کائنات پر ایک نگاہ

  Click to listen highlighted text! گاؤں میں صبح کی لطیف اور فرحت بخش ہوا چل رہی ہے۔ اس زندہ دل بوڑھے کو دیکھئے کہ صبح سویرے کی روشنی میں اوپر نیچے ہورہا ہے، کس ذوق و شوق اور چابکدستی سے گندم کی کٹائی کررہا ہے۔ یا اللہ! اس کے بیٹے بھی اس کی مدد کو پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ باپ کی مدد کررہے ہیں اور ایک جلانے کے لئے خشک لکڑیاں اکٹھی کررہا ہے۔ شاید یہ کہ باپ اور بھائی بہنوں کے لئے چائے بنانا چاہتا ہے تاکہ سب مل کر ناشتہ کریں۔ کیا آپ ان کے مہمان بننا پسند کریں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ لوگ مہربان اور مہمان نواز ہیں اورآپ کی اچھی طرح خاطر مدارات کریں گے۔ اس بچے کے نزدیک بیٹھیئے۔ تھوڑی دیر صبر کیجئے اور دیکھئے کہ کس طرح سورج ان پہاڑوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے اور کس خوبصورتی سے کھیتوں اور کھلیانوں پر نور بکھیرتا ہے۔ سچ مچ سورج طلوع ہو کر پہاڑوں اور میدانوں کو کیسی خوبصورتی اور پاکیزگی بخشتا ہے۔ غور کیجئے کہ اگر سورج طلوع نہ ہوتا اور ہمیشہ رات اور تاریکی ہوتی تو ہم کیا کرتے؟ کبھی سوچا ہے کہ سورج یہ ساری روشنی اور توانائی کس طرح فراہم کرتا ہے؟ کیا آپ کو سورج کا حجم معلوم ہے؟ سورج کا حجم زمین سے دس لاکھ گنا زیادہ ہے۔ یعنی سورج اگر ایک خالی کرہئ ہو تو ہماری زمین کے برابر دس لاکھ زمینیں اس کے اندر سما جائیں۔ اس بڑے آتشی کرہئ کا درجہ حرارت 6000 ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج اتنی شدید گرمی اور اتنے زیادہ درجہ حرارت کے باوجود کیوں زمین اور اس پر موجود چیزوں کو جلانہیں ڈالتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورج، زمین سے ایک مناسب اور مقرر فاصلہ (ڈیڑھ کروڑ کلو میٹر) پر ہے۔ اور اس کی روشنی اور توانائی صرف ضرورت کے مطابق کرہ زمین پر پہنچتی ہے۔ کبھی آپ نے سوچا کہ سورج اور زمین کا درمیانی فاصلہ اگر اس مقدار میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ اگر سورج اور زمین کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے کم ہوتا مثلاً اگر نصف ہوتا تو کیا ہوتا؟ ہاں! زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا اور سورج کی گرمی تمام نباتات حیوانات اور انسانوں کو جلا ڈالتی۔ اور اگر سورج اور زمین کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے زیادہ ہوتا مثلاً موجودہ فاصلے سے دو گنا ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس صورت میں روشنی اور حرارت ضرورت کے مطابق زمین پر نہ پہنچتی اور تمام چیزیں سرد اور مردہ ہو جاتیں۔ تمام پانی برف ہو جاتا، کہیں زندگی کا نام و نشان نہ ملتا۔ واضح رہے کہ زمین اور سورج کا یہ فاصلہ وسیع علم و آگہی اور گہرے حساب و کتاب کے ساتھ معین کیا گیا ہے۔ گندم کی خوشنما بالیاں سورج کی روشنی اور حرارت سے ہی اتنی بڑی ہوئی ہیں۔ سورج ہی کی حرارت کے سبب یہ تمام نباتات اور درخت نشوونما پاکر ہمارے لئے پھل اور دوسری طرح طرح کی اجناس پیدا کرتے ہیں۔ مختلف غذائیں جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں سورج کی توانائی ہی سے بالیدگی حاصل کرتی ہیں، درحقیقت یہ سورج ہی کی توانائی (انرجی) ہے کہ جو نباتات اور دیگر تمام غذاؤں میں ذخیرہ ہوتی ہے اور ہم اس سے طاقت و قوت حاصل کرتے ہیں۔ حیوانات نباتات کی ذخیرہ شدہ توانائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم حیوانات کے ذریعہ بھی اس توانائی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ مثلاً حیوان گھاس چرتے ہیں اور ہمیں دودھ دیتے ہیں اور ہم گوشت اور دودھ سے بنی ہوئی دوسری غذاؤں سے استفادہ کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ سورج توانائی کا منبع ہے۔ یہ سورج ہی کی توانائی ہے جو اس لکڑی میں موجود ہے اور اب یہ ان محنت کش باپ بیٹوں کے مہمانوں کے لئے چائے کا پانی ابال رہی ہے۔ آپ کائنات کی مختلف اشیاء کے درمیان پائے جانے والے حیرت انگیز رابطے اور ہم آہنگی سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ اور کیا یہ کائنات ایک عظیم منظم اور بے ربط اشیاء کا مجموعہ ہے یا ایک مکمل طور پر ہم آہنگ اور مربوط اشیاء کا مجموعہ ہے؟ یقیناًآپ جواب دیں گے کہ: ہم کائنات کو ایک بہت بڑے اور مکمل طور پر ہم آہنگ اشیاء کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں اور ہم خود بھی اس کا ایک حصہ ہیں۔ اس عظیم، ہم آہنگ اور بڑے مجموعہ کو دیکھ کر آپ کی دل میں کیا خیال آتا ہے؟ یہ نظم اور حساب جو اس عظیم جہان کے تمام اجزاء میں پایا جاتا ہے کس چیز کی نشاندہی کرتا ہے؟ کیا اس سوال کا یہ غیر عاقلانہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا خالق کوئی نادان اور جاہل و ناتواں موجود ہے؟ ہمارا بیدار ضمیر اور عقل سلیم یہ جواب کبھی پسند نہیں کرے گابلکہ کہے گا کہ یہ عظیم نظم و ضبط اور اشیاء عالم کے درمیان ہم آہنگی اس کے بنانے والے کی عظمت اور قدرت اور علم کی علامت ہے کہ جن کی وجہ سے اس نے موجودات عالم کو اس طرح بنایا ہے اور خالق ہر ایک مخلوق کی ضروریات سے اپنے علم اور بصیرت کی بناء پر پہلے سے آگاہ تھا اس لئے اس نے کائنات کی ہر چیز کی ضروریات کو پورا کیا ہے اور ہر ایک کے لئے ایک مقصد اور اس تک پہنچنے کا راستہ معین کیا ہے۔ وہ خالق عالم اور قادر کون ہے؟ وہ عالم توانا اور قادر خدا ہے کہ جس نے یہ تمام نعمتیں ہمارے لئے پیدا کی ہیں اور ہمارے اختیار میں دے دی ہیں۔ سورج اور چاند اور زمین کو ہمارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ کوشش اور محنت سے زمین کو آباد کریں اور علم و دانش حاصل کرکے اس دنیا کے عجائبات سے پردہ اٹھادیں اور اپنے پروردگار اور خالق کی عظمت کی نشانیوں کو دیکھیں اور ان نشانیوں سے اس کی بے انتہا قدرت اور کمال کا نظارہ کریں اور اس سے راز و نیاز اور مناجات کریں۔ کیونکہ ”انسان خدا سے راز و نیاز اور مناجات کے وقت ہی اپنے اعلیٰ اور صحیح مقام پر ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے پروردگار سے دعا اور مناجات نہ کرے تو ایسی زندگی کس کام کی ہوگی؟ اور ایسا انسان کتنا بے قیمت ہوگا۔“ دن اور رات کی پیدائش کو دیکھئے اور صبح و شام، دن و رات کے پیدا کرنے والے سے مناجات کیجئے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کی حرکت سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔ زمین ایک دن اور رات میں اپنے محور کے گردگردش کرتی ہے۔ زمین کا وہ آدھا حصہ جو سورج کے سامنے ہوتا ہے وہ دن کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ تاریک اور رات ہوتا ہے۔ زمین کی اسی محوری گردش سے گویا دن، رات میں اور رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور دن و رات مستقل یکے بعد دیگرے ایک ترتیب سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ دن میں سورج کی گرمی اور حرارت سے نباتات اور درخت نشوونما پاتے ہیں اور دن ہی میں انسان کام کاج اور محنت و مشقت کرتے ہیں اور پرسکون رات میں آرام کرکے اور مناجات بجالاکر اگلے دن کے لئے نئی قوت حاصل کرتے ہیں اور دوسرے دن کے لئے کام کاج اور عبادت الہٰی کے لئے خود کو تیار کرتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زمین اس طرح منظم اور ایک خاص حساب سے حرکت میں نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ زمین کے بعض حصے ہمیشہ تاریکی میں ڈوبے رہتے۔ ہمیشہ رات کا سماں ہوتا اور اس قدر سردی ہوتی کہ برف جمی رہتی۔ اور بعض حصوں میں ہمیشہ دن اور روشنی اور جھلسا دینے والی گرمی ہوتی۔ دن اور رات کی پیدائش بھی خالق کائنات کی قدرت، عظمت، علم،دانائی اور توانائی کی واضح نشانی ہے۔ کیا آپ اس محنت کش بوڑھے سے چند سوال کرنا چاہیں گے؟ صبرکیجئے، جب وہ ناشتہ کرنے کے لئے آپ کے پاس بیٹھے تو اس سے سوال کیجئے گا اور پوچھئے گا کہ گندم کے خوشنما خوشوں کے مشاہدے اور ان لہلہلاتے کھیتوں اور حسین و جمیل فلک بوس پہاڑوں کو دیکھ کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ اور اس سے پوچھیئے گا کہ دن اور رات کی گردش اور آفتاب کے طلوع و غروب سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ اور سوال کیجئے گا کہ سورج اور چاند کے کام اور ان میں پائے جانے والے نظم و ضبط کے مشاہدے سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج کا نور اور چاند کی روشنی کو کس نے پیدا کیا ہے۔ پھر اس کی باتوں کو غور سے سینئے گا اور دیکھئے گا کہ وہ آپ کو کتنا عمدہ اور سادہ جواب دیتا ہے اور ملاحظہ فرمائیے گا کہ وہ اس جہان کو دیکھ کر اس کے خالق کے عالم و قادر ہونے اور اس کے عظمت و قدرت والا ہونے کا کس طرح نتیجہ نکالتا ہے اور کس ایمان و خلوص اور دل کی گہرائیوں سے اپنے خالق کے حضور مناجات کرتا ہے۔

گاؤں میں صبح کی لطیف اور فرحت بخش ہوا چل رہی ہے۔ اس زندہ دل بوڑھے کو دیکھئے کہ صبح سویرے کی روشنی میں اوپر نیچے ہورہا ہے، کس ذوق و شوق اور چابکدستی سے گندم کی کٹائی کررہا ہے۔
یا اللہ! اس کے بیٹے بھی اس کی مدد کو پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ باپ کی مدد کررہے ہیں اور ایک جلانے کے لئے خشک لکڑیاں اکٹھی کررہا ہے۔ شاید یہ کہ باپ اور بھائی بہنوں کے لئے چائے بنانا چاہتا ہے تاکہ سب مل کر ناشتہ کریں۔
کیا آپ ان کے مہمان بننا پسند کریں گے؟ ظاہر ہے کہ یہ لوگ مہربان اور مہمان نواز ہیں اورآپ کی اچھی طرح خاطر مدارات کریں گے۔
اس بچے کے نزدیک بیٹھیئے۔ تھوڑی دیر صبر کیجئے اور دیکھئے کہ کس طرح سورج ان پہاڑوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے اور کس خوبصورتی سے کھیتوں اور کھلیانوں پر نور بکھیرتا ہے۔ سچ مچ سورج طلوع ہو کر پہاڑوں اور میدانوں کو کیسی خوبصورتی اور پاکیزگی بخشتا ہے۔
غور کیجئے کہ اگر سورج طلوع نہ ہوتا اور ہمیشہ رات اور تاریکی ہوتی تو ہم کیا کرتے؟ کبھی سوچا ہے کہ سورج یہ ساری روشنی اور توانائی کس طرح فراہم کرتا ہے؟
کیا آپ کو سورج کا حجم معلوم ہے؟
سورج کا حجم زمین سے دس لاکھ گنا زیادہ ہے۔ یعنی سورج اگر ایک خالی کرہئ ہو تو ہماری زمین کے برابر دس لاکھ زمینیں اس کے اندر سما جائیں۔ اس بڑے آتشی کرہئ کا درجہ حرارت 6000 ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج اتنی شدید گرمی اور اتنے زیادہ درجہ حرارت کے باوجود کیوں زمین اور اس پر موجود چیزوں کو جلانہیں ڈالتا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سورج، زمین سے ایک مناسب اور مقرر فاصلہ (ڈیڑھ کروڑ کلو میٹر) پر ہے۔ اور اس کی روشنی اور توانائی صرف ضرورت کے مطابق کرہ زمین پر پہنچتی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ سورج اور زمین کا درمیانی فاصلہ اگر اس مقدار میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
