پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین کے درمیان سیاسی اشتراک کا معاہدہ

  Click to listen highlighted text! اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین کے درمیان باضابطہ سیاسی اشتراک کا معاہدہ طے پا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین کے وفد نے ملاقات کی۔اور دونوں رہنماؤں نےمعاہدے پر دستخط کیے ۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین نے کسی صورت غلامی قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی سرزمین پر کسی بیرونی ملک کے اڈے قائم نہ کرنے پر پی ٹی آئی اور مجلس وحدت مسلمین میں مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔سیاسی اشتراک کے معاہدے کے تحت متفقہ طور پر طے پایا ہے کہ آزاد خارجہ پالیسی اور داخلی خودمختاری کے بیانیے سے کسی طور روگردانی نہیں کی جائے گی۔مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش پر اتفاق کیا گیا ہے، ان تنازعات میں فریق بننے سے مکمل گریز کیا جائے گا پاکستان کی داخلی وحدت، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔اسرائیل پر قائد اعظم کے رہنما اصولوں سے کسی طور روگردانی نہیں کی جائے گی۔ کشمیر و فلسطین پر قومی اخلاقی نکتہ نظر سے کسی قسم کا انحراف نہیں کیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق ملکی معاملات میں غیرملکی مداخلت روکنا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول رہے گا۔

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین کے درمیان باضابطہ سیاسی اشتراک کا معاہدہ طے پا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے علامہ راجہ ناصر عباس کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین کے وفد نے ملاقات کی۔اور دونوں رہنماؤں نےمعاہدے پر دستخط کیے ۔
ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین نے کسی صورت غلامی قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی سرزمین پر کسی بیرونی ملک کے اڈے قائم نہ کرنے پر پی ٹی آئی اور مجلس وحدت مسلمین میں مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔سیاسی اشتراک کے معاہدے کے تحت متفقہ طور پر طے پایا ہے کہ آزاد خارجہ پالیسی اور داخلی خودمختاری کے بیانیے سے کسی طور روگردانی نہیں کی جائے گی۔مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش پر اتفاق کیا گیا ہے، ان تنازعات میں فریق بننے سے مکمل گریز کیا جائے گا پاکستان کی داخلی وحدت، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔اسرائیل پر قائد اعظم کے رہنما اصولوں سے کسی طور روگردانی نہیں کی جائے گی۔ کشمیر و فلسطین پر قومی اخلاقی نکتہ نظر سے کسی قسم کا انحراف نہیں کیا جائے گا۔معاہدے کے مطابق ملکی معاملات میں غیرملکی مداخلت روکنا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول رہے گا۔