فلسطین سے موصولہ خط کا جواب

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

رہبر انقلاب اسلامی کے نام اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کے خط میں ایران کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر آپ کی حمایت نہ ہوتی تو صیہونی دشمن کے مقابلے میں حالیہ اور اس سے پہلے ملنے والی فتح ہمارے لیے ممکن نہ ہوتی۔ زیاد نخالہ نے اپنے خط میں فلسطینی مجاہدوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ اسلامی جہاد تحریک اور سرایا القدس کے عسکری ونگ پورے فلسطین میں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں فعال ہیں۔ انہوں نے غزہ کی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے قابض حکومت کے خلاف اس علاقے کے طاقتور موقف کی طرف اشارہ کیا اور حالیہ تین روزہ جھڑپوں کے بارے میں مزید کہا کہ ہم نے ان جھڑپوں کو “وحدة الساحات” (میدانوں کی وحدت) کا نام دیا، تاکہ اتحاد پر زور دیا جا سکے۔ ہماری قوم دشمن کے خلاف ہے اور ہمارا دشمن اپنی پوری طاقت اور سازشوں سے اس اتحاد کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل نے صیہونی حکومت کے ساتھ اس تحریک کی حالیہ کشمکش اور فلسطینی جہادی گروہوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی صیہونی حکومت کی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا اس تین روزہ معرکہ آرائی میں غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں، اسلامی جہاد تحریک کے مراکز اور ہیڈ کوارٹرز پر صیہونیوں کے شدید فضائی حملوں کے باوجود اس تحریک نے ثابت کر دیا کہ وہ صیہونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تل ابیب سمیت مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں اتنے راکٹ داغے گئے کہ اس سلسلے میں یہ صیہونی حکومت ہے، جو جنگ بندی کا مطالبہ کرنے اور مزاحمت کی شرائط پر جنگ بندی پر رضامندی پر مجبور ہوئی۔

جہاد اسلامی فلسطین کے سربراہ زیاد النخالہ کے نام اپنے جوابی خط میں رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ آپ نے اپنی شجاعانہ استقامت کے ذریعے غاصب صیہونی حکومت کی فریب کارانہ پالیسی کو ناکام بنایاد ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ استقامتی محاذ جب چاہے اسرائیل کی ناک زمین پر رگڑوا سکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ فلسطینیوں نے حالیہ جنگ کے دوران صیہونی سازش کو ناکام اور اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے زیاد النخالہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے غزہ، غرب اردن کی جدوجہد کو ایک دوسرے سے جوڑ کر صیہونی دشمن کے مقابلوں میں قومی جہاد کا جو نمونہ پیش کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فلسطینی تنظیموں اور گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اتحاد و یکجہتی کو اسی طرح محفوظ رکھیں، کیونکہ صیہونی دشمن کمزور اور فلسطین کی استقامتی تحریک طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم اس جدوجہد میں ہمیشہ کی طرح آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ فلسطینی جہادی گروہوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی صیہونی حکومت کی کوششوں پر غور کرتے ہوئے تمام فلسطینی گروہوں کو متحد کرنے کی ضرورت کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کا مشورہ وقت کا تقاضا اور بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ اس جارحیت کے آغاز میں صیہونیوں نے اعلان کیا تھا کہ اس جنگ کا ہدف صرف اسلامی جہاد تحریک ہے، تاہم اسلامی جہاد تحریک نے اپنی طاقتور اور جرأت مندانہ جدوجہد سے خطے کی تمام مزاحمتی قوتوں کو حیران و پریشان کر دیا۔ تل ابیب کے دعوے کے برعکس، تمام فلسطینی گروہوں نے اسلامی جہاد تحریک کی حمایت پر زور دیا۔

فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل کے خط میں ایک اور اہم نکتہ ان کا فلسطینی جہادی گروہوں کی ایران کی ہمہ جہت حمایت پر زور دینا ہے۔ انہوں نے مزاحمت کی اس کامیابی کو مستقبل میں فلسطینی قوم کی عظیم فتوحات کا پیش خیمہ قرار دیا اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کی قیادت اور رہنمائی کے لیے تمام جہتوں میں ایران کی حمایت اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کی حمایت کے ساتھ ساتھ فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ہمیشہ فلسطینی حکومت کے خلاف جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے اور فلسطینی عوام اور فلسطینی جہادی گروہوں کی جدوجہد کی حمایت کی ہے اور یہ حمایت ایران کی خارجہ پالیسی میں پہلی ترجیح ہے۔

