کربلا کی چند نمونہ عمل خواتینسید بشارت تھگسوی

ہانیہ وہاب کی بیویہانی الکوفیہ سے جناب وہب کلبی نے 23 ذی الحجہ60 ھ کو عقد کیا ،تمام خاندان محرم کو کربلامیں امامؑ کے قافلے سے جاملے۔قبیلہ بنی بکر کی ایک عورتعصر عاشور کے بعد قبیلہ بنی بکر کی ایک خاتون جس کا شوہر عمر سعد کی فوج میں تھا اس سانحے سے متاثر ہو کر ہاتھ میں تلوار لیکر لوگوں کے ہجوم میں آگئی اور اپنی قوم سے کہنے لگی اے آل ابی بکر،اہلبیت رسولؐ کو غارت کیا جائے اور تم لوگ خاموش رہے۔ دین رسول اللہ(ص) کے قیام کے لئے قیام کریں۔اس کے شوہر نے اسے منع کیا اور واپس لے گئے۔ان عظیم المرتبت خواتین جنہوں نے شہدائے کربلا کی صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ اسیری کازخم بھی برداشت کیا اور کربلا سے کوفہ ،کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ کی ساری سختیوں اور تکلیفوں کو برداشت فرمایا۔ ان کے کرداروں کومجموعی طور پر خلاصہ کریں تو ہم اس طرح بیان کرسکتے ہیں۔امام ؑ کی حمایتجو خواتین کاروان حسینیؑ میں شامل تھیں امام حسینؑ کی مکمل حمایت کرتی تھیں خواہ وہ قیام کربلاسے قبل ہو یادوران قیام یا بعد از کربلا ہر وقت اپنے مولا کی فداکار اور حامی تھیں۔ساتھ ہی اپنے مردوں کو امام ؑ کی مدد کی تلقین کرتی رہیں۔جوانوں کو جنگ کی تشویق اور ترغیب دلاناجب دشمنان امام ؑ اور فوج امام ؑ کے درمیان ایک غیر عادلانہ جنگ شروع ہوئی تو یہ دلیر اور باکردار خواتین جنگ کے ظاہری نتائج سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنے مردوں کو اس عظیم کار خیر کی تشویق اور ترغیب دلاتی رہی۔کربلا کے واقعے میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ خواتین اپنے شوہروں ، بھائیوں اور بیٹوں حتیٰ کہ معصوم بچوں کو بھی حوصلہ دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ کسی بھی صورت میں کوئی سستی کا مظاہرہ نہ ہو۔جیسا کہ عبداللہ ابن وہاب کلبی کی ماں کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ اپنے جوان بیٹے سے کہنے لگی بیٹا اگر مجھے خوش کرنا ہے تو آج نواسہ رسول ؑ کی مدد کرکے خوش کریں ،جب عبداللہ میدان جنگ میں جا کر کچھ منافقین کو واصل جہنم کر کے واپس آئے اور کہنے لگے کہ اے مادر گرامی کیا اب آپ مجھ سے راضی ہیں؟ تو اس وقت اس کی ماں کہنے لگی میں تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہونگی جب تک اپنی جان رسول خدا ؐ کے فرزند پر قربان کرتے ہوئے جام شہادت نوش نہ کرے۔ اسی طرح عمرو ابن جنادہ کی ماں ’’بحریہ‘‘نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد بیٹے کو ترغیب دلا کر میدان کی طرف روانہ کیا۔صبر واستقامتخواتین کربلا کا ایثاراور صبر استقامت تعجب انگیز ہیں۔یہ خواتین اپنی زندگی کے سب سے عزیز سرمایوں کو راہ خدا میں دیتے ہوئے بھی خوشی کا اظہار کرتی تھیں۔اپنے شوہر ،بھائیوں اور جوان بیٹوں کی شہادتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی ان کی ہمتوں اور جذبوں میں لغزش نہیں آئی۔ یہاں تک کہ بعض خواتین اپنے عزیزوں کے لاشوں کو جب خیمہ گاہ لائے جاتے تو خیمے سے باہر تک نہیں نکلتی اور اپنے احساسات کو چھپا کر رکھتی اور بلند آواز سے گریہ وزاری سے اجتناب کرتی تھیں۔جیسا کہ علی اصغرؑ کے لاشہ مبارک کو خامس آل عبا دفن کرنے لگے تو اس کی ماں بیٹے کی تدفین کیلئے خیمے سے باہر نہیں آئی،اسی طرح علی اکبر ؑ کا لاشہ لایا گیا تو ان کی والدہ نے خیمے سے باہرنکلنے سے اجتناب کیا۔جنگ میں شرکتتاریخ اسلام میں بہت سی جنگوں میں خواتین نے شرکت کی ہے لیکن کربلا میں موجود خواتین کا کردار مختلف ہیں۔اپنے پیاروں کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد بھی بہت سی خواتین امامؑ کی مدد کیلئے خیموں سے نکل کر دشمن پر حملہ آور ہوئیں۔عمرو ابن جنادہ کی ماں بحریہ اپنے شوہر اور بیٹے کی شہادت کے بعد خیمے کے ستون کو ہاتھ میں لے کر میدان میں آگئی اور عمر سعد کے دو فوجیوں کو جہنم رسید کیا اور امام حسین ؑ کے حکم پر واپس خیمے میں پلٹی۔ عبداللہ ابن عمیر کی بیوی اپنے بیٹے کے لاشے پر جب گریہ کرنے آئی تو شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ ان کو مار دیا جائے تو اس ملعون نے اس خاتون کے سر پر وار کر کے اپنے بیٹے کے پہلو میں ہی شہید کر دیا۔مردوں کے حوصلہ افزائیخواتین کے مردوں کے مقابلے میں حوصلے کمزور ہوتے ہیں مشکلات اور پریشانی کے موقع پر انکے حوصلے جلد ان کا ساتھ دیناچھوڑ دیتے ہیں لیکن کربلا میں ہزاروں مشکلات اور پریشانی کے باوجود تاریخ میں کہیں یہ نہیں ملتاکہ کسی خاتون نے اپنے شوہر ،بیٹے یا والد سے شکوہ کیا ہو کہ ہمیں یہاں کیوں لے آئے، بلکہ تین دن کی پیاس اور بھوک کے باوجود ان کے حوصلے مزید بلند ہوتے گئے اور اپنے مردوں کو شوق شہادت دلاتی رہی۔بچوں کو تسلیاں دیناعاشورہ کے دن خواتین کے اوپر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد تھیں انہوں نے نہ صرف اپنے پیاروں کی شہادتوں کو برداشت کیا بلکہ اس عظیم ظلم و ستم سے سہمے ہوئے بچوں کو سنبھالنا اور انہیں تسلیاں دینا بھی انہی کی ذمہ داری تھی۔ جب خیمہ گاہ حسینی ؑ سے آگ کے شعلے بلند ہوئے تو ہراسان ہو کر میدان کربلا کی طرف نکل گئیں اور شام غریباں انہی خواتین نے یتیمان آل رسولؐ کو تلاش کر کے دوبارہ خیموں میں جمع کیا۔قیمتی اشیا کی حفاظتعاشورا اور اس کے بعد خواتین کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک دین کے قیمتی چیزوں کی حفاظت ، خاندان نبوت پر لگائے گئے الزمات کا جواب دینا تھا۔ یہ خواتین پابند رسن اسیر تھیں ،ان کے خیمے جلائے گئے تھے ،ان کے پیاروں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا ،ان کے زیورات اور لباسوں کو غارت کیا گیا تھا اس کے باجود عظمت اہل بیتؑ پر کوئی آنچ آنے نہیں دی۔ خصوصاً خامس آل عبا علیہ السلام کی دی ہوئی امانتوں کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو جاتی تھیں مگر ان پر کسی بھی قسم کی ظلم و زیادتی برداشت نہیں کی۔