اگر سورج اور زمین کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے کم ہوتا مثلاً اگر نصف ہوتا تو کیا ہوتا؟
ہاں! زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا اور سورج کی گرمی تمام نباتات حیوانات اور انسانوں کو جلا ڈالتی۔
اور اگر سورج اور زمین کا فاصلہ موجودہ فاصلہ سے زیادہ ہوتا مثلاً موجودہ فاصلے سے دو گنا ہوتا تو کیا ہوتا؟
اس صورت میں روشنی اور حرارت ضرورت کے مطابق زمین پر نہ پہنچتی اور تمام چیزیں سرد اور مردہ ہو جاتیں۔ تمام پانی برف ہو جاتا، کہیں زندگی کا نام و نشان نہ ملتا۔
واضح رہے کہ زمین اور سورج کا یہ فاصلہ وسیع علم و آگہی اور گہرے حساب و کتاب کے ساتھ معین کیا گیا ہے۔
گندم کی خوشنما بالیاں سورج کی روشنی اور حرارت سے ہی اتنی بڑی ہوئی ہیں۔ سورج ہی کی حرارت کے سبب یہ تمام نباتات اور درخت نشوونما پاکر ہمارے لئے پھل اور دوسری طرح طرح کی اجناس پیدا کرتے ہیں۔ مختلف غذائیں جنہیں ہم استعمال کرتے ہیں سورج کی توانائی ہی سے بالیدگی حاصل کرتی ہیں، درحقیقت یہ سورج ہی کی توانائی (انرجی) ہے کہ جو نباتات اور دیگر تمام غذاؤں میں ذخیرہ ہوتی ہے اور ہم اس سے طاقت و قوت حاصل کرتے ہیں۔
حیوانات نباتات کی ذخیرہ شدہ توانائی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم حیوانات کے ذریعہ بھی اس توانائی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔
مثلاً حیوان گھاس چرتے ہیں اور ہمیں دودھ دیتے ہیں اور ہم گوشت اور دودھ سے بنی ہوئی دوسری غذاؤں سے استفادہ کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ سورج توانائی کا منبع ہے۔
یہ سورج ہی کی توانائی ہے جو اس لکڑی میں موجود ہے اور اب یہ ان محنت کش باپ بیٹوں کے مہمانوں کے لئے چائے کا پانی ابال رہی ہے۔
آپ کائنات کی مختلف اشیاء کے درمیان پائے جانے والے حیرت انگیز رابطے اور ہم آہنگی سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟ اور کیا یہ کائنات ایک عظیم منظم اور بے ربط اشیاء کا مجموعہ ہے یا ایک مکمل طور پر ہم آہنگ اور مربوط اشیاء کا مجموعہ ہے؟
یقیناًآپ جواب دیں گے کہ:
ہم کائنات کو ایک بہت بڑے اور مکمل طور پر ہم آہنگ اشیاء کے مجموعہ کے طور پر دیکھتے ہیں اور ہم خود بھی اس کا ایک حصہ ہیں۔
اس عظیم، ہم آہنگ اور بڑے مجموعہ کو دیکھ کر آپ کی دل میں کیا خیال آتا ہے؟
یہ نظم اور حساب جو اس عظیم جہان کے تمام اجزاء میں پایا جاتا ہے کس چیز کی نشاندہی کرتا ہے؟
کیا اس سوال کا یہ غیر عاقلانہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اس عظیم کائنات کا خالق کوئی نادان اور جاہل و ناتواں موجود ہے؟
ہمارا بیدار ضمیر اور عقل سلیم یہ جواب کبھی پسند نہیں کرے گابلکہ کہے گا کہ یہ عظیم نظم و ضبط اور اشیاء عالم کے درمیان ہم آہنگی اس کے بنانے والے کی عظمت اور قدرت اور علم کی علامت ہے کہ جن کی وجہ سے اس نے موجودات عالم کو اس طرح بنایا ہے اور خالق ہر ایک مخلوق کی ضروریات سے اپنے علم اور بصیرت کی بناء پر پہلے سے آگاہ تھا اس لئے اس نے کائنات کی ہر چیز کی ضروریات کو پورا کیا ہے اور ہر ایک کے لئے ایک مقصد اور اس تک پہنچنے کا راستہ معین کیا ہے۔
