چیونٹی کی نصیحت

  Click to listen highlighted text! علی حیدر، گلگت بلتستان بچو! کسی جنگل میں درخت کے نیچے ایک چوہا اپنے ماں باپ کی ساتھ رہتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت آرام اور سستی میں گزارنے کا عادی تھا۔ بس ہر وقت یونہی پڑا رہتا اور کوئی کام نہ کرتا تھا۔چوہے کی ماں اکثر سمجھاتی۔”بیٹا ….اچھے بچے کام کرتے ہیں ۔ محنت کرتے ہیں ۔ یوں سستی اور کاہلی کے ساتھ پڑے نہیں رہتے۔ تم ننھی سی چیونٹی کو نہیں دیکھتے جو سخت محنت کرتی ہے اور اپنے سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھاتی ہے۔“”اماں ….یہ چیونٹی کون ہے اور کہاں رہتی ہے مجھے اس کو دیکھنے کا بہت شوق ہے۔“ماں نے کہا۔ ”گھر سے باہر نکلو گے تو پتہ چلے گا۔ جاﺅ….اگر چیونٹی کو دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو جاکر اس کو تلاش کرو اور دیکھو کہ وہ کس قدر محنت کرتی ہے اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتی ہے۔“چوہے کے دل میں چیونٹی کو دیکھنے کا شوق بڑھ گیا اور وہ ایک روز اپنی ماں سے اجازت لے کر چل کھڑا ہوا۔چلتے چلتے اسے ایک جانور دکھائی دیا جو اپنی پشت پر بہت وزن اٹھائے جارہا تھا۔چوہے نے اسے چیونٹی سمجھ کر سلام کیا۔ اس جانور نے بتایا کہ….”میاں ….میں چیونٹی نہیں بلکہ کچھوا ہوں۔“چوہا آگے بڑھا۔ کچھ دور جاکر وہ ایک جانور کو دیکھ کر کہنے لگا۔”بی چیونٹی سلام۔“اس جانور نے جواب دیا۔”ابے….کیا میں تمہیں چیونٹی نظر آتا ہوں۔ میں خرگوش ہوں۔“چوہا وہاں سے بھاگا۔آگے پہنچا تو ہاتھی کو چیونٹی سمجھ کر سلام کیا۔ ہاتھی سونڈ اٹھا کر دھاڑا۔ چوہا ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔جب بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں اس نے قریب سے ایک آواز سنی۔”بھائی ذرا احتیاط سے، یہ ہمارا راستہ ہے۔“چوہے نے نیچے دیکھا تو وہاں زمین پر ایک ننھا سا کیڑا تھا جس کے ساتھ ہی ایسے بہت سے کیڑوں کی ایک قطار چل رہی تھی۔ وہ اپنے منہ میں بڑے بڑے دانے پکڑے جارہے تھے۔ان میں سے ایک کیڑا بولا۔”میاں چوہے….ذرا ایک طرف ہو کر بیٹھ جاﺅ۔ ہم یہ کھانا اپنے گھر لے جارہے ہیں۔“چوہے نے حیران ہو کر کہا۔”اتنا بڑا دانہ تم کیسے اٹھا کر لے جارہے ہو بھئی۔“کیڑے نے جواب دیا۔” ہم چھوٹے ضرور ہے مگر اپنا ہر کام ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں اورمل جل کر کرتے ہیں ۔ ہم سردیاں آنے سے پہلے ہی اپنے لئے خوراک کا بندوبست کرلیتے ہیں۔ ہم میں بڑا اتفاق اور اتحاد ہے۔ اس چیز میں بڑی دولت ہے۔“چوہے نے ایک ننھے سے کیڑے سے یہ باتیں سنیں تو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا۔”مگر تم کون لوگ ہو۔“ایک ننھے سے کیڑے نے آگے بڑھ کر جواب دیا۔”ہمیں چیونٹی کہتے ہیں۔“چوہا بہت خوش ہوا اور بولا۔”بی چیونٹی…. واقعی تمہارے بارے میں جو کچھ سنا تھا تم ویسی ہی نکلیں ۔ تم لوگ اپنا کام بڑی محنت ، لگن اور منظم ہو کر کرتی ہو۔“چوہا اپنے گھر واپس پہنچا اور اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ میں آئندہ چیونٹی کی نصیحت پر عمل کروں گا۔ ReplyReply allForward

