نئے عالمی نظام کا ظہور، علامات اور خصوصیات

  Click to listen highlighted text! تحریر: سالار نامدار وندائی عالمی نظام، بین الاقوامی سیاست میں بنیادی کردار ادا کرنے والی سیاسی قوتوں کے درمیان لکھے ہوئے اور ان لکھے اصول و ضوابط اور تعلقات کا مجموعہ ہے۔ ماضی میں مختلف تاریخی دور گزرے ہیں جن میں مختلف عالمی نظام ابھر کر سامنے آئے اور پھر زوال پذیر ہو گئے۔ تاریخ میں نئے عالمی نظام کے ظہور اور زوال میں مختلف اسباب کارفرما رہے ہیں جن میں سے ایک اہم سبب “جنگ” ہے۔ جدید تاریخ میں جو عالمی نظام ابھر کر سامنے آیا وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ملٹی پولر سسٹم تھا۔ اس عالمی نظام میں دو عالمی طاقتیں امریکہ اور سابق سوویت یونین تھیں جو دراصل دوسری عالمی جنگ کی فاتح قوتیں تھیں۔ یہ عالمی نظام تشکیل پانے کے فوراً بعد ہی ان دونوں عالمی طاقتوں میں سرد جنگ نے جنم لیا جو 1991ء میں سابق سوویت یونین کے زوال تک جاری رہی۔ سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ اس خوش فہمی کا شکار ہو گیا کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے لہذا اس نے دنیا پر یونی پولر عالمی نظام مسلط کرنے کیلئے ایڑی چوڑی کا زور لگانا شروع کر دیا۔ اس دوران امریکہ نے دنیا کے ہر حصے میں سیاسی اور فوجی مداخلت کو اپنا وطیرہ بنا لیا اور دنیا بھر میں لبرل ڈیموکریسی پر مبنی اپنی اقدار پھیلانے کا دعوی کرنے لگا۔ امریکہ یہ اقدامات گلوبلائزیشن کے نعرے سے مختلف ایشیائی ممالک میں رنگی انقلاب برپا کر کے انجام دینے کی کوشش میں مصروف رہا۔ امریکہ کی جانب سے یہ انقلاب عام طور پر امریکہ مخالف ممالک میں برپا کئے جاتے تھے۔ لیکن آج دو عشرے گزر جانے کے بعد بھی امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا پر یونی پولر عالمی نظام مسلط کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ نئے عالمی نظام کے ظہور کی علامات 1)۔ مغربی لبرل ماڈلز کا زوال گذشتہ ایک عرصے سے “امریکی دور کے خاتمے” کے عنوان سے دنیا بھر کے فکری حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ وہ لبرل مغربی ماڈلز زوال پذیر ہوتے جا رہے ہیں جنہیں مغربی طاقتوں نے سرد جنگ کے بعد دنیا پر یونی پولر نظام مسلط کرنے کیلئے تیار کیا تھا۔ اس بارے میں ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے جس نے مغربی اقدار کے زوال میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ بھی ماضی کی طرح فوجی، اقتصادی اور ثقافتی طاقت کا مرکز و محور باقی نہیں رہا اور دنیا، خاص طور پر ایشیا میں نئی نئی سیاسی، اقتصادی اور فوجی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ ان کی ایک مثال چین اور دوسری ایشینز جیسے اقتصادی اتحاد ہیں۔ 2)۔ عالمی سطح پر طاقت کے مرکز کی مغرب سے مشرق منتقلی گذشتہ کئی سالوں سے جوزف نائے سمیت معروف مغربی محققین اس حقیقت کا اعتراف کرتے آ رہے ہیں کہ دھیرے دھیرے عالمی سطح پر طاقت کا محور و مرکز مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مغرب، خاص طور پر امریکہ، اب ماضی کی طرح فوجی، اقتصادی اور ثقافتی طاقت کا محور و مرکز باقی نہیں رہا جبکہ مشرق میں چین جیسی نئی نئی اقتصادی، سیاسی اور فوجی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ اسی طرح مشرقی دنیا میں نئے نئے اقتصادی اور فوجی اتحاد بھی تشکیل پا رہے ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر طاقت کا مرکز ثقل تبدیل کر دیا ہے۔ یمن، عراق، شام، لبنان اور افغانستان میں امریکہ کی واضح فوجی اور سیاسی ناکامیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ نئے عالمی نظام کی خصوصیات 1)۔ انارکی کی صورتحال باقی رہنا اور اپنی مدد آپ کا فروغ پانا عالمی نظام میں تبدیلی سے مراد موجودہ سیٹ اپ میں تبدیلی ہے جبکہ عالمی نظام کی بنیادی خصوصیات جیسے “حکومت محوری” جوں کی توں باقی رہتی ہیں۔ لہذا یوں کہا جا سکتا ہے کہ انارکی یعنی “مرکزی حکومت کا فقدان” عالمی نظام کی بڑی خصوصیت کے طور پر باقی رہے گی اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنی قومی سلامتی کا تحفظ ہر ملک کی پہلی ترجیح قرار پائے گا۔ 2)۔ صلاحیتوں کی شرح میں تبدیلی طاقت کے مرکز ثقل میں منتقلی کا لازمی نتیجہ صلاحیتوں کی شرح میں تبدیلی اور نتیجتاً ممالک کی حیثیت اور مقام میں تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی طاقتیں اپنی حیثیت اور مقام کھو کر زوال پذیر ہو رہی ہیں۔ 3)۔ نئی طاقتوں کا نیا کردار سامنے آنا نئے تشکیل پانے والے عالمی نظام کی اہم ترین خصوصیت، ابھر کر سامنے آنے والے نئے سیاسی کھلاڑیوں اور طاقتوں کی جانب سے اپنے کردار کو پہچاننا ہے۔ نئے عالمی نظام کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سطح پر جو نئی طاقتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں وہ اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ نئے عالمی نظام کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران ایک نئی علاقائی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ایران، مغربی ایشیائی خطے میں انتہائی مضبوط اور طاقتور سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی انفرااسٹرکچر کا مالک ہے۔ لہذا کسی بھی نئے تشکیل پانے والے عالمی نظام میں ایک اہم عنصر نئی طاقتوں کی جانب سے اپنا اپنا کردار پہچان کر اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ہر ملک جس قدر اپنی قومی طاقت میں اضافہ کرتا ہے اسی قدر نئے عالمی نظام میں بہتر کردار ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

