محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے دفاع ناقابل تسخیر بنایا، انتقال قومی نقصان ہے, شیعہ علماءکونسل

  Click to listen highlighted text! لاہور : شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی قوت بناکر مملکت خدادادکے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ان کا انتقال قومی نقصان اور صدمہ ہے۔ تعزیتی بیان میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے عظیم سائنسدان اور قومی ہیرو نے مظلومانہ زندگی گزاری، انہیں نظر بند رکھا گیا۔ عوامی دباؤ نہ ہوتا تو شاید اس وقت کی حکومت انہیں امریکہ کے حوالے بھی کر چکی ہوتی۔ ضمیر فروشوں اور قوم فروشوں کو اعزاز سے نوازنا،اور ہیروز کی توہین کرنا ہماری تاریخ کا افسوسناک پہلو ہے افسوس جھوٹے الزامات عائد کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کردار کشی کی گئی۔ دوسری طرف ہمارے پڑوسی دشمن ملک بھارت کی تاریخ ہے کہ اس نے ڈاکٹر عبدالکلام کو صدر مملکت بنایا ، جبکہ ہم نے اپنا صدر کیا بنانا تھا، انہیں بے توقیر کیا۔ ان سے جھوٹااعتراف کروایا گیا ۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ موت برحق ہے ، ہر کسی کو آنی ہے ۔لیکن محسن پاکستان اور ایٹمی پروگرام کے بانی کو جس انداز سے مجبور کیا گیا اور ان کو عبرت کا نشان بنایا گیابحیثیت قوم ہمارے لیے باعث شرمندگی ہے۔انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ، قادیانیت کے فتنے کو ختم کرنے والے اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کوجھوٹے مقدمہ قتل میں عدالت کے ذریعے سزائے موت دلوائی گئی۔ اس کے دو بیٹوں شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو قتل کردیا گیا۔ بعدازاں اس کی بیٹی بینظیر بھٹو کو بھی دہشت گردی کے واقعہ میں قتل کر دیا گیا ۔شیعہ علماءکونسل کے رہنما نے کہا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ظلم کرنے والے سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور قوم ان کے مکروہ چہروں کو جانتی ہے۔ انہوں نے مرحوم کے بلندی درجات کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

لاہور : شیعہ علماءکونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی قوت بناکر مملکت خدادادکے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ان کا انتقال قومی نقصان اور صدمہ ہے۔ تعزیتی بیان میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے عظیم سائنسدان اور قومی ہیرو نے مظلومانہ زندگی گزاری، انہیں نظر بند رکھا گیا۔ عوامی دباؤ نہ ہوتا تو شاید اس وقت کی حکومت انہیں امریکہ کے حوالے بھی کر چکی ہوتی۔ ضمیر فروشوں اور قوم فروشوں کو اعزاز سے نوازنا،اور ہیروز کی توہین کرنا ہماری تاریخ کا افسوسناک پہلو ہے افسوس جھوٹے الزامات عائد کرکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کردار کشی کی گئی۔ دوسری طرف ہمارے پڑوسی دشمن ملک بھارت کی تاریخ ہے کہ اس نے ڈاکٹر عبدالکلام کو صدر مملکت بنایا ، جبکہ ہم نے اپنا صدر کیا بنانا تھا، انہیں بے توقیر کیا۔ ان سے جھوٹااعتراف کروایا گیا ۔علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ موت برحق ہے ، ہر کسی کو آنی ہے ۔لیکن محسن پاکستان اور ایٹمی پروگرام کے بانی کو جس انداز سے مجبور کیا گیا اور ان کو عبرت کا نشان بنایا گیابحیثیت قوم ہمارے لیے باعث شرمندگی ہے۔انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ، قادیانیت کے فتنے کو ختم کرنے والے اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کوجھوٹے مقدمہ قتل میں عدالت کے ذریعے سزائے موت دلوائی گئی۔ اس کے دو بیٹوں شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو قتل کردیا گیا۔ بعدازاں اس کی بیٹی بینظیر بھٹو کو بھی دہشت گردی کے واقعہ میں قتل کر دیا گیا ۔شیعہ علماءکونسل کے رہنما نے کہا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ظلم کرنے والے سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ اور قوم ان کے مکروہ چہروں کو جانتی ہے۔ انہوں نے مرحوم کے بلندی درجات کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