ہے۔ اس ٹیم نے یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی سے ٹیلی کمیونیکشین کا تمام ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔” یہ اخبار مزید لکھتا ہے: “اسی مہینے یمن کے مختلف صوبوں میں انٹرنیٹ سروس کئی بار تعطل کا شکار ہوئی ہے اور دو ہفتے کے دوران چار مرتبہ بند ہوئی ہے۔ دوسری طرف المہرہ، حضرموت، شبوہ اور مارب کے صوبوں میں حکومتی ذمہ داران نے اس بندش کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔” یمن کے صوبہ المہرہ میں ایک اہم ذریعے نے بتایا: “حالیہ مہینے کے شروع میں ایک برطانوی کشتی اس جگہ لنگرانداز ہوئی تھی جہاں سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کی کیبلز موجود ہیں۔ یہ علاقہ قشن شہر سے 20 میل کے فاصلے پر سمندر میں واقع ہے۔” اس باخبر ذریعے نے مزید بتایا: “قشن کے سکیورٹی اداروں نے یہ یقین پیدا کرنے کے بعد کہ علاقے میں موجود کشتی برطانیہ کی ہے، صوبہ المہرہ کے سکیورٹی اداروں کو اس کشتی کی موجودگی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست دی۔ اسی طرح انہوں نے کشتی کے مشن کے بارے میں معلومات مانگیں کیونکہ یہ کشتی ایسی جگہ لنگرانداز تھی جہاں اس سے پہلے کوئی کشتی بھی کھڑی نہیں ہوئی تھی۔” اس درخواست کے باوجود صوبائی سکیورٹی اداروں نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ برطانیہ یمن کے عام شہریوں کی جاسوسی کر کے ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے۔ مشرقی یمن میں موجود برطانوی فوجی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے یمنی شہریوں کی فون کالز تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور یوں جاسوسی جیسے مجرمانہ فعل کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یمن کا ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم جنگ کے دوران بھاری نقصان کا شکار ہوا ہے۔ سعودی اتحاد کی جارحت میں اب تک 248 موبائل ٹاورز، 1652 عمارتیں، 46 ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس، 1458 الیکٹرانک آلات اور 43 ٹیلیفون بوتھ تباہ ہو گئے ہیں۔ یوں یمن کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو پہنچنے والا نقصان 4.1 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے برطانوی فوجیوں اور دیگر تمام غیر ملکی عناصر کو خبردار کیا ہے کہ یمن کی سرزمین پر ان کی موجودگی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی اور ان کے خلاف فوجی کاروائی کی جائے گی۔

تحریر: علی احمدی

برطانیہ نے یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کی مدد کے بہانے اپنی فوج اس ملک میں بھیج رکھی ہے۔ ابھی یمن میں برطانوی فوجیوں کی موجودگی کو ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ان کا اصلی مشن فاش ہو گیا اور معلوم ہوا کہ یمن کے مشرقی صوبے المہرہ میں ان کی موجودگی کا مقصد سعودی اتحاد کی مدد کرنا نہیں بلکہ یمن کی جاسوسی کرنا ہے۔ اس سے پہلے سعودی حکام اور یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے بھی ٹیلی کمیونیکشین سسٹم کے ذریعے یمن کی انقلابی تحریک انصاراللہ کے مرکزی رہنماوں کی جاسوسی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب برطانوی فوج اس کوشش میں مصروف ہے اور یمن کے ٹیلی کمیونیکشین سسٹم کے ذریعے انصاراللہ کے مرکزی رہنماوں کی جاسوسی کرنے کے درپے ہے۔

برطانیہ نے عمان کے ساحل کے قریب اسرائیلی کشتی مرسر اسٹریٹ پر حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے بہانے اپنی فوجیں یمن بھیجی تھیں۔ برطانوی فوجیوں نے المہرہ کی کچھ بندرگاہوں کو بند کر دیا اور اس کے بعد وہاں انٹیلی جنس نیٹ ورک تشکیل دینا شروع کر دیے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے گذشتہ کئی ہفتوں سے ان مچھیروں کو بھی اپنے کام سے روک دیا ہے جو ہمیشہ سے نشطون، قشن اور سیحوت کے سواحل پر مچھلیاں پکڑنے کا کام کرتے آئے ہیں۔ اس اقدام نے مقامی باشندوں کو شدید ناراض کر دیا ہے اور المہرہ میں عوامی مظاہرے اور دھرنے شروع ہو گئے ہیں۔ المہرہ کے سابق نائب گورنر علی سالم الحریزی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ برطانوی فوجی المہرہ میں مقامی افراد کو جاسوسی کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔

انصاراللہ یمن کے قریبی ذرائع کے بقول انہیں ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے الغیضہ ایئرپورٹ میں ایک جاسوسی کا مرکز تشکیل دے رکھا ہے۔ برطانوی فوجی وہاں سے الغیضہ شہر کے ساتھ سمندر کے اندر تاروں کی مدد سے یمن کے ٹیلی کمیونیکشین سسٹم کی جاسوسی کرنے میں مصروف ہیں۔ ان ذرائع نے کہا: “برطانوی فوجی غیر قانونی طور پر یمن کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی جاسوسی میں مصروف ہیں۔ اس جاسوسی کا مقصد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں جارح اتحاد کی مدد کرنا اور یمن پر ان کے ناجائز قبضے میں سہولت کاری کرنا ہے۔” صنعاء کے مذاکراتی وفد کے رکن عبدالملک العجری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ برطانیہ اپنے استعماری اہداف کی تکمیل کیلئے یمن کی جاسوسی کر رہا ہے۔

لبنانی اخبار الاخبار اس بارے میں لکھتا ہے: “برطانیہ کی جانب سے یمن کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی جاسوسی اور ملک بھر کی فون کالز سننے کا کام جاسوسی کی ایک ماہر ٹیم کے سپرد کیا گیا ہے۔ یہ ٹیم اسی مہینے سعودی عرب کی درخواست پر برطانیہ سے یمن بھیجی گئی ہے۔ اس ٹیم نے یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی سے ٹیلی کمیونیکشین کا تمام ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔” یہ اخبار مزید لکھتا ہے: “اسی مہینے یمن کے مختلف صوبوں میں انٹرنیٹ سروس کئی بار تعطل کا شکار ہوئی ہے اور دو ہفتے کے دوران چار مرتبہ بند ہوئی ہے۔ دوسری طرف المہرہ، حضرموت، شبوہ اور مارب کے صوبوں میں حکومتی ذمہ داران نے اس بندش کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔”

یمن کے صوبہ المہرہ میں ایک اہم ذریعے نے بتایا: “حالیہ مہینے کے شروع میں ایک برطانوی کشتی اس جگہ لنگرانداز ہوئی تھی جہاں سمندر کے نیچے انٹرنیٹ کی کیبلز موجود ہیں۔ یہ علاقہ قشن شہر سے 20 میل کے فاصلے پر سمندر میں واقع ہے۔” اس باخبر ذریعے نے مزید بتایا: “قشن کے سکیورٹی اداروں نے یہ یقین پیدا کرنے کے بعد کہ علاقے میں موجود کشتی برطانیہ کی ہے، صوبہ المہرہ کے سکیورٹی اداروں کو اس کشتی کی موجودگی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست دی۔ اسی طرح انہوں نے کشتی کے مشن کے بارے میں معلومات مانگیں کیونکہ یہ کشتی ایسی جگہ لنگرانداز تھی جہاں اس سے پہلے کوئی کشتی بھی کھڑی نہیں ہوئی تھی۔” اس درخواست کے باوجود صوبائی سکیورٹی اداروں نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

برطانیہ یمن کے عام شہریوں کی جاسوسی کر کے ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں مصروف ہے۔ مشرقی یمن میں موجود برطانوی فوجی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے یمنی شہریوں کی فون کالز تک رسائی حاصل کر چکے ہیں اور یوں جاسوسی جیسے مجرمانہ فعل کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یمن کا ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم جنگ کے دوران بھاری نقصان کا شکار ہوا ہے۔ سعودی اتحاد کی جارحت میں اب تک 248 موبائل ٹاورز، 1652 عمارتیں، 46 ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس، 1458 الیکٹرانک آلات اور 43 ٹیلیفون بوتھ تباہ ہو گئے ہیں۔ یوں یمن کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو پہنچنے والا نقصان 4.1 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ انصاراللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے برطانوی فوجیوں اور دیگر تمام غیر ملکی عناصر کو خبردار کیا ہے کہ یمن کی سرزمین پر ان کی موجودگی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی اور ان کے خلاف فوجی کاروائی کی جائے گی۔