تکفیری دہشت گردوں کی سرپرستی اور مذاکرات پر عوام تشویش میں مبتلا ہیں، علامہ مرید نقوی

  Click to listen highlighted text! لاہور : وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدرعلامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ عوام میں تکفیری دہشت گردوں کی حکومتی سرپرستی اور دہشت گرد گروہ سے مذاکرات کے بیانات پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے بعض نادیدہ قوتیں تحریک انصاف کی حکومت کو ناکام کرنے کے منصوبے پرعمل کررہی ہیں۔ اپنے ہی شہریوں کے سفّاک قاتلوں سے نرمی اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کی سرپرستی کا ریاستِ مدینہ تو در کنار، ایک عام سیاسی حکومت کی پالیسیوں سے بھی دور کا واسطہ نہیں۔ اسلام آباد میں تکفیریوں کے مسلسل اجتماعات اور اُن میں بر سر اقتدار جماعت کے اراکین کی شرکت پر امن پسند حلقوں کوسخت تشویش ہے۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ہزاروں بے گناہوں کے قاتلوں کو معافی دینے کا عندیہ شرعی، قانونی،سیاسی پہلوﺅں سمیت کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ یہ سنگین اقدام نہ صرف نیشنل ایکشن پلان کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی،شہداکے وارثوں کے زخموں پر نمک پاشی اور امن و امان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ علامہ مریدنقوی نے نشاندہی کی کہ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا تاحال لاپتہ ہوناایک سوالیہ نشان ہے جسے حکمرانوں کی حالیہ پیشکش نے مزید تشویشناک بنادیاہے۔

لاہور : وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدرعلامہ سید مرید حسین نقوی نے کہا ہے کہ عوام میں تکفیری دہشت گردوں کی حکومتی سرپرستی اور دہشت گرد گروہ سے مذاکرات کے بیانات پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے بعض نادیدہ قوتیں تحریک انصاف کی حکومت کو ناکام کرنے کے منصوبے پرعمل کررہی ہیں۔ اپنے ہی شہریوں کے سفّاک قاتلوں سے نرمی اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کی سرپرستی کا ریاستِ مدینہ تو در کنار، ایک عام سیاسی حکومت کی پالیسیوں سے بھی دور کا واسطہ نہیں۔ اسلام آباد میں تکفیریوں کے مسلسل اجتماعات اور اُن میں بر سر اقتدار جماعت کے اراکین کی شرکت پر امن پسند حلقوں کوسخت تشویش ہے۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے ہزاروں بے گناہوں کے قاتلوں کو معافی دینے کا عندیہ شرعی، قانونی،سیاسی پہلوﺅں سمیت کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ یہ سنگین اقدام نہ صرف نیشنل ایکشن پلان کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی،شہداکے وارثوں کے زخموں پر نمک پاشی اور امن و امان کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ علامہ مریدنقوی نے نشاندہی کی کہ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا تاحال لاپتہ ہوناایک سوالیہ نشان ہے جسے حکمرانوں کی حالیہ پیشکش نے مزید تشویشناک بنادیاہے۔