تحریر: سالار نامدار وندائی

عالمی نظام، بین الاقوامی سیاست میں بنیادی کردار ادا کرنے والی سیاسی قوتوں کے درمیان لکھے ہوئے اور ان لکھے اصول و ضوابط اور تعلقات کا مجموعہ ہے۔ ماضی میں مختلف تاریخی دور گزرے ہیں جن میں مختلف عالمی نظام ابھر کر سامنے آئے اور پھر زوال پذیر ہو گئے۔ تاریخ میں نئے عالمی نظام کے ظہور اور زوال میں مختلف اسباب کارفرما رہے ہیں جن میں سے ایک اہم سبب “جنگ” ہے۔ جدید تاریخ میں جو عالمی نظام ابھر کر سامنے آیا وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ملٹی پولر سسٹم تھا۔ اس عالمی نظام میں دو عالمی طاقتیں امریکہ اور سابق سوویت یونین تھیں جو دراصل دوسری عالمی جنگ کی فاتح قوتیں تھیں۔ یہ عالمی نظام تشکیل پانے کے فوراً بعد ہی ان دونوں عالمی طاقتوں میں سرد جنگ نے جنم لیا جو 1991ء میں سابق سوویت یونین کے زوال تک جاری رہی۔

سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ اس خوش فہمی کا شکار ہو گیا کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے لہذا اس نے دنیا پر یونی پولر عالمی نظام مسلط کرنے کیلئے ایڑی چوڑی کا زور لگانا شروع کر دیا۔ اس دوران امریکہ نے دنیا کے ہر حصے میں سیاسی اور فوجی مداخلت کو اپنا وطیرہ بنا لیا اور دنیا بھر میں لبرل ڈیموکریسی پر مبنی اپنی اقدار پھیلانے کا دعوی کرنے لگا۔ امریکہ یہ اقدامات گلوبلائزیشن کے نعرے سے مختلف ایشیائی ممالک میں رنگی انقلاب برپا کر کے انجام دینے کی کوشش میں مصروف رہا۔ امریکہ کی جانب سے یہ انقلاب عام طور پر امریکہ مخالف ممالک میں برپا کئے جاتے تھے۔ لیکن آج دو عشرے گزر جانے کے بعد بھی امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا پر یونی پولر عالمی نظام مسلط کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

