برطانیہ جانے والے تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے 31 افراد ہلاک

  Click to listen highlighted text! برلن: فرانس سے برطانیہ جانے کی کوشش کے دوران کشتی ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ متعدد تارکین وطن کو بچا لیا گیا ہے۔ رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق بحری راستے انگلش چینل کے ذریعے فرانس سے برطانیہ جانے والے غیرقانونی تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے کم ازکم 31 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ فرانسیسی بندرگاہ کیلے کے قریب رونما ہوا ہے۔ تارکین فرانس سے برطانیہ جارہے تھے کہ ڈنگی بوٹ الٹ کر ڈوب گئی اوردرجنوں تارکینِ وطن لقمہ اجل بن گئے۔ واقعے کے بعد فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ تلاش شروع کردی تاکہ مزید افراد کی جانیں بچائی جاسکیں۔ اس مشن میں تین ہیلی کاپٹر اور تین کشتیاں استعمال کی جارہی ہیں۔ بدھ کے روز فرانس کے شمالی ساحلوں پر پرسکون سمندر کی وجہ سے یہ کشتی روانہ ہوئی۔ تاہم سخت سرد سمندر میں ہیجان پیدا ہوا۔ ایک مقامی ماہی گیر نے الٹی ہوئی کشتی کے قریب بے حس و حرکت انسانوں کو دیکھ کر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی ۔ اقوامِ متحدہ کے تحت نقل مکانی کی تنظیم (آئی او ایم) نے 2014 کے بعد سے اسے انسانی جانوں کے زیاں کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا ہے ۔

برلن: فرانس سے برطانیہ جانے کی کوشش کے دوران کشتی ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی ہے جبکہ متعدد تارکین وطن کو بچا لیا گیا ہے۔ رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق بحری راستے انگلش چینل کے ذریعے فرانس سے برطانیہ جانے والے غیرقانونی تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے کم ازکم 31 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔
یہ واقعہ فرانسیسی بندرگاہ کیلے کے قریب رونما ہوا ہے۔ تارکین فرانس سے برطانیہ جارہے تھے کہ ڈنگی بوٹ الٹ کر ڈوب گئی اوردرجنوں تارکینِ وطن لقمہ اجل بن گئے۔ واقعے کے بعد فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ تلاش شروع کردی تاکہ مزید افراد کی جانیں بچائی جاسکیں۔ اس مشن میں تین ہیلی کاپٹر اور تین کشتیاں استعمال کی جارہی ہیں۔
بدھ کے روز فرانس کے شمالی ساحلوں پر پرسکون سمندر کی وجہ سے یہ کشتی روانہ ہوئی۔ تاہم سخت سرد سمندر میں ہیجان پیدا ہوا۔ ایک مقامی ماہی گیر نے الٹی ہوئی کشتی کے قریب بے حس و حرکت انسانوں کو دیکھ کر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی ۔ اقوامِ متحدہ کے تحت نقل مکانی کی تنظیم (آئی او ایم) نے 2014 کے بعد سے اسے انسانی جانوں کے زیاں کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا ہے ۔