علی حیدر، گلگت بلتستان

بچو! کسی جنگل میں درخت کے نیچے ایک چوہا اپنے ماں باپ کی ساتھ رہتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت آرام اور سستی میں گزارنے کا عادی تھا۔ بس ہر وقت یونہی پڑا رہتا اور کوئی کام نہ کرتا تھا۔
چوہے کی ماں اکثر سمجھاتی۔
”بیٹا ….اچھے بچے کام کرتے ہیں ۔ محنت کرتے ہیں ۔ یوں سستی اور کاہلی کے ساتھ پڑے نہیں رہتے۔ تم ننھی سی چیونٹی کو نہیں دیکھتے جو سخت محنت کرتی ہے اور اپنے سے کئی گنا زیادہ بوجھ اٹھاتی ہے۔“
”اماں ….یہ چیونٹی کون ہے اور کہاں رہتی ہے مجھے اس کو دیکھنے کا بہت شوق ہے۔“
ماں نے کہا۔ ”گھر سے باہر نکلو گے تو پتہ چلے گا۔ جاﺅ….اگر چیونٹی کو دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو جاکر اس کو تلاش کرو اور دیکھو کہ وہ کس قدر محنت کرتی ہے اور اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتی ہے۔“
چوہے کے دل میں چیونٹی کو دیکھنے کا شوق بڑھ گیا اور وہ ایک روز اپنی ماں سے اجازت لے کر چل کھڑا ہوا۔
چلتے چلتے اسے ایک جانور دکھائی دیا جو اپنی پشت پر بہت وزن اٹھائے جارہا تھا۔
چوہے نے اسے چیونٹی سمجھ کر سلام کیا۔ اس جانور نے بتایا کہ….
”میاں ….میں چیونٹی نہیں بلکہ کچھوا ہوں۔“
چوہا آگے بڑھا۔ کچھ دور جاکر وہ ایک جانور کو دیکھ کر کہنے لگا۔”بی چیونٹی سلام۔“
اس جانور نے جواب دیا۔”ابے….کیا میں تمہیں چیونٹی نظر آتا ہوں۔ میں خرگوش ہوں۔“
چوہا وہاں سے بھاگا۔
آگے پہنچا تو ہاتھی کو چیونٹی سمجھ کر سلام کیا۔ ہاتھی سونڈ اٹھا کر دھاڑا۔ چوہا ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔
جب بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں اس نے قریب سے ایک آواز سنی۔
”بھائی ذرا احتیاط سے، یہ ہمارا راستہ ہے۔“
چوہے نے نیچے دیکھا تو وہاں زمین پر ایک ننھا سا کیڑا تھا جس کے ساتھ ہی ایسے بہت سے کیڑوں کی ایک قطار چل رہی تھی۔ وہ اپنے منہ میں بڑے بڑے دانے پکڑے جارہے تھے۔
ان میں سے ایک کیڑا بولا۔
”میاں چوہے….ذرا ایک طرف ہو کر بیٹھ جاﺅ۔ ہم یہ کھانا اپنے گھر لے جارہے ہیں۔“
چوہے نے حیران ہو کر کہا۔
”اتنا بڑا دانہ تم کیسے اٹھا کر لے جارہے ہو بھئی۔“
کیڑے نے جواب دیا۔
” ہم چھوٹے ضرور ہے مگر اپنا ہر کام ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں اورمل جل کر کرتے ہیں ۔ ہم سردیاں آنے سے پہلے ہی اپنے لئے خوراک کا بندوبست کرلیتے ہیں۔ ہم میں بڑا اتفاق اور اتحاد ہے۔ اس چیز میں بڑی دولت ہے۔“
چوہے نے ایک ننھے سے کیڑے سے یہ باتیں سنیں تو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا۔
”مگر تم کون لوگ ہو۔“
ایک ننھے سے کیڑے نے آگے بڑھ کر جواب دیا۔”ہمیں چیونٹی کہتے ہیں۔“
چوہا بہت خوش ہوا اور بولا۔”بی چیونٹی…. واقعی تمہارے بارے میں جو کچھ سنا تھا تم ویسی ہی نکلیں ۔ تم لوگ اپنا کام بڑی محنت ، لگن اور منظم ہو کر کرتی ہو۔“
چوہا اپنے گھر واپس پہنچا اور اپنی ماں سے وعدہ کیا کہ میں آئندہ چیونٹی کی نصیحت پر عمل کروں گا۔

ReplyReply allForward