فلسفہ حجاب

  Click to listen highlighted text! انسان، اللہ تعالیٰ کے احکام پر جب عمل کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عقیدہ کے لحاظ سے مضبوط ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور جتنا احکام پر عمل کرنے میں سستی یا لاپرواہی کرتا ہے یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس آدمی کا اللہ تعالیٰ پر اتنا عقیدہ اور ایمان کمزور ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے ایک حکم یہ ہے کہ عورت کو نامحرم سے پردہ کرنا چاہیے جو خاتون نامحرموں سے پردہ کرتی ہے اور اپنی پاکدامنی محفوظ رکھتی ہے یہ اس کے ایمان کی علامت ہے، لیکن جو عورت پردہ کا خیال نہیں رکھتی وہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ میرا اللہ پر ایمان ہے؟! جبکہ اللہ اور رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی نافرمانی کررہی ہے اور نافرمانی، گناہ ہے اور نافرمانی اور گناہ کرنے والا الٹے راستے پر چل رہا ہوتا ہے، الٹے راستے پر چلنا اللہ کے حکم کے سامنے تسلیم نہ ہونے اور صراط مستقیم سے نکلنے کی علامت ہے۔اس کے علاوہ جو عورت بے پردگی کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کئی نعمتوں کو تباہ و برباد کررہی ہوتی ہے، ان کئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت “حیا” کی نعمت ہے۔ حیا انسان کی اپنی حفاظت کا باعث بنتا ہے۔ جو عورت پردے کا خاص خیال رکھتی ہے اور نامحرموں سے پردہ کرتی ہے وہ اللہ کی اس نعمت یعنی حیا کی حفاظت کررہی ہے اور حیا ایسی نعمت ہے جو عورت کی حفاظت کا باعث ہے۔ لہذا جتنا حیا کم ہوجائے اتنا تحفظ کم ہوجاتا ہے اور عورت اس نامحرموں کی خیانت سے دیکھنے والی نظروں کا شکار بن جاتی ہے۔ بے پردگی کی وجہ سے گنہگار اپنے نامہ اعمال میں گناہ لکھوائے گی اور نامحرم بھی اس کی وجہ سے اپنے نامہ اعمال میں گناہ لکھوائیں گے۔

انسان، اللہ تعالیٰ کے احکام پر جب عمل کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عقیدہ کے لحاظ سے مضبوط ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور جتنا احکام پر عمل کرنے میں سستی یا لاپرواہی کرتا ہے یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس آدمی کا اللہ تعالیٰ پر اتنا عقیدہ اور ایمان کمزور ہے۔
 اللہ تعالیٰ کے احکام میں سے ایک حکم یہ ہے کہ عورت کو نامحرم سے پردہ کرنا چاہیے جو خاتون نامحرموں سے پردہ کرتی ہے اور اپنی پاکدامنی محفوظ رکھتی ہے یہ اس کے ایمان کی علامت ہے، لیکن جو عورت پردہ کا خیال نہیں رکھتی وہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ میرا اللہ پر ایمان ہے؟! جبکہ اللہ اور رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی نافرمانی کررہی ہے اور نافرمانی، گناہ ہے اور نافرمانی اور گناہ کرنے والا الٹے راستے پر چل رہا ہوتا ہے، الٹے راستے پر چلنا اللہ کے حکم کے سامنے تسلیم نہ ہونے اور صراط مستقیم سے نکلنے کی علامت ہے۔
اس کے علاوہ جو عورت بے پردگی کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کئی نعمتوں کو تباہ و برباد کررہی ہوتی ہے، ان کئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت “حیا” کی نعمت ہے۔ حیا انسان کی اپنی حفاظت کا باعث بنتا ہے۔ جو عورت پردے کا خاص خیال رکھتی ہے اور نامحرموں سے پردہ کرتی ہے وہ اللہ کی اس نعمت یعنی حیا کی حفاظت کررہی ہے اور حیا ایسی نعمت ہے جو عورت کی حفاظت کا باعث ہے۔ لہذا جتنا حیا کم ہوجائے اتنا تحفظ کم ہوجاتا ہے اور عورت اس نامحرموں کی خیانت سے دیکھنے والی نظروں کا شکار بن جاتی ہے۔ بے پردگی کی وجہ سے گنہگار اپنے نامہ اعمال میں گناہ لکھوائے گی اور نامحرم بھی اس کی وجہ سے اپنے نامہ اعمال میں گناہ لکھوائیں گے۔