کتب خانے کے اندر کی دنیا

  Click to listen highlighted text! علی احمد، کراچی آئیے آج ہم آپ کو کتب خانے کے اندر لے چلتے ہیں ، آج گرمی کی ایک دوپہر ہے۔ ہم اس کتب خانے کی ٹھنڈی فضا میں چند لمحے گزارتے ہیں، کچھ افراد میزوں کے پیچھے بیٹھے کتابوں کی لطیف دنیا کی سیر کررہے ہیں، ہر طرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔ سب آنکھیں کتابوں کے جملوں پر جمی ہیں اور کتابوں کے صفحے پلٹنے کی آواز آرہی ہے۔ہم ایک الماری کے شیلف کی طرف توجہ کرتے ہیں، کتابوں پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں ۔ اچانک ایک کتاب پر ہماری نگاہ پڑتی ہے ، اسے ایک مہربان دوست کی طرح ہم اپنے ہمراہ لے لیتے ہیں ، میز پر رکھ کر اس کو پڑھنا شروع کرتے ہیں ، بچپن ہی سے ہمیں مطالعے کا شوق رہا ہے۔ یہ تاریخ کی کتاب ہے، گزشتہ لوگوں کی داستانیں عبرت کا نظارہ ہیں۔کتاب کو غور سے پڑھتے ہیں تو کبھی ہمارا چہرہ پریشان ہو جاتا ہے۔ کبھی ہم پر غم و غصہ طاری ہو جاتا ہے، کبھی خوشی اور مسرت سے ہمارا چہرہ کھل اٹھتا ہے۔ گویا اپنی دنیا سے ہم نئی دنیا میں آگئے کہ گردو پیش( آس پاس) کا ہوش نہ رہا۔ کبھی کبھی ہم ادھر ادھر نگاہ بھی کرلیتے ہیں ،صفحات کی سرسراہٹ یا کرسی سرکنے کی آواز کے علاوہ کوئی آواز نہیں آتی۔ہم ایک شیلف کی طرف نگاہ کرتے ہیں، کتابوں کی دنیا کتنی پر سکون ہے ، مگر اس دنیا کے اندر کتنا شور اور ہنگامہ ہے، ان کتابوں میں جنگوں کے مناظر ہیں، رسوم و رواج کے شور شرابے ، قوموں کے عروج اور زوال کی داستانیں ، کتنے ہی ہنگامے ہیں ۔ہم بے شمار لکھنے والوں کے تجربات ، تحقیقات اور محنتوں کا نچوڑ لے لیتے ہیں ، ہم کتابوں سے بھرے شیلفوں پر دوبارہ نگاہ کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ ہر روز اس دنیا میں آئیں گے اور نئے نئے 

علی احمد، کراچی

آئیے آج ہم آپ کو کتب خانے کے اندر لے چلتے ہیں ، آج گرمی کی ایک دوپہر ہے۔ ہم اس کتب خانے کی ٹھنڈی فضا میں چند لمحے گزارتے ہیں، کچھ افراد میزوں کے پیچھے بیٹھے کتابوں کی لطیف دنیا کی سیر کررہے ہیں، ہر طرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔ سب آنکھیں کتابوں کے جملوں پر جمی ہیں اور کتابوں کے صفحے پلٹنے کی آواز آرہی ہے۔
ہم ایک الماری کے شیلف کی طرف توجہ کرتے ہیں، کتابوں پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں ۔ اچانک ایک کتاب پر ہماری نگاہ پڑتی ہے ، اسے ایک مہربان دوست کی طرح ہم اپنے ہمراہ لے لیتے ہیں ، میز پر رکھ کر اس کو پڑھنا شروع کرتے ہیں ، بچپن ہی سے ہمیں مطالعے کا شوق رہا ہے۔ یہ تاریخ کی کتاب ہے، گزشتہ لوگوں کی داستانیں عبرت کا نظارہ ہیں۔
کتاب کو غور سے پڑھتے ہیں تو کبھی ہمارا چہرہ پریشان ہو جاتا ہے۔ کبھی ہم پر غم و غصہ طاری ہو جاتا ہے، کبھی خوشی اور مسرت سے ہمارا چہرہ کھل اٹھتا ہے۔ گویا اپنی دنیا سے ہم نئی دنیا میں آگئے کہ گردو پیش( آس پاس) کا ہوش نہ رہا۔ کبھی کبھی ہم ادھر ادھر نگاہ بھی کرلیتے ہیں ،صفحات کی سرسراہٹ یا کرسی سرکنے کی آواز کے علاوہ کوئی آواز نہیں آتی۔
ہم ایک شیلف کی طرف نگاہ کرتے ہیں، کتابوں کی دنیا کتنی پر سکون ہے ، مگر اس دنیا کے اندر کتنا شور اور ہنگامہ ہے، ان کتابوں میں جنگوں کے مناظر ہیں، رسوم و رواج کے شور شرابے ، قوموں کے عروج اور زوال کی داستانیں ، کتنے ہی ہنگامے ہیں ۔
ہم بے شمار لکھنے والوں کے تجربات ، تحقیقات اور محنتوں کا نچوڑ لے لیتے ہیں ، ہم کتابوں سے بھرے شیلفوں پر دوبارہ نگاہ کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ ہر روز اس دنیا میں آئیں گے اور نئے نئے