  Click to listen highlighted text! تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی رہبر انقلاب اسلامی کے نام اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کے خط میں ایران کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر آپ کی حمایت نہ ہوتی تو صیہونی دشمن کے مقابلے میں حالیہ اور اس سے پہلے ملنے والی فتح ہمارے لیے ممکن نہ ہوتی۔ زیاد نخالہ نے اپنے خط میں فلسطینی مجاہدوں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ اسلامی جہاد تحریک اور سرایا القدس کے عسکری ونگ پورے فلسطین میں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں فعال ہیں۔ انہوں نے غزہ کی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے قابض حکومت کے خلاف اس علاقے کے طاقتور موقف کی طرف اشارہ کیا اور حالیہ تین روزہ جھڑپوں کے بارے میں مزید کہا کہ ہم نے ان جھڑپوں کو “وحدة الساحات” (میدانوں کی وحدت) کا نام دیا، تاکہ اتحاد پر زور دیا جا سکے۔ ہماری قوم دشمن کے خلاف ہے اور ہمارا دشمن اپنی پوری طاقت اور سازشوں سے اس اتحاد کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل نے صیہونی حکومت کے ساتھ اس تحریک کی حالیہ کشمکش اور فلسطینی جہادی گروہوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی صیہونی حکومت کی کوششوں کا ذکر کیا اور کہا اس تین روزہ معرکہ آرائی میں غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں، اسلامی جہاد تحریک کے مراکز اور ہیڈ کوارٹرز پر صیہونیوں کے شدید فضائی حملوں کے باوجود اس تحریک نے ثابت کر دیا کہ وہ صیہونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تل ابیب سمیت مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں اتنے راکٹ داغے گئے کہ اس سلسلے میں یہ صیہونی حکومت ہے، جو جنگ بندی کا مطالبہ کرنے اور مزاحمت کی شرائط پر جنگ بندی پر رضامندی پر مجبور ہوئی۔ جہاد اسلامی فلسطین کے سربراہ زیاد النخالہ کے نام اپنے جوابی خط میں رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ آپ نے اپنی شجاعانہ استقامت کے ذریعے غاصب صیہونی حکومت کی فریب کارانہ پالیسی کو ناکام بنایاد ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ استقامتی محاذ جب چاہے اسرائیل کی ناک زمین پر رگڑوا سکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ فلسطینیوں نے حالیہ جنگ کے دوران صیہونی سازش کو ناکام اور اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے زیاد النخالہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ نے غزہ، غرب اردن کی جدوجہد کو ایک دوسرے سے جوڑ کر صیہونی دشمن کے مقابلوں میں قومی جہاد کا جو نمونہ پیش کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے فلسطینی تنظیموں اور گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اتحاد و یکجہتی کو اسی طرح محفوظ رکھیں، کیونکہ صیہونی دشمن کمزور اور فلسطین کی استقامتی تحریک طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم اس جدوجہد میں ہمیشہ کی طرح آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ فلسطینی جہادی گروہوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی صیہونی حکومت کی کوششوں پر غور کرتے ہوئے تمام فلسطینی گروہوں کو متحد کرنے کی ضرورت کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کا مشورہ وقت کا تقاضا اور بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ اس جارحیت کے آغاز میں صیہونیوں نے اعلان کیا تھا کہ اس جنگ کا ہدف صرف اسلامی جہاد تحریک ہے، تاہم اسلامی جہاد تحریک نے اپنی طاقتور اور جرأت مندانہ جدوجہد سے خطے کی تمام مزاحمتی قوتوں کو حیران و پریشان کر دیا۔ تل ابیب کے دعوے کے برعکس، تمام فلسطینی گروہوں نے اسلامی جہاد تحریک کی حمایت پر زور دیا۔ فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل کے خط میں ایک اور اہم نکتہ ان کا فلسطینی جہادی گروہوں کی ایران کی ہمہ جہت حمایت پر زور دینا ہے۔ انہوں نے مزاحمت کی اس کامیابی کو مستقبل میں فلسطینی قوم کی عظیم فتوحات کا پیش خیمہ قرار دیا اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کی قیادت اور رہنمائی کے لیے تمام جہتوں میں ایران کی حمایت اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کی حمایت کے ساتھ ساتھ فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ہمیشہ فلسطینی حکومت کے خلاف جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے اور فلسطینی عوام اور فلسطینی جہادی گروہوں کی جدوجہد کی حمایت کی ہے اور یہ حمایت ایران کی خارجہ پالیسی میں پہلی ترجیح ہے۔