بن سلمان اور سفارتی سرگرمیاں

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سفارتی دوروں اور سفارتی ملاقاتوں کے ذریعے اپنی طویل مدتی سیاسی تنہائی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محمد بن سلمان کو جون 2017ء میں سعودی عرب کا ولی عہد مقرر کیا گیا تھا، لیکن ان کی ولی عہدی کا اغاز کوئی زیادہ خوشگوار نہیں تھا، کیونکہ بن سلمان نے حریفوں اور داخلی ناقدین کو دبانے، علاقائی حریفوں سے دشمنی اور یمن میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے کا راستہ اختیار کرکے سعودی عرب کو ایک مشکل راستے پر ڈال دیا۔ بن سلمان نے جون 2017ء کے دن سعودی عرب کے ولی عہد کے طور پراپنی تقرری کے صرف چند دن بعد، قطر کے ساتھ کشیدگی کا آغاز کیا، جو ساڑھے تین سال تک جاری رہی۔ نومبر 2017ء میں، بن سلمان نے بدعنوانی کے الزام میں اپنے خاندان کے درجنوں حریفوں کو گرفتار کیا اور انہیں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرکے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے کانٹوں کو چننا شروع کردیا۔ لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری کو بھی نومبر 2017ء میں ریاض میں بلا کر ایک طرح سے گرفتار کیا اور انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ مستعفی ہونے والے لبنانی وزیراعظم فرانس کی ثالثی سے سعودی عرب چھوڑنے میں کامیاب ہوئے اور بالآخر استعفیٰ دینے کے اعلان کے تین ہفتے بعد لبنان واپس آگئے۔ اس کے علاوہ، اکتوبر 2018ء میں محمد بن سلمان نے واشنگٹن پوسٹ کے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا اور استنبول میں سعودی قونصل خانے میں بن سلمان کے ایجنٹوں نے خاشقجی کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ یمن میں جنگ، جو 26 مارچ 2015ء میں بن سلمان کے حکم پر شروع ہوئی، ابھی تک جاری ہے اور بدقسمتی سے یمن کو 21 ویں صدی کی دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی کا سامنا ہے۔ بائیڈن کے امریکہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد، محمد بن سلمان پر سیاسی دباؤ بڑھا اور اسے ایک قسم کی سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جوبائیڈن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی ولی عہد سے ملاقات نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے انسانیت کے خلاف جرائم بہت واضح اور نمایاں ہیں۔ بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے ڈیڑھ سال بعد اس وقت سعودی ولی عہد سیاسی تنہائی سے نکلنے اور عالمی تعلقات میں دوبارہ داخل ہونے کے راستے پر ہیں۔ یہ عمل گذشتہ اپریل میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ریاض کے دورے اور محمد بن سلمان سے ملاقات کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ سابقہ ​​دعوؤں کے برعکس، جو بائیڈن بھی 16 جولائی کو محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے ریاض جائیں گے۔ دریں اثناء بن سلمان اگلے ہفتے خطے کے تین ممالک کا دورہ کریں گے، جن میں ترکی، اردن اور مصر شامل ہیں۔ یہ دورے بتاتے ہیں کہ سعودی ولی عہد سیاسی تنہائی کے بحران سے گزرے ہیں۔ امریکی صدر، جی سی سی رہنماؤں اور اردن کے بادشاہ، مصری صدر اور عراقی وزیراعظم کے ساتھ 16 جولائی کو ہونے والی ریاض ملاقات، بن سلمان کو سیاسی تنہائی پر قابو پانے اور سعودی عرب کے تخت تک پہنچنے میں مدد دے سکتی۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ بن سلمان کے بارے میں امریکی حکومت کے نقطہ نظر میں تبدیلی کے باوجود بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے کی امریکہ میں شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں، 16 جون کے دن خبری ذرائع نے اعلان کیا کہ واشنگٹن کی بلدیہ نے امریکہ میں سعودی سفارت خانہ کے سامنے والے روڈ کا نام جمال خاشقجی اسٹریٹ رکھ دیا ہے۔ امریکہ کے اندر جوبائیڈن کے دورہ سعودی عرب پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور کئی حکومتی اور سیاسی شخصیات اس دورہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سفارتی دوروں اور سفارتی ملاقاتوں کے ذریعے اپنی طویل مدتی سیاسی تنہائی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ محمد بن سلمان کو جون 2017ء میں سعودی عرب کا ولی عہد مقرر کیا گیا تھا، لیکن ان کی ولی عہدی کا اغاز کوئی زیادہ خوشگوار نہیں تھا، کیونکہ بن سلمان نے حریفوں اور داخلی ناقدین کو دبانے، علاقائی حریفوں سے دشمنی اور یمن میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو جاری رکھنے کا راستہ اختیار کرکے سعودی عرب کو ایک مشکل راستے پر ڈال دیا۔ بن سلمان نے جون 2017ء کے دن سعودی عرب کے ولی عہد کے طور پراپنی تقرری کے صرف چند دن بعد، قطر کے ساتھ کشیدگی کا آغاز کیا، جو ساڑھے تین سال تک جاری رہی۔ نومبر 2017ء میں، بن سلمان نے بدعنوانی کے الزام میں اپنے خاندان کے درجنوں حریفوں کو گرفتار کیا اور انہیں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرکے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے کانٹوں کو چننا شروع کردیا۔

لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری کو بھی نومبر 2017ء میں ریاض میں بلا کر ایک طرح سے گرفتار کیا اور انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ مستعفی ہونے والے لبنانی وزیراعظم فرانس کی ثالثی سے سعودی عرب چھوڑنے میں کامیاب ہوئے اور بالآخر استعفیٰ دینے کے اعلان کے تین ہفتے بعد لبنان واپس آگئے۔ اس کے علاوہ، اکتوبر 2018ء میں محمد بن سلمان نے واشنگٹن پوسٹ کے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا اور استنبول میں سعودی قونصل خانے میں بن سلمان کے ایجنٹوں نے خاشقجی کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ یمن میں جنگ، جو 26 مارچ 2015ء میں بن سلمان کے حکم پر شروع ہوئی، ابھی تک جاری ہے اور بدقسمتی سے یمن کو 21 ویں صدی کی دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی کا سامنا ہے۔

بائیڈن کے امریکہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد، محمد بن سلمان پر سیاسی دباؤ بڑھا اور اسے ایک قسم کی سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جوبائیڈن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ سعودی ولی عہد سے ملاقات نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے انسانیت کے خلاف جرائم بہت واضح اور نمایاں ہیں۔ بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے ڈیڑھ سال بعد اس وقت سعودی ولی عہد سیاسی تنہائی سے نکلنے اور عالمی تعلقات میں دوبارہ داخل ہونے کے راستے پر ہیں۔ یہ عمل گذشتہ اپریل میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے ریاض کے دورے اور محمد بن سلمان سے ملاقات کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ سابقہ ​​دعوؤں کے برعکس، جو بائیڈن بھی 16 جولائی کو محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے ریاض جائیں گے۔ دریں اثناء بن سلمان اگلے ہفتے خطے کے تین ممالک کا دورہ کریں گے، جن میں ترکی، اردن اور مصر شامل ہیں۔

یہ دورے بتاتے ہیں کہ سعودی ولی عہد سیاسی تنہائی کے بحران سے گزرے ہیں۔ امریکی صدر، جی سی سی رہنماؤں اور اردن کے بادشاہ، مصری صدر اور عراقی وزیراعظم کے ساتھ 16 جولائی کو ہونے والی ریاض ملاقات، بن سلمان کو سیاسی تنہائی پر قابو پانے اور سعودی عرب کے تخت تک پہنچنے میں مدد دے سکتی۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ بن سلمان کے بارے میں امریکی حکومت کے نقطہ نظر میں تبدیلی کے باوجود بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے کی امریکہ میں شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں، 16 جون کے دن خبری ذرائع نے اعلان کیا کہ واشنگٹن کی بلدیہ نے امریکہ میں سعودی سفارت خانہ کے سامنے والے روڈ کا نام جمال خاشقجی اسٹریٹ رکھ دیا ہے۔ امریکہ کے اندر جوبائیڈن کے دورہ سعودی عرب پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور کئی حکومتی اور سیاسی شخصیات اس دورہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کر رہے ہیں۔