پی ٹی آئی دور حکومت کی ایک اور کامیابی، پاکستان انسانی اسمگلنگ کی واچ لسٹ سے باہر

  Click to listen highlighted text! واشنگٹن : امریکا نے انسداد انسانی اسمگلنگ سے متعلق پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے درجہ 2 واچ لسٹ سے نکال دیا۔ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں دیرپا کارکردگی دکھانے والے ممالک اور افراد کو سراہا گیا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسداد انسانی اسمگلنگ کے اقدامات پر کورونا وائرس کی وبا کے ممکنہ اثرات کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر بہترین رہیں جس پر پاکستان کو درجہ کی واچ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔پاکستان نے پریوینشن ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ پر عمل درآمد کیا اور اس ضمن میں مقدمات، تفتیش اور سماعت سمیت سزاؤں میں اضافہ کیا۔ متاثرین کو تحفظ فراہم کیا اور اسٹیک ہولڈرز کو تربیت دی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے اور موجودہ کاوشیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان یہ اہداف بھی حاصل کرلے گا اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے کم سے کم معیار تک پہنچ جائے گا۔ رپورٹ میں سندھ میں مقامی طاقتور افراد کے بھٹوں اور کھیتوں میں جبری مشقت کروانے میں ملوث ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر جبری مشقت سمیت تمام قسم کی اسمگلنگ کے مقدمات اور سزاؤں میں اضافہ کرے۔ رپورٹ میں ایسے غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حمایت کو سختی سے روکنے کی تجویز دی گئی جو نابالغ لڑکوں کی ذہن سازی کرکے انھیں اپنے غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

واشنگٹن : امریکا نے انسداد انسانی اسمگلنگ سے متعلق پاکستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے درجہ 2 واچ لسٹ سے نکال دیا۔ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں دیرپا کارکردگی دکھانے والے ممالک اور افراد کو سراہا گیا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انسداد انسانی اسمگلنگ کے اقدامات پر کورونا وائرس کی وبا کے ممکنہ اثرات کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کارکردگی مجموعی طور پر بہترین رہیں جس پر پاکستان کو درجہ کی واچ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔پاکستان نے پریوینشن ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ پر عمل درآمد کیا اور اس ضمن میں مقدمات، تفتیش اور سماعت سمیت سزاؤں میں اضافہ کیا۔ متاثرین کو تحفظ فراہم کیا اور اسٹیک ہولڈرز کو تربیت دی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے اور موجودہ کاوشیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان یہ اہداف بھی حاصل کرلے گا اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے کم سے کم معیار تک پہنچ جائے گا۔ رپورٹ میں سندھ میں مقامی طاقتور افراد کے بھٹوں اور کھیتوں میں جبری مشقت کروانے میں ملوث ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان وفاقی اور صوبائی سطح پر جبری مشقت سمیت تمام قسم کی اسمگلنگ کے مقدمات اور سزاؤں میں اضافہ کرے۔ رپورٹ میں ایسے غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حمایت کو سختی سے روکنے کی تجویز دی گئی جو نابالغ لڑکوں کی ذہن سازی کرکے انھیں اپنے غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