  Click to listen highlighted text! ہانیہ وہاب کی بیویہانی الکوفیہ سے جناب وہب کلبی نے 23 ذی الحجہ60 ھ کو عقد کیا ،تمام خاندان محرم کو کربلامیں امامؑ کے قافلے سے جاملے۔قبیلہ بنی بکر کی ایک عورتعصر عاشور کے بعد قبیلہ بنی بکر کی ایک خاتون جس کا شوہر عمر سعد کی فوج میں تھا اس سانحے سے متاثر ہو کر ہاتھ میں تلوار لیکر لوگوں کے ہجوم میں آگئی اور اپنی قوم سے کہنے لگی اے آل ابی بکر،اہلبیت رسولؐ کو غارت کیا جائے اور تم لوگ خاموش رہے۔ دین رسول اللہ(ص) کے قیام کے لئے قیام کریں۔اس کے شوہر نے اسے منع کیا اور واپس لے گئے۔ان عظیم المرتبت خواتین جنہوں نے شہدائے کربلا کی صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ اسیری کازخم بھی برداشت کیا اور کربلا سے کوفہ ،کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ کی ساری سختیوں اور تکلیفوں کو برداشت فرمایا۔ ان کے کرداروں کومجموعی طور پر خلاصہ کریں تو ہم اس طرح بیان کرسکتے ہیں۔امام ؑ کی حمایتجو خواتین کاروان حسینیؑ میں شامل تھیں امام حسینؑ کی مکمل حمایت کرتی تھیں خواہ وہ قیام کربلاسے قبل ہو یادوران قیام یا بعد از کربلا ہر وقت اپنے مولا کی فداکار اور حامی تھیں۔ساتھ ہی اپنے مردوں کو امام ؑ کی مدد کی تلقین کرتی رہیں۔جوانوں کو جنگ کی تشویق اور ترغیب دلاناجب دشمنان امام ؑ اور فوج امام ؑ کے درمیان ایک غیر عادلانہ جنگ شروع ہوئی تو یہ دلیر اور باکردار خواتین جنگ کے ظاہری نتائج سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنے مردوں کو اس عظیم کار خیر کی تشویق اور ترغیب دلاتی رہی۔کربلا کے واقعے میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ خواتین اپنے شوہروں ، بھائیوں اور بیٹوں حتیٰ کہ معصوم بچوں کو بھی حوصلہ دیتی تھیں اور کوشش کرتی تھیں کہ کسی بھی صورت میں کوئی سستی کا مظاہرہ نہ ہو۔جیسا کہ عبداللہ ابن وہاب کلبی کی ماں کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ اپنے جوان بیٹے سے کہنے لگی بیٹا اگر مجھے خوش کرنا ہے تو آج نواسہ رسول ؑ کی مدد کرکے خوش کریں ،جب عبداللہ میدان جنگ میں جا کر کچھ منافقین کو واصل جہنم کر کے واپس آئے اور کہنے لگے کہ اے مادر گرامی کیا اب آپ مجھ سے راضی ہیں؟ تو اس وقت اس کی ماں کہنے لگی میں تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہونگی جب تک اپنی جان رسول خدا ؐ کے فرزند پر قربان کرتے ہوئے جام شہادت نوش نہ کرے۔ اسی طرح عمرو ابن جنادہ کی ماں ’’بحریہ‘‘نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد بیٹے کو ترغیب دلا کر میدان کی طرف روانہ کیا۔صبر واستقامتخواتین کربلا کا ایثاراور صبر استقامت تعجب انگیز ہیں۔یہ خواتین اپنی زندگی کے سب سے عزیز سرمایوں کو راہ خدا میں دیتے ہوئے بھی خوشی کا اظہار کرتی تھیں۔اپنے شوہر ،بھائیوں اور جوان بیٹوں کی شہادتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بھی ان کی ہمتوں اور جذبوں میں لغزش نہیں آئی۔ یہاں تک کہ بعض خواتین اپنے عزیزوں کے لاشوں کو جب خیمہ گاہ لائے جاتے تو خیمے سے باہر تک نہیں نکلتی اور اپنے احساسات کو چھپا کر رکھتی اور بلند آواز سے گریہ وزاری سے اجتناب کرتی تھیں۔جیسا کہ علی اصغرؑ کے لاشہ مبارک کو خامس آل عبا دفن کرنے لگے تو اس کی ماں بیٹے کی تدفین کیلئے خیمے سے باہر نہیں آئی،اسی طرح علی اکبر ؑ کا لاشہ لایا گیا تو ان کی والدہ نے خیمے سے باہرنکلنے سے اجتناب کیا۔جنگ میں شرکتتاریخ اسلام میں بہت سی جنگوں میں خواتین نے شرکت کی ہے لیکن کربلا میں موجود خواتین کا کردار مختلف ہیں۔اپنے پیاروں کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد بھی بہت سی خواتین امامؑ کی مدد کیلئے خیموں سے نکل کر دشمن پر حملہ آور ہوئیں۔عمرو ابن جنادہ کی ماں بحریہ اپنے شوہر اور بیٹے کی شہادت کے بعد خیمے کے ستون کو ہاتھ میں لے کر میدان میں آگئی اور عمر سعد کے دو فوجیوں کو جہنم رسید کیا اور امام حسین ؑ کے حکم پر واپس خیمے میں پلٹی۔ عبداللہ ابن عمیر کی بیوی اپنے بیٹے کے لاشے پر جب گریہ کرنے آئی تو شمر نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ ان کو مار دیا جائے تو اس ملعون نے اس خاتون کے سر پر وار کر کے اپنے بیٹے کے پہلو میں ہی شہید کر دیا۔مردوں کے حوصلہ افزائیخواتین کے مردوں کے مقابلے میں حوصلے کمزور ہوتے ہیں مشکلات اور پریشانی کے موقع پر انکے حوصلے جلد ان کا ساتھ دیناچھوڑ دیتے ہیں لیکن کربلا میں ہزاروں مشکلات اور پریشانی کے باوجود تاریخ میں کہیں یہ نہیں ملتاکہ کسی خاتون نے اپنے شوہر ،بیٹے یا والد سے شکوہ کیا ہو کہ ہمیں یہاں کیوں لے آئے، بلکہ تین دن کی پیاس اور بھوک کے باوجود ان کے حوصلے مزید بلند ہوتے گئے اور اپنے مردوں کو شوق شہادت دلاتی رہی۔بچوں کو تسلیاں دیناعاشورہ کے دن خواتین کے اوپر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد تھیں انہوں نے نہ صرف اپنے پیاروں کی شہادتوں کو برداشت کیا بلکہ اس عظیم ظلم و ستم سے سہمے ہوئے بچوں کو سنبھالنا اور انہیں تسلیاں دینا بھی انہی کی ذمہ داری تھی۔ جب خیمہ گاہ حسینی ؑ سے آگ کے شعلے بلند ہوئے تو ہراسان ہو کر میدان کربلا کی طرف نکل گئیں اور شام غریباں انہی خواتین نے یتیمان آل رسولؐ کو تلاش کر کے دوبارہ خیموں میں جمع کیا۔قیمتی اشیا کی حفاظتعاشورا اور اس کے بعد خواتین کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک دین کے قیمتی چیزوں کی حفاظت ، خاندان نبوت پر لگائے گئے الزمات کا جواب دینا تھا۔ یہ خواتین پابند رسن اسیر تھیں ،ان کے خیمے جلائے گئے تھے ،ان کے پیاروں کو بے دردی کے ساتھ شہید کردیا گیا تھا ،ان کے زیورات اور لباسوں کو غارت کیا گیا تھا اس کے باجود عظمت اہل بیتؑ پر کوئی آنچ آنے نہیں دی۔ خصوصاً خامس آل عبا علیہ السلام کی دی ہوئی امانتوں کی حفاظت میں اپنی جانیں دینے کے لئے تیار ہو جاتی تھیں مگر ان پر کسی بھی قسم کی ظلم و زیادتی برداشت نہیں کی۔