وہ خالق عالم اور قادر کون ہے؟
وہ عالم توانا اور قادر خدا ہے کہ جس نے یہ تمام نعمتیں ہمارے لئے پیدا کی ہیں اور ہمارے اختیار میں دے دی ہیں۔ سورج اور چاند اور زمین کو ہمارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ کوشش اور محنت سے زمین کو آباد کریں اور علم و دانش حاصل کرکے اس دنیا کے عجائبات سے پردہ اٹھادیں اور اپنے پروردگار اور خالق کی عظمت کی نشانیوں کو دیکھیں اور ان نشانیوں سے اس کی بے انتہا قدرت اور کمال کا نظارہ کریں اور اس سے راز و نیاز اور مناجات کریں۔
کیونکہ ”انسان خدا سے راز و نیاز اور مناجات کے وقت ہی اپنے اعلیٰ اور صحیح مقام پر ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے پروردگار سے دعا اور مناجات نہ کرے تو ایسی زندگی کس کام کی ہوگی؟ اور ایسا انسان کتنا بے قیمت ہوگا۔“
دن اور رات کی پیدائش کو دیکھئے اور صبح و شام، دن و رات کے پیدا کرنے والے سے مناجات کیجئے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین کی حرکت سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔ زمین ایک دن اور رات میں اپنے محور کے گردگردش کرتی ہے۔ زمین کا وہ آدھا حصہ جو سورج کے سامنے ہوتا ہے وہ دن کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ تاریک اور رات ہوتا ہے۔
زمین کی اسی محوری گردش سے گویا دن، رات میں اور رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور دن
و رات مستقل یکے بعد دیگرے ایک ترتیب سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ دن میں سورج کی گرمی اور حرارت سے نباتات اور درخت نشوونما پاتے ہیں اور دن ہی میں انسان کام کاج اور محنت و مشقت کرتے ہیں اور پرسکون رات میں آرام کرکے اور مناجات بجالاکر اگلے دن کے لئے نئی قوت حاصل کرتے ہیں اور دوسرے دن کے لئے کام کاج اور عبادت الہٰی کے لئے خود کو تیار کرتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر زمین اس طرح منظم اور ایک خاص حساب سے حرکت میں نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟
زمین کے بعض حصے ہمیشہ تاریکی میں ڈوبے رہتے۔ ہمیشہ رات کا سماں ہوتا اور اس قدر سردی ہوتی کہ برف جمی رہتی۔ اور بعض حصوں میں ہمیشہ دن اور روشنی اور جھلسا دینے والی گرمی ہوتی۔
دن اور رات کی پیدائش بھی خالق کائنات کی قدرت، عظمت، علم،دانائی اور توانائی کی واضح نشانی ہے۔
کیا آپ اس محنت کش بوڑھے سے چند سوال کرنا چاہیں گے؟
صبرکیجئے، جب وہ ناشتہ کرنے کے لئے آپ کے پاس بیٹھے تو اس سے سوال کیجئے گا اور پوچھئے گا کہ گندم کے خوشنما خوشوں کے مشاہدے اور ان لہلہلاتے کھیتوں اور حسین و جمیل فلک بوس پہاڑوں کو دیکھ کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
اور اس سے پوچھیئے گا کہ دن اور رات کی گردش اور آفتاب کے طلوع و غروب سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
اور سوال کیجئے گا کہ سورج اور چاند کے کام اور ان میں پائے جانے والے نظم و ضبط کے مشاہدے سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ سورج کا نور اور چاند کی روشنی کو کس نے پیدا کیا ہے۔
پھر اس کی باتوں کو غور سے سینئے گا اور دیکھئے گا کہ وہ آپ کو کتنا عمدہ اور سادہ جواب دیتا ہے اور ملاحظہ فرمائیے گا کہ وہ اس جہان کو دیکھ کر اس کے خالق کے عالم و قادر ہونے اور اس کے عظمت و قدرت والا ہونے کا کس طرح نتیجہ نکالتا ہے اور کس ایمان و خلوص اور دل کی گہرائیوں سے اپنے خالق کے حضور مناجات کرتا ہے۔