مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 7 ویں مردم شماری کی منظوری

  Click to listen highlighted text! اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 7 ویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 49 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلٰی، ممبران وفاقی وزراء کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، تمام صوبائی چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، چیف کمشنر اسلام اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے مطالبات کے مطابق کونسل کے اجلاسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی، جب کہ کونسل نے “مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی” کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ مردم شماری سے قبل خانہ شماری کرائی جائے گی، کمیٹی مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جی آئی ایس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت مردم شماری کا ایک قابل اعتبار ڈیٹا رکھنا چاہتی ہے، یہ ڈیٹا شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیوں اور منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 7 ویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 49 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلٰی، ممبران وفاقی وزراء کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، تمام صوبائی چیف سیکرٹریز، چیئرمین نادرا، چیف کمشنر اسلام اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے مطالبات کے مطابق کونسل کے اجلاسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں 3 نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری کے انعقاد کی منظوری دے دی، جب کہ کونسل نے “مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی” کے قیام کی بھی منظوری دے دی۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ مردم شماری سے قبل خانہ شماری کرائی جائے گی، کمیٹی مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی، مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں مردم شماری ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جی آئی ایس مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت مردم شماری کا ایک قابل اعتبار ڈیٹا رکھنا چاہتی ہے، یہ ڈیٹا شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیوں اور منصوبوں کو شروع کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