نئے عالمی نظام کے ظہور کی علامات
1)۔ مغربی لبرل ماڈلز کا زوال
گذشتہ ایک عرصے سے “امریکی دور کے خاتمے” کے عنوان سے دنیا بھر کے فکری حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ وہ لبرل مغربی ماڈلز زوال پذیر ہوتے جا رہے ہیں جنہیں مغربی طاقتوں نے سرد جنگ کے بعد دنیا پر یونی پولر نظام مسلط کرنے کیلئے تیار کیا تھا۔ اس بارے میں ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کا ذکر خاص طور پر کیا جاتا ہے جس نے مغربی اقدار کے زوال میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ بھی ماضی کی طرح فوجی، اقتصادی اور ثقافتی طاقت کا مرکز و محور باقی نہیں رہا اور دنیا، خاص طور پر ایشیا میں نئی نئی سیاسی، اقتصادی اور فوجی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ ان کی ایک مثال چین اور دوسری ایشینز جیسے اقتصادی اتحاد ہیں۔

2)۔ عالمی سطح پر طاقت کے مرکز کی مغرب سے مشرق منتقلی
گذشتہ کئی سالوں سے جوزف نائے سمیت معروف مغربی محققین اس حقیقت کا اعتراف کرتے آ رہے ہیں کہ دھیرے دھیرے عالمی سطح پر طاقت کا محور و مرکز مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہوتا جا رہا ہے۔ اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مغرب، خاص طور پر امریکہ، اب ماضی کی طرح فوجی، اقتصادی اور ثقافتی طاقت کا محور و مرکز باقی نہیں رہا جبکہ مشرق میں چین جیسی نئی نئی اقتصادی، سیاسی اور فوجی طاقتیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ اسی طرح مشرقی دنیا میں نئے نئے اقتصادی اور فوجی اتحاد بھی تشکیل پا رہے ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر طاقت کا مرکز ثقل تبدیل کر دیا ہے۔ یمن، عراق، شام، لبنان اور افغانستان میں امریکہ کی واضح فوجی اور سیاسی ناکامیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

نئے عالمی نظام کی خصوصیات
1)۔ انارکی کی صورتحال باقی رہنا اور اپنی مدد آپ کا فروغ پانا
عالمی نظام میں تبدیلی سے مراد موجودہ سیٹ اپ میں تبدیلی ہے جبکہ عالمی نظام کی بنیادی خصوصیات جیسے “حکومت محوری” جوں کی توں باقی رہتی ہیں۔ لہذا یوں کہا جا سکتا ہے کہ انارکی یعنی “مرکزی حکومت کا فقدان” عالمی نظام کی بڑی خصوصیت کے طور پر باقی رہے گی اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنی قومی سلامتی کا تحفظ ہر ملک کی پہلی ترجیح قرار پائے گا۔
2)۔ صلاحیتوں کی شرح میں تبدیلی
طاقت کے مرکز ثقل میں منتقلی کا لازمی نتیجہ صلاحیتوں کی شرح میں تبدیلی اور نتیجتاً ممالک کی حیثیت اور مقام میں تبدیلی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی طاقتیں اپنی حیثیت اور مقام کھو کر زوال پذیر ہو رہی ہیں۔

3)۔ نئی طاقتوں کا نیا کردار سامنے آنا
نئے تشکیل پانے والے عالمی نظام کی اہم ترین خصوصیت، ابھر کر سامنے آنے والے نئے سیاسی کھلاڑیوں اور طاقتوں کی جانب سے اپنے کردار کو پہچاننا ہے۔ نئے عالمی نظام کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سطح پر جو نئی طاقتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں وہ اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ نئے عالمی نظام کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران ایک نئی علاقائی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ایران، مغربی ایشیائی خطے میں انتہائی مضبوط اور طاقتور سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی انفرااسٹرکچر کا مالک ہے۔ لہذا کسی بھی نئے تشکیل پانے والے عالمی نظام میں ایک اہم عنصر نئی طاقتوں کی جانب سے اپنا اپنا کردار پہچان کر اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ہر ملک جس قدر اپنی قومی طاقت میں اضافہ کرتا ہے اسی قدر نئے عالمی نظام میں بہتر کردار ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